میندھر//مینڈھر کے بالاکوٹ کلر موڑہ میں قریب سات آٹھ برس پہلے ایک لفٹ سکیم قایم کی گئی تھی جس کا مقصد علاقہ کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا تھا تاہم یہ سکیم لوگوں کیلئے بے سود ہیںکیوں کہ یہ سکیم بار بار خراب رہتی ہے جس کی وجہ سے لوگوںکو کئی کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرکے پینے کیلئے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ لوگوںنے اس سلسلے میںمتعلقہ حکام سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ کو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں ۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق سب ڈویڑن مینڈھر کی بلاک بالاکوٹ کی پنچائت کلر موڑہ کی عوام کا کنہا ہے کہ پنچائت کلر میں ایک لفٹ سکیم سال 13/2012 میں تعمیر کی گئی تھی جس پر سرکار کے لاکھوں خرچ ہوئے تھے تاکہ پسماندہ علاقہ کی عوام کو بروقت تازہ اور صاف پانی دستیاب ہو سکے جو محکمہ جل شکتی کے ملازمیں کی عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث کلی طور نکارہ ہو چکی ہے جس کام پسماندہ علاقہ کلرموڑہ میں بسنے والی غریب عوام کو رتی بھر بھی فائدہ نہ ہو سکا۔علاقائی عوام کے مطابق یہ لفٹ اسکیم ماہ میں ایک دو بار چلتی ہے زیادہ تر خرب ہی رہتی ہے جس کی وجہ سے علاقہ کی عوام کو صاف پانی کی خاطر کئی کلومیٹر دوری کا پیدل سفر طے کر کے اپنے سروں پربرتن اٹھا کر قدرتی چشمہ سے پانی لانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک کے اندر قدرتی چشمہ بھی بہت کم ہیں اور نہ ہی ہینڈ پمپ و دیگر صاف پانی کا کوئی اور ذرائع ہے انکار کہنا تھا کہ پانی اٹھا اٹھا کر ہمارے ماوں بہنوں کے سر کے بال بھی گر چکے ہیں باوجود اس کے بھی محکمہ جل شکتی کے ملازمین کے کانوں تک جوں نہ رنگی۔محکمہ جل شکتی عوام کو پانی کی سہولیات دستیاب کرونے میں زمینی سطع پر ناکام ہوچکا ہے محکمہ جل شکتی کا صرف نام ہی رہ گیا ہے۔اگر چہرہ محکمہ جل شکتی کے ملازمین کے گھروں کو دکھا جائے تو مکان کے چاروں کناروں پر پانی کے نل لگے ہوئے ہیں جس چوبیس گھنٹے چلتے رہتے ہیں مگر پسماندہ کی عوام کو صاف پانی سے مروم رکھنا ان کو روزمرہ کا مامول بن چکا ہے کیونکہ ان کو محکمہ جل شکتی کے علیٰ افیسران کی طرف سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی کوئی پوچھنے ولادت ہی نہیں ہے۔انہوں نیکہاکہ ہم جب بھی ہم محکمہ جل شکتی کے کسی افسر یاملازم کو فون کرتے ہیں یاتو وہ فون کال نہیں اٹھاتے یاپھرایک دوسرے پر لگاکر ٹال مٹول کردیتے ہیں انہوں نے ضلع انتظامیہ پونچھ اور بلخصوصا گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ غفلت شعار ملازمین کو یہاں سے تبدیل کر کے کسی دوسرے اضلاع میں لگا کر ہماری پسماندہ خطہ میں اچھے کام کرنے والے ملازمین تعینات کئے جائیں تاکہ اس سرحدی اور پسماندہ میں بسنے والی عوام کو بروقت پینے کا صاف پانی بروقت دستیاب کروا سکیں تاکہ یہاں کی عوام سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔