گداگری کا رجحان پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی بڑھتا جارہا ہے بلکہ بھیانک صورت اختیار کرتا جارہا ہے ۔اگر چہ جسمانی طور ناخیز یا کمزور لوگ گداگری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن سبھی جسمانی طور پر کمزور لوگ گداگری کرتے ہیں ایسا ہرگز بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایسی سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں اپاہج اوربظاہر جسمانی طور پر کمزور لوگوں نے بھی ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں جبکہ دوسری جانب کچھ ہٹے کٹے اور صحت مند نوجوان بھیک مانگتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں ۔گداگری کی کوئی ایک وجہ متعین نہیں کی جا سکتی ہے ۔چند ایک گداگروں سے گفت وشنید کرنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ کچھ لوگ بسبب مجبوری دست سوال دراز کرتے ہیں یعنی بھوک، افلاس، غربت اور حالات انہیں ہاتھ پھیلانے پر مجبور کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مدد کرنا مستحب ہے اور کچھ لوگوں نے یہ اپنا مشغلہ بنایا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بھیک مانگنے والے لوگوں کے وجوہات کا پتہ لگایا جائے اور بعد میں ان کے آبائی گاؤں ( قصبوں )کی اوقاف کمیٹیوں کے تعاون سے ان وجوہات کا سدباب کرنے کی کوشش کی جائے۔
مختلف مذہبی مقامات، تعلیمی اداروں، بس سٹینڈوں، سیاحتی مقامات اور چوراہوں پر گداگروں کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے۔ اِنہوں نے عام لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔گداگروں میں جواں، بوڑھے، بچے، عورتیں اور کمسن لڑکیاں بھی شامل ہوتی ہیں اور یہ سب کاروبار بن چکا ہے۔اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان گداگروں کے باضابطہ طور پر ٹھیکیدار بن چکے ہیں جو انہیں گداگری کے کام پر لگاتے ہیں۔گداگروں کے اپنے اپنے علاقے متعین کر دیئے جاتے ہیں اور بعد میں ان سے یہ رقم وصول کرتے ہیں ۔ان گداگروں کو لوگوں سے پیسے لینے کے مکروہ حربے سکھائے جاتے ہیں ۔اکثر گداگر معذور ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ ابھی گاڑی رکی نہیں ہوتی ہے کہ گداگر گاڑی کو گھیر لیتے ہیں اور اس طرح سے مانگنا شروع کرتے ہیں کہ انسان ان کے جھانسے میں آئے بغیر نہیں رہ پاتا ہے۔ گداگری سے لوگوں میں بے ضمیری اور بے حسی بڑھ جاتی ہے ۔گداگروں کی بڑی تعداد رمضان المبارک کے مہینے میں نمودار ہوجاتی ہے۔ اس مہینے میں مسلمان اپنے صدقات اور زکواۃ پر کچھ زیادہ ہی توجہ دیتے ہیں جو نہایت اچھا اور نیک عمل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا نہایت ضروری ہے کہ کیا ہمارا صدقہ یا زکواۃ واقعی مستحق لوگوں تک پہنچتا ہے ۔کہیں ہم اس سے جزا کے بجائے سزا کے مستحق تو نہیں ہو تے ہیں۔ گداگر اکثر ہسپتالوں کے باہر بیٹھتے ہیں جہاں وہ تیمارداروں کی پریشانی کا فائدہ اٹھا کر انہیں لْوٹتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا بے حد ضروری ہے۔ ایسے لوگ محنت مزدوری سے کوسوں دور ہوتے ہیں ۔کوئی اگر مزدوری کرنے کا مشورہ بھی دیتا ہے تو اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔
گداگری سے سماج میں جرائم کی تعداد بڑھتی ہے۔ بہت سے گداگر بھیک مانگنے کے بہانے سے بڑی بری چوریاں انجام دیتے ہیں۔ اس عمل سے عریانی اور فحاشی بھی بڑھتی جاتی ہے جو کسی بھی معاشرے کے لئے بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔ یہ ناسور روز بہ روز جنگل کے آگ کی طرح پھیلتا جارہا ہے ۔ گداگری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم مستحق لوگوں تک نہیں پہنچ پاتے ہیں یعنی ان پیشہ ور گداگروں کی وجہ سے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کی حق تلفی ہو جاتی ہے۔
گوگل سروے کے مطابق ہندوستان میں 25 فیصد گداگر مسلمان ہوتے ہیں ۔یہ نہایت ہی شرم اور افسوس کی بات ہے ۔جس قوم کا پیغمبرؐ ،دو جہانوں کا سردار خود بکریاں چرواتا ہو ،تجارت کرتا ہو ،اپنی امت کو یہ سبق دینے کے لیے کہ ہاتھ پاؤں سے محنت کرنی چاہیے ،اسی قوم کی اتنی بڑی تعداد گداگری میں ملوث ہو، یہ بات اگر چہ کڑوی اور ناقابل برداشت ہے لیکن سچائی سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ہے ۔2011 کی مردم شماری کے مطابق پورے بھارت میں اندراج شدہ گداگروں کی تعداد 4 لاکھ سے زائد تھی جبکہ صرف جموں و کشمیر میں یہ تعداد 4134 کے آس پاس تھی جبکہ گداگروں کی بڑی تعداد غیر اندراج شدہ ہے۔ا گر اس بدعت کو نہ روکا گیا تو اس قوم کو پوری طرح سے بے حس اور بے ضمیر ہونے میں دیر نہیں لگے گی ۔اس بدعتِ کا مقابلہ کرنے کے لئے مندرجہ زیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے؛
1۔ سرکار کو منصوبہ بند طریقے سے گداگروں کے لیے کوئی سکیم لانی چاہیے جس کے تحت انہیں کوئی کام سکھایا جائے تاکہ یہ گداگری سے باز آئیں ۔
2۔ گاؤں قصبوں کی اوقاف کمیٹیوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اپنے زیر نگران آنے والے علاقے میں مفلوک الحال لوگوں کی نشاندہی کریں اور ان کی مالی معاونت کریں تاکہ ایسے لوگوں کو بھیک مانگنے کی ضرورت نہ پڑے ۔
3۔ عوام کو چاہیے کہ پیشہ ور گداگروں کی مدد کر کے ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں بلکہ انہیں پیسے نہ دے کر اس پیشے کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے صدقات، زکواۃ، اور خیرات اپنے اپنے گاؤں یا آس پڑوس میں رہنے والے مفلوک الحال لوگوں کو دیں۔
4۔ گداگروں میں سے اگر کسی اپاہج یا معذور گداگر کی مدد کرنی بھی پڑے تو پہلے اس کے بارے میں پوری طرح سے جانچ کر لینی چاہیے ۔
5۔ سرکار کو ایک قانون کے تحت گداگری پر پابندی لگا دینی چاہیے اور اس حوالے سے جو قوانین پہلے سے موجود ہیں، ان کا اطلاق بھی ناگزیر ہے تاکہ اس بدعت سے نمٹا جائے اور پیشہ ورانہ گداگری کا قلع قمع کیا جاسکے۔
6۔ گداگری پر لگاے گئے بچوں کے لیے اسکول جانے کے مواقعے فراہم کیے جانے چاہئیںتاکہ یہ بچے بے ضمیر اور پیشہ ور گداگر بننے کے بجائے تعلیم کے نور سے آراستہ ہوں۔
7۔ مساجد کے ائمہ کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بارے میں بات کریں اور گداگری کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کریں تاکہ اس بدعت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ عوام، سرکار، مذہبی رہنماؤں اور اوقات کمیٹیاں کی مدد سے اس وباء پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہم سب کو مل کر ایک ایسا خوشحال معاشرہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جہاں کسی کو بھی کسی دوسرے کے سامنے بھیک مانگنے کی ضرورت نہ پرے ۔
پتہ۔اویل نور آباد ،کولگام کشمیر
فون نمبر۔7006738436