جموں//لفٹینٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے سول سیکریٹریٹ میں کشمیر ڈویژن میں بجلی کی صورتحال کا جائیزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ منعقد کی ۔ میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکٹر کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ ، چیف انجینئر کے پی ایس سی ایل ( کشمیر ) ، چیف انجینئر پروجیکٹس ، چیف انجینئر ٹرانسمیشن اور مختلف ونگوں کے سپرنٹنڈنٹ انجینئروں نے ورچول موڈ کے ذریعے شرکت کی ۔ مشیر نے افسران سے کشمیر ڈویژن میں بجلی کی غیر متوقع کٹوتی اور بجلی کی فراہمی میں خلل کے بارے میں تفصیلات طلب کیں اور انہیں ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں تدابیر اختیار کریں ۔ انہوں نے انہیں ہدایت دی کہ بجلی کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے اور لوگوں کو بجلی کی کٹوتیوں کے بارے میں پہلے سے آگاہ کیا جائے ۔ انہوں نے سپر انٹنڈنٹ انجینئروں کو ہدایت دی کہ وہ صارفین کے ساتھ روزانہ شیڈول شئیر کریں اور گرمیوں کے نئے شیڈول کا فوری اعلان کریں ۔ اس کے علاوہ عوام کی طرف سے باقاعدہ آراء کو بھی طلب کریں اور حقیقی شکایات کے ازالے کو اپنا شیڈول بنائیں ۔ مشیر نے پی ڈی ڈی افسران کو ہدایت دی کہ ہر جگہ بندش کی وجوہات اور محکمہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی وضاحت کرنے کیلئے روزانہ بلٹین جاری کریں اور اس کو سوشل میڈیا اور محکمہ اطلاعات کے ساتھ شئیر کیا جائے ۔ مشیر نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر’’ سحری اور افطاری ‘‘ کے دوران صارفین کو بلا خلل بجلی کی فراہمی کی سخت ہدایات دی ہیں ۔ انفورسمنٹ ڈرائیوز اور معائینہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مشیر نے ہدایت دی کہ سپرانٹنڈنٹ انجینئرز اور ایگزیکٹو انجینئرز دورے کریں اور معائینہ کریں تا کہ عملے کے کام کاج کو یقینی بنایا جا سکے ۔ ادھر سرینگر ضلع میں افطاری اور سحری کے اَوقات میں بجلی کی فراہمی میںغیر معقولیت کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر بمنہ اور اسسٹنٹ انجینئر زکورہ کو ہیڈ آفس کیساتھ منسلک کرنے کا حکمنامہ جاری کیا۔کے پی ڈی سی ایل کے اَفسران اُس وقت تک منسلک رہیں گے جب تک کہ اس معاملے پر تفصیلی تفتیش نہیں کی جائے گی۔یاد رہے کہ افطار اور سحری کے اوقات میں بجلی کی فراہمی میں رُکاوٹوں کے بارے میں متعدد عوامی شکایات ان علاقوں سے موصول ہوئی تھیں۔ منیجنگ ڈائریکٹرکے پی ڈی سی ایل اور چیف انجینئر ڈسٹری بیوشن کشمیر کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ بجلی کی فراہمی کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور وہ بغیر کسی رُکاوٹ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔