پونچھ// پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے بفلیاز میں واقع سرکاری ہائر سکنڈری سکول کی عمارت کی خستہ حالی کی وجہ سے طلباکو باہر کھلے میدان میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنی پڑرہی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق 1975میں بفلیاز میں گورنمنٹ مڈل سکول کے لئے چار کمرہ جات پر مشتمل عمارت بنائی گئی تھی بعد میں سکول کا درجہ بڑھاکر اسے ہائی سکول بنایا گیااس وقت سکول کا درجہ بڑھا کر اسے ہائر سکنڈری سکول بنایا گیا ہے لیکن عمارت انھیں چار کمرہ جات پر مشتمل رہی جو اب خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ سرپنچ امجد خان نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کر کے کہا کہ سکول کی عمارت جو خستہ حالی کا شکار ہے اور زمین بوس ہونے کے مرحلے میں ہے خوف اور ڈر کی وجہ سے طلبہ کو باہر میدان میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنی پڑرہی ہے۔ انہو نے کہا کہ اسکول میں دیہات کے350طلبہ زیر تعلیم ہیںاساتذہ اور دیگر عملہ کی تعداد 33 ہے جبکہ سکول میں ابھی 14اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پرنائی پروجیکٹ کے ڈیم کی وجہ سے بھی اس سکول کی بہت زیادہ نقصان ہوا تھا جس کے بعد مقامی لوگوں کے دبائو بنائے جانے کے بعد پروانائی پروجیکٹ کی انتظامیہ نے1کروڑ روپئے زونل ایجوکیشن افسر کے خاتے میں ڈالا تھا تاکہ سکول کی متبادل عمارت تیار کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کئی سال سے وہ پیسہ اسی طرح پڑا ہوا ہے اور طلبہ کئی طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی خستہ حالی کے سبب والدین اپنے بچوں کو سکول روانہ کرنے سے خوف زدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں مقامی گرام پنچایت اور محکمہ تعلیم کے افسروں سے شکایت کئے جانے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوسکا ہے۔انہوں نے کہا کہ شکایات کے بعد افسروں نے دورہ کر کے معائنہ کیا ہے مگر عمارت کی مرمت کا کام نہیں ہوسکا، بچوں کیلئے متبادل عمارت کا انتظام نہیں ہوسکا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر کمزور والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے مقصد سے اسکول روانہ کررہے ہیں۔ ان بچوں کا مستقبل خطرہ میں ہے۔لاپروائی برت رہے محکمہ تعلیم کے افسروں کو چاہئے کہ فوری اس خصوص میں ضروری اقدامات کریں اور بچوں کی حفاظت کیلئے آگے آئیں۔