منڈی//ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ ساوجیاں میں محکمہ پنچایت کی جانب سے لوگوں کو پاکستانی گولہ باری سے محفوظ رکھنے کیلئے زمیندوز بنکر بنائے گئے ہیں لیکن مذخورہ ڈھانچوں کو ابھی تک مکمل ہی نہیں کیا جاسکا جبکہ نکاسی آب کا بھی کوئی بندوبست ہی نہیںہے جس کی وجہ سے ان تعمیرات میں بڑے پیمانے پر پانی جمع ہوا ہے ۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہاکہ بنکروں کی تعمیر لوگوں کو فائرنگ سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے عمل میں لائی گئی تھی لیکن عام لوگ فائرنگ کے دوران ان بنکروں کا رخ ہی نہیں کر سکتے کیونکہ ان میں کئی عرصہ سے پانی بھاری مقدار میں بھرا ہو ہے ۔انہوں نے بتایا کہ تعمیر اتی ایجنسیوں نے بنکروں میں نکاسی آب کا کوئی بندوبست ہی نہیں کیا ہوا ہے جوکہ عام لوگوں کیلئے پریشانی کا باعث ہے ۔اگر چہ ہند پاک ممالک کے بیچ کچھ ہی عرصہ قبل جنگ بندی معائد ے پر عمل کرنے پر اتفاق ہوا ہے اور سرحدوں پر بسے لوگوں نے راحت کی سانس لی مگر ان لوگوں کو گولہ باری سے بچنے کیلئے محکمہ پنچایت کی جانب سے جو زمیندوز بنکرز تعمیر کئے گئے ہیں وہ ان کے سات بدھا مذاق ہے ۔ساوجیاں کی عوام نے محکمہ پنچایت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جن ٹھیکیداروں کے ذریعہ سے انہوں نے ان بنکر زکی تعمیر کروائی ہے ۔ان کی جاب سے تعمیرات میں بھی غیر معیاری ساز و سامان کا استعمال کیا گیا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ انتظامیہ و متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے تعمیر کردہ بنکروں میں تین فٹ سے زائد پانی جمع ہو چکا ہے ۔ساوجیاں میدان کے رہنے والے نثار عبد اللہ ولد محمد عبداللہ نامی ایک شخص نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ محکمہ پنچایت کی جانب سے ساوجیاں علاقہ میں جتنے بھی زمین دوز بنکرس تعمیرکئے گئے ہیں ان میں بارش کی وجہ سے پانی جمع ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنکرس کی تعمیر میںٹھیکیداروںکی جانب سے غیر معیاری سامان کا بھی استعمال ہوا ہے جس کی انتظامیہ کو تحقیقات کرنی چاہیے۔اس حوالے سے جب بلاک ڈولپمنٹ آفسر منڈی مظہر جعفری سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ از خود جا کر ان بنکروں کا معائینہ کریں گے اور ان کی دوبارہ سے مرمت بھی کی جائے گی ۔