سرینگر//2010میں محفوظ راہداری کے تحت وادی لوٹ آئے جنگجوئوں کی پاکستانی زیرانتظام کشمیرکی ازواج نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں سفری دستاویزات نہیں دئیے گئے تو آئندہ ماہ وہ اپنے بچوں سمیت سرحد کا مارچ کریںگے۔ ایوان صحافت کشمیر میں پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔طیبہ نامی ایک خاتون نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے وہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے سفری دستاویزات دینے کے سلسلے میں مطالبات کرتی آئی ہیں تاہم تاحال ان کے مطالبات کو لے کر کوئی بات نہیں کی جارہی ہے اور حکومت نے ہمارے مطالبات کو لے خاموشی اختیار کی ہے ۔پریس کانفرنس میں شامل ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان کی بیٹی پاکستان میں ہے جبکہ وہ خود کشمیر میں ہے اور ان کی بیٹی ہر روز ان سے سوال پوچھ رہی ہے کہ وہ پاکستان کب واپس آئیں گی۔صفیہ نامی خاتون نے بتایا کہ سفری دستاویزات اور دیگر لازمی دستاویزات نہ ہونے پر ان کے بچوں کا مستقبل مخدوش ہو رہا ہے۔انہوں نے بھارت اور پاکستان کے وزرائے عظم سے مطالبہ کیا کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے اور ان کو سفری دستاویزات فراہم کئے جائیں یا واپس پاکستان بھیج دیا جائے۔انہوں کہا کہ اگر ان کے مطالبات کو لے کر کوئی غور نہیں کیا گیا تو وہ مارچ میں سرحد مارچ کر کے پاکستان جانے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے بتایا ہمارے بچے کشمیر سے باہر بھی نہیں جا سکتے ہیں کہ حتیٰ کہ اگر کبھی گھروں سے باہر جاتے ہیں تو پولیس کی پوچھ تاچھ شروع ہوتی ہے۔انہوں نے بتایاہم اپنے رشتہ داروںکی میتوں کا آخری دیدارو ویڈیو کال پر کرتے ہیں ۔