منڈی // تحصیل منڈی کے سرحدی علاقہ ساوجیاں اور گگڑیاں کے مکینوں نے جموں کشمیر بینک حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ساوجیاں میں ایک خودکار ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) لگائیں۔ مکینوں نے بتایا کہ اس سے قبل انہوں نے بینک حکام سے بہت بار اپیل کی لیکن اب تک اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا ۔صارفین نے بتایا کہ وہ روزانہ ایک طویل مسافت طے کر کے جموں وکشمیر بینک شاخ میں کئی گھنٹوں تک اپنی باری کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ حکام سے رجوع کرنے کے بعد بھی علاقہ میں اے ٹی ایم مشین جیسی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں روزانہ اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔صارفین نے بتایا کہ مشکل ہو یا آسانی ان کو بینک شاخ میں ہر وقت اپنی باری کا انتظار کرنے کیلئے قطاروں میں کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ اگر کسی مریض یا زخمی کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے پیسے کی ضرورت ہو تو تب بھی ان کو قطاروں میں ہی لگ کر ہی بینک سے پیسوں کا بندوبست کرنا پڑتا ہے ۔ایک مقامی رہائشی نعیمہ کوثر کا کہنا تھا کہ انہوں نے جموں کشمیر بینک کے عہدیداروں سے کئی بار اس حوالے سے بات کی مگران کو صرف مایوسی ہی ملی ہے ۔انہوں نے کہا منڈی کے اے ٹی ایم یا بینک سے رقم حاصل کرنے کے لئے یہاں کی عوام کو تقریبا 16 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور وہاں پہنچ کے پورے دن لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ اتفاق سے ان کبھی باری آتی ہے تو کبھی خالی جیب گھر لوٹنا بھی پڑتا ہے۔ ایک مقامی سماجی کارکن الطاف بانڈے نے بتایا کی کچھ دن پہلے ، جموں و کشمیر بینک منڈی کے کچھ اعلی عہدیداروں نے ساوجیاں کے مقام پر بینک شاخ کے افتتاح کے لئے دورہ کیا اور وہاں کے لوگوں سے بات چیت بھی کی اور لوگوں نے انہیں حقیقی مسائل سے آگاہ بھی کیا لیکن کوئی بھی یقین دہانی نہیں دی گئی ۔مقامی لوگوں نے جموں و کشمیر بینک حکام و ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی ہے کہ ان کے علاقہ میں ایک اے ٹی ایم نصب کیا جائے تاکہ اس سرحدی علاقہ کی غریب عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔