سرکار مرکزی ہو یاکہ ریاستی ہر ممکن عوام کی فلاح و بہبود و علاقائی ترقی کی خاطر کوششوں میں مصروف عمل رہتی ہے۔ اور اس غرض سے ہی مختلف اسکیموں کا آغاز بھی کیاجاتاہے۔لیکن ان اسکیموں کو عمل میں لانے کے لئے زمینی سطح پر پنچائیت نمائیندگان یامتعلقہ محکمہ جات کے چھوٹے ملازمین کم تعلیم کی بنیاد پر ان اسکیموں کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔جس کا نقصان ان لوگوں کو اٹھاناپڑتاہے۔جن کے لئے ان اسکیموں کو شروع کیاگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر دیہی یابالائی علاقوں میں عوام ان اسکیموں سے متعارف بھی نہیں ہو پاتے ہیں۔فیض یاب بھی نہیں ہو پاتے ہیں۔محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے 2018سے پہلے صرف ماہانا300 اور 400روپیہ دیاجاتاتھا۔جموں وکشمیر کو 2019میں یونین ٹیراٹری بنانے کے بعد اس وقت کے لیفٹنٹ گورنر جی سی مرمو کی جانب سے ایک لاکھ 30ہزار نئے پنشن کیس دیے جانے کو منظوری دی گئی۔ اس طرح جموں وکشمیر میں عمر رسیدہ،جسمانی طور معذور افراد،اور بیواؤں کی قریب 742950تعداد پنشن لینے والوں کی ہوئی۔جبکہ 100فیصدی مستحقین کی پنشن لگانے کے احکامات بھی صادر کئے گئے تھے۔
لیکن یہ حکم نامہ جموں سے 234کلومیٹر دور ضلع پونچھ کے سرحدی علاقع ساوجیاں جو ضلع ہیڈ کواٹر سے 35 سے 40 کلومیٹر کی دوری پر واقع،ساوجیاں گنتڑ تک رسائی نہ کرسکا۔جہاں دیگر مستحقین کے ساتھ ساتھ ایک معذور بیوا خاتون آٹھ سالوں سے بیماری، غریبی، تنہائی اورمعذوری کا درد سہہ رہی ہے۔ لیکن ابھی تک پنشن سے محروم ہے۔ مقامی نوجوان شہر از گیلانی جن کی عمر 37 سال ہے۔ اور پیشہ سے ایک چھوٹے سے دوکاندار ہیں بتایا کہ یہاں کے لوگ آج بھی سامراجیت کے شکار ہیں۔ سرپنچ اور وارڈ پنچ تک یہاں پنچائیت میں موجود نہیں ہیں۔بلکہ وہ ضلع ہیڈ کواٹر پر بیٹھ کر عوام کا استحصال کرتے ہیں۔عام غریب عوام کے کام تو درکنار اس پنچائیت میں متعدد گھرانوں اور خاندانوں میں عمر رسیدہ معذور سرحد پر فائرنگ سے ہوئے معذور وغیرہ غریب لاچار لوگ پریشان ہیں۔ان کی پنشن لگوانے تک کے بارے میں نہیں بتایاگیا۔
جس کی مثال پنچائیت ساوجیاں کے محلہ گنتڑ وارڈ نمبر 6میں ایک گھر کی ہے۔ جس میں ایک گھر کے دومعذور افراد ہیں۔لیکن ان معذوروں میں ایک خاتون فاطمہ بیگم بھی ہیں جو بیواہ،بے ا ولاد اور مجبور ہیں۔ آٹھ سال سے مکان کے ایک بوسیدہ کمرے میں پڑی ہوئی ہیں۔ کبھی دیور کے اہل خانہ کی محتاج تو کبھی بہن اپنا درد لیکر اس کی دیکھ بال کرنے آجاتی ہے۔ وہ بھی دن میں جبکہ رات پھر اکیلے ہی گزرتی ہے۔ نہ ہی کوئی علاج و معالجہ کا بندوبست ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا کوئی بندوبست ہے۔قضاء حاجت کے لئے بھی ان کے پاس کوئی بندوبست نہیں ہے۔یہاں تک کہ ان کی پنشن بھی نہیں لگی ہے۔50سالہ یہ خاتون گزشتہ چھ سالوں سے ایسے ہی معزوری کی زندگی بسر کررہی ہیں۔ آٹھ سال قبل ایک پہاڑی سے گر کر زحمی ہوئی اس کے بعد غریبی کی وجہ سے علاج معالجہ نہ کرو سکی۔بس اتناکہ جب تک خاوند زندہ رہے خاطر توازن کرتے رہے۔ چار سال قبل خاوند بھی کینسر جیسی موزی بیماری سے جانبحق ہوگیے۔ تب سے لیکر یہ خاتون ایک خستہ حال کمرے میں روتے ہوے زندگی کے ایام گزار رہی ہیں۔ پنچائیت نمائیندگان نے کبھی آکر حال احوال تک نہ پوچھا۔
اسی طرح عبدالسبحان ڈار جس نے اپنی عمر 70سال بتائی، چند سال قبل گاڑی کے ایک حادثہ میں اپنی ٹانگیں گنوابیٹھے ہیں۔اب ہاتھ اور پاؤں کے سہارے چلتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے پنچائیت کے سرپنچ اور پنچ کبھی دیکھائی بھی نہیں دیے ہیں۔جو ہماری آواز محکمہ کے پاس یا کہیں دفتر تک فائیل وغیرہ لے جاتے۔ ہم نے ان کو الیکشن کے دن دیکھاتھاپھر نہیں۔ان کے علاوہ عبدالاحد میر احمد دین میر اور غلام رسول ڈار عرف لسہ جن کی عمریں 70 سال سے تجاوز ہیں،بزرگ بھی ہیں اورمعذور بھی ہیں۔ مانگ کر گزارا کرتے ہیں۔انہوں نے بھی بات کرتے ہوے کہاکہ آج تک پنشن نہیں لگی ہے۔ اس حوالے سے جب محکمہ سماجی بہبود کے تحصیل سوشل ویلفیر آفیسر محمد اعظم رتھر سے بات کی گئی تو انہوں نے پہلے تو انکار کردیا کہ ہم نے سرپنچوں سے لکھوا کر لے لیاہے کہ اب پنچائیتوں میں کوئی عمررسدہ معذور یابیواہ پنشن کے بغیر نہیں۔لیکن بعد میں انہوں نے موقع پر پہنچ کر خستہ حال کمرے میں پڑی معذور خاتون فاطمہ بیگم کا حال جانا تو وہ بھی متاثر ہوے بغیر نہیں رہ پائے۔ خاتون کی تیمارادری کی کچھ نقدی تعاون کیا۔ اور ایک ماہ کے اندر اندر ان کی پنشن لگانے کی یقین دھانی کروائی۔ یقین کامل ہوجانے کے بعد بتایاکہ اس خاتون کی ہمارے دفتر تک کوئی فائیل نہیں پہونچی ہے۔نہ ہی کسی نے آج تک اس حوالے سے آگاہ کیاہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک مستحق وہ بھی خاتون اس طرح سے نظر انداز ہوتی ہے تو نہ جانے کتنے پنشن کے مستحق غریب اپنے گھروں میں ترستے ہونگے۔ جس کے لئے محکمہ یا انتظامیہ ذمہ دار نہیں بلکہ سرپنچ اور وارڈ پنچ ہی اس کوتاہی کے ذمہ دار ہیں۔لیکن پھر بھی میں اس خاتون کے لئے آپنے آفیسران سے خصوصی بات کرکے ایک مہینہ کے اندر اندر پنشن لگاوادینے کی کوشش کرونگا۔ انہوں نے کہاکہ دسمبر2019میں منڈی میری تعیناتی ہوئی تھی۔تب تحصیل منڈی کے کل3436لوگ پنشن وصول کرہے تھے۔ جبکہ اس وقت 13763لوگ پنشن وصول کررہے ہیں۔ جبکہ پورے ضلع پونچھ میں 53700افراد پنشن وصول کررہے ہیں۔یہاں اس خاتون کے علاوہ بھی عمر رسیدہ اورمعذور ہیں۔اور نہ جانے مزید کتنے لوگ اور ہونگے۔ان کے بھی فارم بھرواے جائیں گے۔اور فنڈ مہیاء پر ان کی پنشن لگائی جایگی۔
یہ تو تھاایک محکمہ کا حال۔ یہاں گنتڑ میں تو ایوشمان بھارت اسکیم کا بھی کسی کو پتہ نہیں۔ جس کے تحت سرکار غریب کو سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کے لئے پانچ لاکھ تک کی سہولت فراہم کرتی ہے۔اس اسکیم کے علاوہ دیگر متعدد اسکیمیں بھی یہاں برائے نام ہیں۔ آخر کار یہ اسکیمیں کب مستحقین کے لئے کارگر ثابت ہونگی؟اگر برلب روڈ آٹھ سال سے ایک معذور خاتون کی آہ پکار کسی کو نہیں سنائی دی تو دیہی علاقوں میں ایسے دسیوں معذوروں کی آواز کون سنے گا؟ پنچائیت کے ذمہ داران کو شہروں میں رہناہوتاہے تو پھر اس غریب عوام کے پاؤں پکڑ کر ووٹ کیوں لئے تھے؟ اگر ان غریبوں کو خود کچھ دے نہیں سکتے تو سرکار کی جانب سے دی جانے والی اسکیموں سے تو محروم نہ کریں۔یہ خاتون جو آٹھ سال سے ایک خستہ حال کمرے میں رو روکر زندگی گزار رہی ہے۔ چند لمحہ ان کے پاس بیٹھیں تو سہی احساس ہوجایگاکہ غریب کتنے اسیر ہوتے ہیں۔اگر ان لوگوں سے آپ کو نفرت تھی یا کہ ان غریبوں کے پاس بیٹھنے اور ان کے کام کرنے سے شرم محسوس ہوتی ہے تو پھر سچ جھوٹ کرکے ووٹ لینے کے وقت بھی شرم کرناتھا۔ابھی وقت ہے اس عوام کے حقوق ادا کئے جائیں۔سرکاری اسکیموں کی جانکاری فراہم کرکے انہیں بھی اس سے فیض یاب کیاجائے۔ بلخصوص جو معذور،بیوہ،یا عمر رسیدہ لوگ اپنے گھروں میں فاطمہ بیگم کی طرح بے یارومددگارہیں ان کی پنشن لگوائی جائے۔اس وقت تو ہم نے بس ایک دیکھی ہے سرحد کی معذور خاتون جو بے بس ولاچار ہے۔جانے اور کتنے ضرورت مند ہونگے۔ (چرخہ فیچرس)
منڈی، پونچھ