ڈوڈہ //وادی چناب میں بجلی کے شدید بحران سے عوامی و سرکاری کام کاج بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے ۔سیول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ہزاروں میگاواٹ بجلی تیار کرنے والے خطہ میں چراغ تلے اندھیرا ہے۔ ادھر ڈی ڈی سی ممبر کاہرہ نے بجلی کی ناقص کارکردگی کو لے کر ایک دستخطی مہم شروع کی ہے جس میں حکومت کو 'بجلی دو کرایا لو''بجلی نہیں کرایا نہیں'کی پالیسی لاگو کرنے کی اپیل کی جارہی ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے سیاسی و سماجی کارکن ریاض احمد زرگر نے کہا کہ وادی چناب کے تینوں اضلاع (ڈوڈہ، کشتواڑ ،رام بن) میں ایک درجن کے قریب چھوٹے و بڑے پن بجلی پروجیکٹ موجود ہیں جن سے ہزاروں میگاواٹ بجلی تیار ہوتی ہے اور مرکزی و یوٹی حکومتوں کو کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو بجلی اور نہ ہی روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔ زرگر نے کہا کہ اس بجلی سے پچاس فیصدی رقم خطہ کی ترقی و خوشحالی پر خرچ ہونا چاہیے تھا اور اس کے ساتھ ساتھ چوبیس گھنٹے بجلی کم داموں پر دستیاب رہنی چاہیے تھی لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ ونے ٹھاکر نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے چیئرمین نے کہا کہ 33 کے وی میں خرابی آنا ایک معمول بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہمارا وجود ہوا ہے تب سے 33 کے وی میں فالٹ کے بارے میں سنتے آئے ہیں لیکن اس کی مرمت کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کو بجلی کی آنکھ مچولی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈی ڈی سی ممبر کاہرہ معراج الدین ملک نے بجلی کی ناقص کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ نہ صرف عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں بلکہ سرکاری اداروں و باالخصوص ہسپتالوں میں وقت پر بجلی دستیاب نہ رہنے کی وجہ سے مریض بھی متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اثر و رسوخ کی بناء پر غریب و مزدور طبقہ کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ملک نے کہا کہ ایک بلب و دس بلب جلانے والے کو برابر کرایا وصول کیا جاتا ہے ۔ڈی ڈی سی ممبر نے کہا کہ رمضان کا مہنا ہوں یا نہ ہو بجلی کا کوئی شیڈول مقرر نہیں ہے۔ انہوں نے بطور احتجاج اپنے کاہرہ حلقہ سے ایک دستخطی مہم شروع کی جس میں پہلے ہی روز بھاری تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔ اس مہم میں حکومت پر یہ دباؤ بنایا جارہا ہے کہ بجلی دو کرایا لو اور بجلی نہیں کرایا نہیں کی پالیسی لاگو کی جائے۔معراج ملک نے کہا کہ اس معاملہ پر وہ وادی چناب کے دیگر ممبران کے ساتھ بھی مشاورت کرکے اس بات کے لئے قائل کریں گے کہ وہ وہ بجلی کی ناقص کارکردگی کو لے کر ایک سخت قدم اٹھائیں.