سرینگر //جموں و کشمیر میں پچھلے 2ماہ کے دوران کورونا وائرس کے سرگرم معاملات میں 10003افراد کا اضافہ ہوا ہے۔15فروری کو کورونا وائرس کی دوسری لہر کے ابتداء پر سرگرم معاملات کی تعداد صرف617تھی جو 16اپریل تک 10ہزار 620ہوگئی جن میں 602افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 15فروری کو کورونا وائرس کی دوسری لہر کے آغاز میں صرف 617سرگرم معاملات تھے جن میں59کشمیر جبکہ 10سرگرم معاملات جموں صوبے میں موجود تھے۔ ان 73سرگرم معاملات میں صرف 35افراد مختلف اسپتالوںمیں زیر علاج تھے جن میں 8جموں اور 27افراد کشمیر کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج تھے۔2ماہ میںسرگرم معاملات میں 10ہزار3متاثرین کا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 10620تک پہنچ گئی ہے جن میں 6497کشمیر جبکہ 4123جموں میں سرگرم ہے ۔ کشمیر کے 6497سرگرم معاملات میں سرینگر میں 3770، بارہمولہ میں 982، بڈگام میں 437، پلوامہ میں 237، کپوارہ میں232، اننت ناگ میں 276، بانڈی پورہ میں 112، گاندربل میں 109، کولگام میں 252اور کولگام کے 90سرگرم معاملات شامل ہے۔ جموں صوبے کے سرگرم معاملات میں جموں میں2182، ادھمپور میں 698، راجوری میں 123، ڈوڈہ میں 41، کٹھوعہ میں 207، سانبہ میں 136، کشتواڑ میں 12، پونچھ میں 71، رام بن میں 39اور ریاسی میں سرگرم معاملات کی تعداد 614تک پہنچ گئی ہے۔