سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے مرکزی وزارت برائے صحت وخاندانی بہبود سے گذارش کی ہے کہ قومی سطح کے اہلیتی امتحان (NEET-PG)کے خواہشمند اُمیدواروں کے لئے کشمیر صوبہ میں مناسب تعداد میں امتحانی مراکز قائم کئے جائیں جن کے امتحانات رواں برس اپریل ماہ میں منعقدہونے طے ہیں۔ ایک بیان میں بخاری نے کشمیر صوبہ سے تعلق رکھنے والے اُن NEET-PGخواہشمند اُمیدواروںکو درپیش مشکلات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے جوکہ سالانہ امتحان دینے کے لئے متعدد وجوہات بشمول کووِڈ19کی بنا پر جموں وکشمیر سے باہر نہیں جاسکتے۔مرکزی وزیر داخلہ سے اِس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ بڑی تعداد میں خواہشمند جنہوں نے اِس باوقار امتحان کے لئے تیاری کی ہے، وہ کشمیر میں امتحانی مراکز نہ ہونے کی وجہ سے امتحان دینے سے محروم رہ جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت چھوٹی وجوہات کی بنا پر نوجوان خواہشمندوں کو آزمائش میں ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے کہاکہ کرونا بحران اور فضائیہ کے کرایہ میں اضافہ سے صورتحال پہلے ہی تشویش کن ہے اور اب مناسب تعداد میں کشمیر میں امتحانی مراکز نہ ہونے سے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرسے اپیل کی ہے کہ وہ یہ معاملہ مرکزی وزارت برائے صحت وخاندانی بہبود کے علاوہ نیشنل ایگزامی نیشن بورڈ حکام کی نوٹس میں لائیں تاکہ نوجوان خواہشمندوں کے اِس جائز مسئلہ کا جلد حل نکالاجاسکے۔ بخاری نے کشمیر سے تعلق رکھنے والے سبھی NEETخواہشمندوں کے لئے صوبہ میں ہی امتحانی مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان نوجوان خواہش مندوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ وہ چاند اور تارے نہیں مانگ رہے ۔ یہاں تک کہ ان میں سے متعدد کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے اور وہ سفری اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا میری جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے درخواست ہے کہ وہ مناسب تعداد میں امتحانی مراکز کے قیام کی سہولت کی فراہمی کیلئے ذاتی مداخلت کریں ۔