بڈگام//بڈگام کے علاقہ شولہ پورہ سے ملحقہ آباد پورہ کے لوگوں نے سوموار کو گاؤں میں نئے اینٹوں کے بھٹے کے قیام کے خلاف ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفتر کے سامنے زور دار احتجاجی مظاہرے کئے.جس کی وجہ سے ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے تحصیلدار بڈگام کو ہدایت دی کہ موقع پر جائزہ لیکر مناسب کارروائی کریں۔ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام کے دفتر کے سامنے آباد پورہ شولہ پورہ سے آئے ہوئے درجنوں مقامی افراد نے علاقہ میں نئے قائم کئے گئے اینٹوں کے بھٹے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس موقع پر احتجاج میں شامل افراد نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ علاقے میں نیا اینٹوں کا بھٹہ قائم کیا گیا ہے جس کے سبب علاقہ میں موجود ہزاروں کنال کی زرخیز زرعی اراضی بنجر ہونے کے امکانات ہیں۔. ساتھ ہی علاقہ کی آبادی بھٹہ سے نکلنے والی آلودگی سے مختلف امراض میں مبتلا ہوسکتی ہے۔احتجاج میں شامل فردوس احمد نامی شہری نے بتایا کہ ان کے ہزاروں کنال پر مشتمل باغات اور دھان کے کھیت ہیں اور علاقے میں اینٹوں کا بھٹہ قائم کرنے سے جانوروں ، پودوں اور انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے جس کے خلاف ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ فوری طور پر نئے قائم کئے گئے بھٹہ کو علاقہ سے بے دخل کر دیا جائے۔.احتجاج کے فوراً بعد ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ تحصیلدار کو موقع پر جا کر کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔تحصیلدار بڈگام نے موقع پر پہنچ کر نئے اینٹوں کے بھٹہ قائم کرنے والوں کے خلاف باضابطہ کیس درج کرنے کی پولیس کو ہدایت دی۔.اس بارے میں تحصیلدار بڈگام محترمہ نصرت عزیز نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ میں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کی ہدایت پر موقع پر پہنچ کر جایزہ لیا تو یہ پایا کہ اینٹوں کا بھٹہ غلط طریقے سے قائم کیا گیا ہے جس کے خلاف ہم نے علی محمد ماگرے ولد غلام محمد ساکنہ پیرسپورہ بڈگام خلاف بغیر کسی اجازت کے اینٹوں کے بھٹے کو قائم کرنے کی کوشش کرنے پر ایف آئی آر درج کرلی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔