لندن //دنیا کے متعدد ممالک اگرچہ کووڈ وبا کی حالیہ لہر کے تباہ کن اثرات کے زیر اثر ہیں وہیں ایشیا کا ایک چھوٹا سا جزیرہ اس وبائی امراض سے دور ایک بہترین جگہ بن کر ابھرا ہے۔کووڈ کے خلاف مدافعت کے معاملے میں رواں ہفتے سنگاپور بلومبرگ کووڈ ریزیلی ئنس رینکنگ سرفہرست رہا اور اس نے کئی مہینوں تک سرفہرست رہنے والے ملک نیوزی لینڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس درجہ بندی کی تیاری میں کئی چیزوں پر نظر رکھی جاتی ہے جن میں کووڈ کیس کی تعداد سے لے کر نقل و حرکت کی آزادی تک شامل ہیں۔بلومبرگ نے نیوزی لینڈ کے اس درجہ بندی میں پیچھے جانے اور سنگاپور کے آگے آنے کی وجہ ویکسینیشن پروگرام بتایا ہے کیونکہ سنگاپور کے موثر ویکسینیشن پروگرام کے مقابلے نیوزی لینڈ میں یہ سست روی کا شکار رہا۔حالیہ مہینوں میں کووڈ کے کیسز میں چھوٹے موٹے اضافے، جن پر تیزی سے قابو پا لیا گیا، یہاں روزانہ تقریباً نئے متاثرین کی تعداد صفر ہے۔ بہر حال رواں ہفتے کئی نئے کیسز سامنے آئے اور فوری طور پر اس کے لیے پابندیاں عائد کی گئیں۔سخت سفری قوانین اور بارڈر سکیورٹی کا مطلب یہ ہے کہ باہر سے آنے والے کیسز کو روکا جا سکے۔ اس کے لیے باہر سے آنے والوں کو فوری طور پر قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔سال کے آغاز سے آبادی کے 15 فیصد افراد کو مکمل طور پر ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار جزوی طور پر ایک چھوٹی سی آبادی کی وجہ سے ہیں کیونکہ یہاں آبادی محض 60 لاکھ ہے اور یہاں ویکسینیشن کے پروگرام کو اچھی طرح چلایا گیا ہے۔ حکومت پر لوگوں کو بھروسہ اور ویکسین کے متعلق ہچکچاہٹ میں کمی آ رہی ہے۔