کپوارہ// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ انکی پارٹی ریاستی درجہ کی نہیں بلکہ5 اگست 2109سے قبل کی پوزیشن کی بحالی چاہتی ہے۔رہا ہونے کے بعد پہلی بار کپوارہ میں پارٹی کنونشن کے دوران محبوبہ مفتی نے کہا کہ کوئی بھی پارلیمنٹ جمو ں وکشمیر سے آرٹیکل 370ختم نہیں کر سکتی تھی لیکن بی جے پی نے غیر آئینی طور ایسا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کیساتھ کچھ شرائط کی بنیادپرالحاق کیاتھا،جن میں اہم شرائط یہ تھیں کہ جموں وکشمیر کااپنا آئین اوراپناپرچم ہوگا،یہاں کوئی غیر ریاستی شخص زمین جائیداد نہیںخرید سکے گا،یہاں کی سرکاری ملازمتیں مقامی نوجوانوں کیلئے ہی مخصوص اورمختص ہونگی ۔انہوں نے بتایاکہ یہاں زمین کم تھی اورجنگل زیادہ تھے ،اسلئے یہاں کسی بیرون ریاستی کوزمین جائیدادخریدنے کی اجازت نہیں تھی ۔انہو ں نے کہا ’’ دفعہ370نہ صرف جمو ں وکشمیر کی خصوصی حیثیت تھی بلکہ وہ عوام کے سر پر تاج تھا لیکن بھاجپا سرکار نے غیر آئینی طور اس کو ختم کیا ‘‘۔انہو ں نے کہا ’’ اقتدار ہماری منزل نہیں ہے بلکہ وقار کی بحال ہی پی ڈی پی کا مقصد ہے‘‘ ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے وقت پی ڈی پی سے کئی شرائط پر اتفاق کیا گیاتھا جن میں دفعہ 370کو ختم نہ کرنا بھی ایک شرط تھی ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جمو ں و کشمیر کے لوگ 70سال سے ایک عذاب میں ہیں کیوںکہ جمو ں و کشمیر ایک مسئلہ ہے جس کی وجہ سے یہا ں ہزارو ں نوجوانو ں نے اپنی قربانیا ں پیش کی ہیں ، لاکھو ں کی تعداد میں گھر اجڑ گئے اور کرو ڑوں اربو ں کا نقصان ہوا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کے لئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا راستہ اپنا نا چاہیے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جمو ں و کشمیر میں جنگل راج ہے اور اب یہ جنگل راج ملک کے دیگر حصوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔انہو ں نے مزید کہا کہ جہا ں بھی بھا جپا سرکار کو لگتا ہے ، ان کے جبر و ظلم کے خلاف آواز اٹھے گی، وہا ںظلم و جبر کیا جاتا ہے ۔انہو ں نے کہا جمو ں و کشمیر کے لوگو ں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اس کا کچھ حصہ ملک میں ہو رہا ہے کیونکہ کسانو ں کے ساتھ جو ظلم کیا گیا وہ ایک مثال ہے ۔گپکار الائنس کے حوالہ سے محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ الائنس جموں و کشمیر کے لوگو ں کی عزت و آبرو کے لئے بنایا گیا اور جب تک جمو ںو کشمیر کے لوگ اس الائنس کو چاہئیں گے تب تک قائم رہے گا ۔انہو ں نے کہا کہ جمو ں و کشمیر کے نوجوان اور چھو ٹے بچے ملک کے مختلف جیلو ں میں بند پڑے ہیں اور ان میں عوامی اتحادپارٹی سر براہ انجینئر رشید بھی ہیں، ان سب کو فوری طور رہا کیا جائے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جمو ں و کشمیر میں حالت اس قدر خراب ہے کہ اب یہا ں لوگو ں کے زخمو ں پر مرہم رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے کیونکہ کچھ روزقبل وہ پلوامہ جاناچاہتی تھی جہا ں گزشتہ سال کے آخر میں3نوجوانو ں کو جا ں بحق کیا گیا اور انکو سرکار نے جنگجو قرار دیا جبکہ ان کے والدین یہ کہتے ہیں کہ وہ بے گناہ تھے ۔انہو ں نے کہا جو ں ہی لواحقین سے تعزیت پرسی پر جانے کا پروگرام بنا یا گیاتو بند رکھا گیا ۔انہو ں نے کہا کہ وہ ایسے حربو ں سے نہیں ڈرنے والی ہے ۔واضح رہے کہ پارٹی کنونشن میں راجیہ سبھا کے سبکدوش ممبر میر محمد فیا ض اور سابق وزیر اور سینئر لیڈر عبد الحق خان موجود نہیں تھے ۔