اونتی پورہ//جنوبی کشمیر کے لیتہ پورہ اونتی پورہ میں دو سال قبل خود کش حملے میں مارے گئے سی آر پی ایف کے 40 اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی جانب سے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سی آر پی ایف کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ تقریب کے بعد انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ اس طرح کے حملوں کو روکنے کیلئے شاہراہ پرکانوائے کی حفاظت کے لئے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل دیپک رتن نے بتایا کہ پلوامہ خود کش حملہ، جس میں 40اہلکارجاں بحق ہوئے تھے، کے بعد سرینگر جموں شاہراہ پر کانوائے کی حفاظت کے لئے گزشتہ 2 سال کے دورا ن بڑے پیمانے پر مزید حفاظتی انتظامات کئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ کے متعدد مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جبکہ کانوائے کے وقت ڈرون کیمروں اور فضائی نگرانی کر کے شاہراہ کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ دوبارہ اس قسم کا کوئی حادثہ پیش نہ آئے ۔ آئی جی نے بتایا اس حوالے سے شاہراہ پر تعینات رہنے والے اہلکاروں کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے جو کسی بھی ہنگامی صورت حال کا بھر پور جواب دے سکیںگے ۔ 14فروری 2019کو ہونے والے خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والے 40 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تب سے سی آر پی ایف میں بہت ساری تبدیلیاں آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں ایس او پیز ، دستیاب سامان اور تربیت میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ انہوں نے کہا ، ’’ہم نے تربیت کے طریقہ کار میں اس طرح ترمیم کی ہے کہ اگر کوئی ہنگامی صورتحال ہے یا عسکریت پسندوں کے ذریعہ چیلنج کیا گیا ہے تو ، انھیں مناسب جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لئے قافلے کی حدود بھی متعین ہوگئے ہیں کیونکہ جوانوں کی نقل و حرکت فضائی ٹریفک کے ذریعہ کی جارہی ہے۔
بھارت کی توجہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری پر | امن پر یقین رکھتے ہیں، پڑوسی نیت صاف رکھیں: وزیر اعظم
نیوز ڈیسک
چنئی// وزیر اعظم نریندر مودی نے پڑوسی ممالک کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت امن پر یقین رکھتا ہے تاہم ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ،اسلئے پڑوسیوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھارت کے تئیں نیت صاف رکھیں ۔ انہوںنے کہا کہ پڑوسی ممالک کشمیر میں حالات خراب کرنے کی کوششیں اب بند کردیں کیوں کہ آج کا بھارت دفاعی لحاظ سے کافی مضبوط اور مستحکم ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پلوامہ حملے کی دوسری برسی پر مارے گئے فورسز اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر جوانوں کی قربانیوں کو ملک ہمیشہ یاد رکھے گا۔ مودی نے کہا کہ بھارت امن پسند ملک ہے لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اس لئے بھارت اپنی مسلح افواج کو دنیا کی جدید ترین قوتوں میں سے ایک بنانے کیلئے کام کرتا ہے ۔ چنئی میںبھارت میں بنی جدید ٹینک کی چابی کو فوجی کمانڈر کو سونپتے ہوئے انہوں کہا کہ ہماری توجہ ہندوستان کو دفاعی شعبے میں خود انحصار کرنے پر ہے۔ ہماری مسلح افواج بھارت کی ہمت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وزیر اعظم نے پلوامہ حملے کی دوسری برسی پر حملے میں مارے گئے فورسز اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوجیوں نے وقتا فوقتا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہماری مادر وطن کی حفاظت کے قابل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان ہر قیمت پر اپنی خودمختاری کا تحفظ کرے گا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم اپنی مسلح افواج کو دنیا کی جدید ترین قوتوں میں سے ایک بنانے کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ مجھے فخر ہے کہ مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کردہ ٹینک ارجن مارک 1 اے کو فوج کے حوالے کیا گیا۔
عمر عبداللہ اہل خانہ سمیت گھر میں نظر بند | لیتہ پورہ برسی کے پیش نظر کیا گیا: پولیس
بلال فرقانی
سرینگر//نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے اتوار کو الزام عائد کیا کہ ان کے اہل خانہ کو بلا جواز خانہ نظر بند رکھا گیا،تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملہ کی برسی کے نتیجے میں اہم شخصیات کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی۔ عمر عبداللہ نے اتوار کی صبح اپنی ایک ٹویٹ میں انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا ’’کیا یہی نیا کشمیر ہے جس میں انہیں اور ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ،جو ایک رکن پارلیمان ہیں، کو بلا جواز خانہ نظر بند کیا گیا ‘‘۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمر عبداللہ نے ٹویٹ میں لکھا ’’ 5 اگست 2019 کے بعد یہ نیا کشمیر ہے ،ہمیں اپنے گھروں کے اندر بلا جواز بند رکھا جارہا ہے، اس سے برا کیا ہوگا کہ انہوں نے میرے والد ،جو ایک رکن پارلیمان ہیں اور مجھے اپنے گھر کے اندر بند رکھا ہے،میری بہن اور ان کے بچوں کو بھی نظر بند رکھا ہے‘‘۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ کے باہر فورسز کی گاڑیوں کو کھڑے کرنے کی تصاویر کو بھی ٹیوٹر پر اپ لوڈ کیا۔ انہوں نے ایک اور ٹیوٹرپیغام میں کہا’’ چلو آپ کی نئی ماڈل کی جمہوریت کا مطلب ہمیں بغیر پوچھے گھروں میں رکھنا ہے،تاہم ہمارے گھروں میں جو عملہ کام کرتا ہے،انہیں بھی اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس پر آپ حیران ہیںکہ میں پھر بھی برہم اور بہتر ہوں‘۔ سرینگر پولیس نے دعوی کیا ہے کہ پلوامہ حملے کی دوسری برسی کے موقع پر وی آئی پی افراد کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ۔سماجی وئب سائٹ ٹویٹر پر عمر عبد اللہ کی ٹویٹ کے جواب میں سرینگر پولیس نے لکھا کہ لیتہ پورہ پلوامہ حملے کی دوسری برسی کے پیش نظر سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کئی اہم وی آئی پیز کی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی گئی ۔پولیس نے کہا’’ لیتہ پورہ حملے کی دوسری برسی پر زمین پر’’ رور اوپنگ پارٹی‘‘ موجود نہیں ہے،اور جو معلومات ملی ہے وہ بھی منفی ہے،جس کے نتیجے میں تمام اہم شخصیات اور جن لوگوں کو حفاظت میں رکھا گیا ہے کی نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے،جبکہ تمام لوگوں کو پیشگی میں مطلع کیا گیا کہ وہ آج(اتوار) کو کوئی بھی دورہ نہ کریں‘‘۔عمر عبداللہ نے تاہم پولیس سے پوچھا’’ مہربانی کرکے مجھے یہ بتائیں کہ مجھے کس قانون کے تحت گھر میں نظر بند رکھا گیا،آپ مجھے مشورہ دے سکتے تھے کہ آپ آج گھر سے باہر نہ جائیں،مگر آپ سیکورٹی کا بہانہ بنا کر مجھے گھر میں رہنے کیلئے زبردستی نہیں کرسکتے‘‘۔عمر عبداللہ نے ایک اور ٹیوٹ میں کہا’’ مہربانی کرکے تحریری مکتوب،جس میں پیشگی میں ہی ان پابندیوں کے بارے میں مطلع کیا گیا ہو میرے (یامیرے دفتر) سے اشتراک کریں ۔