سرینگر// نیشنل کانفرنس نے فرصل کولگام میں خاتون ایس پی او کو بار بار ہراساں کرنے کیخلاف آواز اُٹھانے پر نوکری سے برطرف کرنے اور عسکریت کو بڑھاوا دینے کے الزام میں گرفتار کرنے کی کارروائی کی مذمت کی ۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار اور ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی نے اپنے مشترکہ بیان میں پولیس کارروائی کو بلاجواز اور انتقام گیری پر مبنی قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ صائمہ کا جرم صرف یہ ہے کہ اُس نے پولیس کی طرف سے بار بار اُس کے گھر میں تلاشیوں کیخلاف آواز اٹھائی ۔ اگر صائمہ واقعی عسکریت کو فروغ دینے میں ملوث تھی، تو مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے تک پولیس نے اس کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ پارٹی لیڈران نے کہا کہ کل ہی ایک وائرل ویڈیو میں حکمران جماعت کے غنڈے ایک پولیس افسر کی مارپیٹ کررہے ہیں لیکن اُن مارپیٹ کرنے والوں کیخلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن کشمیر میں صرف بار بار تلاشیوں پر اعتراض جتلانے پر یوپی اے پی کا اطلاق عمل میں لانا، نوکری سے برطرف کرنا اور جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ پارٹی لیڈران نے کہا کہ ایسے اقدامات سے ہی حکومت کے بیٹی بچائو اور بیٹی پڑھائو کے نعرے کھوکھلے ثابت ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صائمہ کو فوری طور پر رہا کرنے کے علاوہ اُس کی نوکری بحال کی جائے کیونکہ وہ اپنے گھر کی واحد کمائو ہے اور ساتھ ہی ان اہلکاروں اور افسران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جنہوں نے صائمہ اختر کو جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔