لندن//نارتھ اٹلانٹک ٹریئٹی آرگنائزیش (نیٹو) نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدے میں طے پانے والی ڈیڈلائن مئی کے بعد بھی افغانستان میں غیر ملکی افواج موجود رہیں گی۔ نیٹو عہدیدار نے کہا کہ 'اپریل کے اختتام تک اتحادی افواج کا مکمل انخلا نہیں ہوگا'۔نیٹو عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے باعث شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'معاہدے پر عمل نہیں کیا گیا اور امریکا کی نئی انتظامیہ پالیسی میں ردوبدل کرے گی'۔ان کا کہنا تھا کہ 'جلد بازی میں دستبرداری کا جو تاثر موجود تھا اس کو ختم کر دیا جائے گا اور ہم انخلا کی مزید مؤثر حکمت عملی دیکھ سکتے ہیں'۔یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ قطر کے شہر دوحہ میں ہوا تھا، جس میں یہ طے پایا تھا کہ سیکیورٹی ضمانت، افغان حکومت کے ساتھ عسکریت پسندوں کی مکمل جنگ بندی کے بدلے مئی 2021 تک تمام غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی۔نیٹو ذرائع کا کہنا تھا کہ اپریل کے بعد کیا ہوگا اس حوالے سے جائزہ لیا جارہا ہے اور فروری میں نیٹو اجلاس میں ممکنہ طور پر یہ معاملہ سرفہرست رہے گا۔ماہرین اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اتحادیوں کو الگ کرنے کے بعد نیٹو کی پوزیشن اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے۔دوسری طرف افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے حالانکہ ستمبر 2020 میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان باقاعدہ مذاکرات بھی شروع ہوچکے ہیں۔خیال رہے کہ امریکا میں 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ لینے والی جوبائیڈن انتظامیہ نے سابق صدر کے امن معاہدے کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔افغانستان میں جاری جنگ میں2001 سے 2020 کے درمیان 3 ہزار 500 اتحادی مارے گئے، جن میں سے 2 ہزار 400 امریکی اور باقی نیٹو میں موجود دیگر اقوام کے افراد تھے، مزید یہ کہ تقریباً 20 ہزار سے زائد امریکی اس 19 سال کی طویل جنگ میں زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکا نے مجموعی طور پر 975 ارب ڈالر خرچ کیے۔