بارہمولہ //وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر میں بھی کووِڈ – 19 کے کیسوں میں اضافے اور نائٹ کرفیو کے باوجود ماہ رمضان المبارک میںسحری کے وقت بستیوں میں سحرخوان کے لوگوں کو سحری کے وقت جگانے کی روایت جاری ہے ۔سحری وقت شروع ہوتے ہی ڈھول کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ ضلع بارہمولہ کے ٹنگمرگ میں دوردراز دیہات چھاندل علاقے میں محمد شعبان نامی سحر خوان رات کے دو بجے جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے موبائل فون، لائوڈ اسپیکر، ڈیجیٹل الارم کی سہولیات کے باوجود بھی ڈول بجا کر لوگوں کو سحری کیلئے جگا رہے ہیں ۔ اس دیہات کے علاوہ محمد شعبان دیگر دیہات میں بھی جاکر عوام کی خدمت انجام دے کر گلی گلی گھومتے ہوئے ڈھول بجا کر اور ’وقت سحر‘ کی آوازیں دے کر لوگوں کو جگاتا ہے۔ سحر خوان محمد شعبان نے کہا مجھ سے پہلے میرے والد بھی یہ کام کررہے تھے اور ہم گذشتہ پچاس برسوں سے ڈھول بجاکر لوگوں کو رمضان میں سحری کے وقت جگارہے ہیں او ر رمضان کے آخری دنوں میں لوگ ہدیہ بھی دیتے ہیں لیکن میں کوئی مطالبہ نہیں کرتا ہوں، وہ اپنی خوشی سے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دو بجے رات بستر سے اٹھتا ہوں، پھر وضوکرکے ڈھول کو صاف کرتا ہوں اور ڈھائی بجے لوگوں کو جگانے کیلئے باہر نکلتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا،’’'میں ڈھول بجا کر اور’’وقت سحر‘‘ کی آوازیں دے کر لوگوں کو جگاتا ہوں، کافی بڑے علاقے کا چکر کاٹ کر لوگوں کو جگاتا ہوں‘‘۔ اسی طرح سحر خوانوں نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ، سوپور ، پٹن ،رفیع آباد کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی اپنی خدمات کا آغاز کیا ہے ۔ گل مصطفی نامی سحر خوان نے بتایا ہے کہ انہوں نے تقریباً25 سال کے بعد اپنا کام دوبارہ شروع کیا ہے کیونکہ یہاں پر جنگجویت عروج پر تھی اور لوگ اپنی حفاظت کیلئے پریشان تھے اور ڈھول کی مشہور روایت بھی ختم ہوگئی تھی تاہم ہم نے اپنی خدمات کو دوبارہ بحال کیا ہے ۔