نوشہرہ //سب ڈویژن نوشہرہ میں قائم گورنمنٹ لنگر ہائی سکول کا درجہ 57برسوں سے بڑھایا ہی نہیںگیا جس کی وجہ سے بچوں کیساتھ ساتھ والدین بھی پریشان ہیں ۔مکینوں نے انتظامیہ پر الزا م عائد کرتے ہوئے کہاکہ گورنمنٹ ہائی سکول کئی علاقوں کے مرکز میں قائم ہے جس کی وجہ سے اس میں بچوں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے لیکن ان بچوں کو مزید تعلیم کیلئے دیگر سرکاری سکولوں میں در بدر ہونا پڑتا ہے ۔سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر سے 11کلو میٹر کی دوری پر قائم ہائی سکول لنگر میں اس وقت 357بچے زیر تعلیم ہیں ۔مقا می لوگوں نے بتایا کہ سرحدی علاقہ میں انتظامیہ کی جانب سے عوامی مانگ کو دیکھتے ہوئے 1964میں ہائی سکول کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد اس میں بچوں کی ایک بڑی تعداد لگاتار تعلیم حاصل کرتی رہی تاہم ابھی تک سکول کا درجہ ہی نہیں بڑیاجا سکا ۔غور طلب ہے کہ ہائی سکول کے زیر تحت علا قہ کے 6مڈل سکول جبکہ 11پرائمری سکول آتے ہیں جبکہ ایک ہائی سکول میں اس وقت 11دیہات کے بچے زیر تعلیم ہیں ۔ نوشہرہ کے دو مرتبہ ممبر اسمبلی رہ چکے رادھے شا م شرما اوع سابقہ ممبر اسمبلی سریندر چوہدری بھی اسی ہائی سکول سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں لیکن اس کا درجہ بڑھانے کے سلسلہ میں کسی نے بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ۔مقامی لوگوںنے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری سکول کو مقامی لیڈران کیساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ نے بھی یکسر نظر انداز کیا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقہ میں ہونے کی وجہ سے اس سکول کے بچے دیگر ہائر سکینڈری سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں اور کئی طلباء دسویں جماعت کے بعد تعلیم کو خیر آؓباد کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ہائی سکول کا درجہ بڑھا کر ہائر سکینڈری سکول کیا جائے تاکہ بچوں کو اپنے علاقہ میں ہی معیاری تعلیم مل سکے ۔