سرینگر //کشمیر میں دودھ کی پیداوار کو مزید بڑھانے کی خاطر محکمہ پشوپالن12کلو سے زائد دودھ دینے والی گائے کو خریدنے پر 50فیصد سبسڈی دے رہی ہے اور رواں برس مارچ تک 1200کنبوںکیلئے 8کروڑ کی سبسڈی دی گئی ہے ۔ محکمہ کے مطابق ایسے کنبوں کو بھی سرما کے دوران راشن حاصل کرنے کیلئے50فیصد سبسڈی ملتی ہے، جنہوں نے اس کیلئے محکمہ کے پاس اپنا اندراج کرایا ہو۔روایتی طریقہ کارسے ہاتھوں سے گائیوں کے تھنوںسے دودھ نکلالنے کیلئے جدید طریقہ کار اپنایا جارہا ہے اور اب دودھ نکالنے کیلئے چھوٹی مشینوں کو استعمال کرنیکا طریقہ کار متعارف کیا گیا ہے اوراسکے لئے خواتین کو 50فیصد سبسڈی پر مشینیں فراہم کی جارہی ہے۔
سبسڈی
کوئی بھی شہری گائے خریدنے کیلئے محکمہ کے پاس درخواست دے سکتا ہے اور منظوری ملنے کے بعد وہ گائے خریدنے کا حقدار قرار پاتا ہے۔گائے خریدنے کے بعد وہ محکمہ پشو پالن کو مطلع کرتا ہے جس کے بعد محکمہ کی ایک ٹیم اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ گائے واقعی 12کلو دودھ دیتی ہے نہیں۔ تمام لوازمات مکمل ہونے کے بعد گائے کے کان پر ایک ٹیگ لگا کر اس کو Information Network for Animal Productivityپر اپلوڈ کیا جاتا ہے جس کے بعد اس کو 50فی صد سبسڈی دی جاتی ہے ۔تاہم جس کے پاس پہلے سے ہی گائے موجود ہو ، اسے سبسڈی کے دائرے میں نہیں لایا جاتا ہے۔ یہ سکیم نئی ہے اورمحکمہ نے رواں سال1200کنبوں کو اس سکیم کے دائرے میں لاکر انکے حق میں 8کروڑ روپے کی سبسڈی کو منظوری دی ہے ۔۔ محکمہ پشو پالن کے ٹیکنیکل آفیسر کشمیر ڈاکٹر مسعود حسین نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ دودھ کی پیداوار کو بڑھائو ادینے کی خاطر بڑے پیمانے پر کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں فی الوقت 5لاکھ بھیسنیں اور 6سے ساڑھے 6لاکھ گائیں موجود ہیں، جن کی دیکھ ریکھ کا کام محکمہ انجام دے رہا ہے ۔ڈاکٹر مسعود نے کہا 5گائیوں کے یونٹ کو 1لاکھ 17ہزار کے قریب سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ 50گائیوں کے یونٹ کو خرینے کیلئے 17لاکھ50ہزار روپے سبسڈی ملتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ کسان گائے کو کہاں سے خریدتا ہے۔ڈاکٹر مسعود نے کہا کہ سردیوں میں دودھ کی پیدوار میں اس لئے کمی ہو جاتی ہے کیونکہ کرناہ سے قاضی گنڈ تک پوری وادی برف سے ڈھکی رہتی ہے اور مویشیوں کو متوازن اور مناسب غذا نہیں ملتی ہے۔انہوں نے کہاکہ وادی میں پہلی بار محکمہ نے ایک سکیم شروع کی ہے جس کے تحت ہر ایک ایسے کنبہ کو ،جو گائے پالتا ہے اور جس کا سارا دارومدار اسی پر ہے ،کیلئے 270کلو چارہ پر 50فیصد سبسڈی ملتی ہے ،کیونکہ اس کو چارہ خریدنا پڑتا ہے ۔ڈاکٹر مسعود نے کہا کہ دودھ کا کاروبار کرنے والے ان سکیموں سے آگاہ ہوتے ہیں اور وہ فائدہ بھی اٹھا لیتے ہیں اور سبسڈی بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن اس میں وہ لوگ رہ جاتے ہیں جن کے گھر میں دودھ دینے والی دو سے تین گائیں ہوتی ہیں اب ان کو بھی اس سکیم کے دائرے میں لایا جارہاہے، اور وہ بھی چارہ خرید نے پر سبسڈی کیلئے درخواستیں دے سکتے ہیں ۔ڈاکٹر مسعود نے مزید بتایا کہ محکمہ گائیوں کا دودھ مشینوں کے ذریعے نکالنے کیلئے بھی سبسڈی دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ گائیوں کا دودھ ہاتھ سے نکالنے کے دوران نہ صرف انفکشن کا احتمال رہتا ہے بلکہ گائیوں کے تھنوں میں بھی انفکشن ہوجاتا ہے۔اب مارکیٹ میں دودھ نکالنے والی مشینیں آئی ہیں جن سے ایک گائیں انفکشن سے بچ جاتی ہیں۔محکمہ اس کیلئے کسانوں کو 50فیصد سبسڈی فراہم کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک محکمہ نے 200مشینوں پر سبسڈی دی ہے اور اس کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔
مضنوعی تخم ریزی
ڈاکٹر مسعودکے مطابق گائے کی تخم ریزی سے لیکر بچھڑے کے جنم تک یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچھڑا کس نسل کا ہے ۔ ڈاکٹر مسعود نے کہا کہ پہلے محکمہ کے پاس ہر ایک وٹنری سنٹر پر بیل ہوتے تھے لیکن نئی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ ان سے گائیوں میں انفکشن ہوتی تھی جس کے بعد پوری دنیا میں بیلوں سے روایتی تخم ریزی بند کرائی گئی اور اب تخم ریزی مصنوعی طریقے سے ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میںسالانہ ساڑھے 7لاکھ مصنوعی تخم ریزی ہوتی ہے اور تخم ریزی کیلئے استعمال ہونے والے انجکشن رنبیر باغ سنبل بانڈی پورہ لیبارٹری میں تیار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے 42کے قریب اچھی نسل کے بیل بیرون ممالک سے لائے ہیں اور ان سے تخم نکال کر اس کا انجکشن بنا کرگائیوں کو مصنوعی تخم ریزی کے دائرے میں لایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ایک بیل کی قیمت9لاکھ روپے ہے اور ان بیلوں کا تخم جس گائے میں جاتا ہے اس سے ایک تو نسل اچھی ہو گی، ساتھ میں گائے کے دودھ میں بھی اضافہ ہو گا ۔ڈاکٹر مسعود نے کہا کہ اب محکمہ نے وٹرنری وین کلینک متعارف کرایا ہے ، اب سنٹروں پر آنے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر دودھ دینے والی گائے کی مفت ٹیکہ کاری ہوتی ہے۔