مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے ڈھرانہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے محکمہ جل شکتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 8سال قبل بریلہ ڈھرانہ سے اپر ڈھرانہ کا کام شروع ہواتھا لیکن اس وقت تک سکیم مکمل نہیں ہوئی اور ایک پہاڑی کے اوپر بسنے والے لوگ پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں تفصیلات کے مطابق بریلہ ڈھرانہ سے اپر ڈھرانہ لفٹ سکیم کا کا م 8سال قبل شروع ہواتھا اور متعلقہ محکمہ نے تین ٹینک بھی پانی جمع کرنے کیلئے بناوا دئے ہیں لیکن کچھ حد تک پائیپیں بھی سکیم پر لگادی ہیں لیکن مشینری ابھی تک فیٹ نہیں کی گئی اس سلسلہ میں ممبر پنچائت محمد اقبال نے بات کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمہ نے ساڑھے چار کروز کے لگ بھگ پانی لی لفٹ سکیم پر خرچے ہیں لیکن سکیم کی یہ حالت ہے کہ متعلقہ محکمہ ایک مہینہ میں صرف پانچ دن سکیم پر کام کرکے چھوڑ دیتاہے اور لوگ پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں لیکن متعلقہ محکمہ کے اعلی ملازمین کو ٹس سے مس نہیں ہے انکا کہنا تھا کہ دو موٹریں تین مہینوں سے زمین پر پڑی ہیں لیکن محکمہ کے ملازمین نے ان کو اس وقت تک فیٹ نہیں کیا جبکہ دو ٹینکوں تک پائپیں بھی لگی ہوئی ہیں جس کے بعد کام کو چھوڑ دیا گیا انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ڈھرانہ علاقہ بڑی آبادی پر مشتمل ہے جس کے اندر دو پنچائتیں ہیں اور علاقہ ایک پہاڑی پر واقع ہے جہاں پر چشمے بھی بہت کم ہیں اور لوگوں کو کئی کلومیٹر دور سے جاکر پانی لانا پڑتاہے انہوں نے محکمہ جل شکتی کے اعلی آفیسران سے اپیل کی کہ سکیم کو جلد مکمل کرکے لوگوں کو پینے کا صاف پانی سپلائی کیا جائے ورنہ ہم لوگ متعلقہ محکمہ کے خلاف احتجاج کریں گے مزید انہوں نے ریاستی گورنرر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک ویجی لینس کی ٹیم علاقہ کے اندر بھیجی جائے جو سکیم کا جائزہ لینے کے بعد ان آفیسران کے خلاف کاراوئی عمل میں لائے جنہوں نے کئی کروڑ روپے خرچنے کے بعد سکیم کو مکمل نہیں کیا ۔