سرینگر // جموں وکشمیر سرکارنے سبھی 20 اضلاع میں 60گھنٹے کا ہفتہ وار ’ کورونا کرفیو‘ نافذ کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔کورونا کرفیو کا دورانیہ ہر ہفتے جمعہ شام7 بجے سے ہر پیر کی صبح 7 بجے تک رہے گا۔ان احکامات کا اطلاق 2مئی سے ہوگا اور کوئی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائیگی۔کورونا کرفیو کے دوران کسی بھی قسم کی پیدل یا گاڑیوں کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی البتہ لازمی سروس اس پابندی سے مستثنیٰ ہونگی۔جموں کشمیر میں تعلیمی اداروں کی بندش میں 31 مئی تک توسیع کردی گئی ہے۔ سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ"کوئی ڈپٹی کمشنر یا کوئی ماتحت مجسٹریٹ ، ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کے بغیر کنٹینمنٹ زون کے باہر ، کوئی مقامی لاک ڈاؤن نافذ نہیں کرے گا۔چیئر پرسن اسٹیٹ ایگزیکٹو کمیٹی چیف سکریٹری بی وی آر سبھرامنیم کی طرف سے جاری احکامات کے مطابق"جموں و کشمیر میں تمام یونیورسٹیاں ، کالج اور تکنیکی / ہنرمند ترقیاتی ادارے 31مئی تک بند رہیں گے،طلبا کو کیمپس / ذاتی حیثیت سے تعلیم فراہم کرنے کے لئے بند رہیں گے ، سوائے ان کورس / پروگراموں کے جو تحقیق / مقالہ کا کام اور انٹرنشپ وغیرہ، لیبارٹری / اکاؤنٹ میں طلباء کی جسمانی موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے،ان تمام اداروں میں تدریس آن لائن موڈ میں ہوگی‘‘۔انہوں نے کہا کہ تمام اسکولوں ، کالجوں ، تکنیکی تعلیم اور پیشہ ورانہ اداروں کو عملے کے کسی ممبر کی ذاتی طور پر حاضری کی ضرورت نہیں ہوگی۔’’تدریسی عملہ صرف اپنے گھروں سے ہی آن لائن کلاسز کا انعقاد کرے گا، متعلقہ محکمے اس سلسلے میں رہنما اصول جاری کریں گے‘‘۔تاہم تعلیمی اداروں کے ایسے عملے کو جو متعلقہ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو سرکاری فرائض کے لئے درکار ہیں ، اس آرڈر کے سبب فرائض سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تمام پیڈپبلک پارکس 31 مئی تک بند رہیں گی۔ ‘‘جموں و کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ (میٹاڈار / منی بسیں / بسیں وغیرہ ) کو اس کے بیٹھنے کی مجاز صلاحیت کا صرف 50فیصد پر چلنے کی اجازت ہوگی۔ ضلعی سپر انٹنڈنٹ پولیس اس سلسلے میں تعمیل کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بڑے مارکیٹ کمپلیکس ، بازاروں اور بلدیات کی حدود اور شہری بلدیاتی حدود میں موجود مالز میں صرف 50 فیصد دکانیں متبادل نظام پر گردش کے نظام کے ذریعہ کھولی جائیں گی۔ "تمام اضلاع کے ضلعی مجسٹریٹ مقامی مارکیٹ ایسوسی ایشن کے مشورے سے ترجیحی طور پر اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے ایک طرز وضع کریں گے۔"انہوں نے کہا کہ اجتماعات / تقریبات میں شرکت کرنے کی اجازت دہندگان کی تعداد پر زیادہ سے زیادہ حد جنازے کی صورت میں 20 اور دیگر اقسام کے اجتماعات کے لئے 50 ہو گی چاہے وہ گھر کے اندر ہوں یا بیرونی مقامات پر ہوں۔جموں و کشمیر جانے والے تمام مسافروں کی لازمی جانچ کے لئے موجودہ گائڈ لائنز اور ایس او پیز کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ "ہر ایک کو لازمی طور پر CoVID-19 ٹیسٹ دینا پڑے گا جیسا کہ استعمال میں پروٹوکول کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اگر ضروری ہو تو اسے قرنطین کیاجائیگا۔
۔6مئی تک کورونا لاک ڈائون
مزید 6اضلاع تک توسیع کی گئی
بلال فرقانی
سرینگر//کورونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت کے بعد جموں کشمیر انتظامیہ کی جانب سے سنیچرکی شام4 اضلاع میں کورونا کرفیو میں توسیع کے بعدوادی اور راجوری اضلاع تک اس کو توسیع دی گئی۔جموں کشمیر انتظامیہ نے سنیچر کی شام سرینگر ،بڈگام ، بارہمولہ اور جموں اضلاع میں موجودہ لاک ڈائون پیر کی صبح 7بجے کے بعد 6مئی تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔اتوار کو ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ، کولگام، پلوامہ ،کپوارہ اور گاندربل کے علاوہ راجوری نے متعلقہ اضلاع میں 6مئی تک لاک ڈائون میں توسیع کرنے کے بارے میں احکامات دیئے۔ متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کی جانب سے احکامات صادر کئے گئے ہیں کہ ان اضلاع میں تا حکم ثانی کورونا کرفیو نافذ العمل رہے گا۔سبھی اضلاع کے ضلع ترقیاتی افسران نے اس ضمن میں الگ الگ نو ٹیفکیشن جاری کئے۔وادی میں بانڈی پورہ اور شوپیان میں لاک ڈائون میں توسیع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اس دوران سخت بندشوںکے تیسرے روز اتوار کو پورے جموں کشمیر میں معمول کی عوامی ،کاروباری ،تعلیمی اورانتظامی نوعیت کی سرگرمیاں مفلوج رہیں ۔سرینگر اور جموں کے شہروں کے علاوہ دیگر قصبوں، ضلع و تحاصیل صدر مقامات میں ہو کا عالم رہا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بند رہی جبکہ تمام تجارتی مراکز اور دکانیں لگاتار مقفل رہیں اس کے ساتھ ساتھ ریستوران ، ہوٹل اورگیسٹ ہاو س بھی تالہ بند رہے ۔ صرف لازمی اور ایمرجنسی خدمات کو پابندیوں سے باہر رکھا گیا تھا ۔ کورونا کرفیو کی وجہ سے سڑکوں اور کاروباری اداروں کو بند کرکے لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔
سرینگر اور لکھن پور ریڈ زون قرار، دیگر 19اضلاع نارنگی زون زمرے میں
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر سرکار نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر 20اضلاع کو مختلف زونوں میں تقسیم کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے اور سرینگر شہر کو ریڈ زون میں شامل کرنے کے علاوہ دیگر 19اضلاع کو آرینج زون میں رکھا گیا ہے۔ گرین زون کے زمرے میں کسی بھی ضلع کو نہیں رکھا گیا ہے۔ جموں و کشمیر سرکار نے اتوار کو اپنے ایک حکم نامہ زیر نمبر 26-JK(DMRRR) سال 2021بتاریخ2مئی میں لکھا ہے کہ ڈویژنل کمشنر کشمیر ، فائنانشل کمشنر صحت اور طبی تعلیم اور دیگر افسران کی ایک جائزہ میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی موجود صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور نئے کیس سامنے آنے کے معاملات پر بھی غور و خوض ہوا ۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جائزہ میٹنگ کے دوران تمام اضلاع میں طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے دوران کیسوں میں اضافہ سے نپٹنے کیلئے محکمہ صحت کی صلاحیتوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے تمام صورتحال کاجائزہ لینے کے بعد ایگزیکٹیو کمیٹی نے ڈزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کی دفعہ24کا استعمال کرکے جموں و کشمیر کے تمام اضلاع کو ریڈ، آورینج اور گرین زون میں تقسیم کیا ہے۔ حکم نامہ میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر ضلع اور جموں سرینگر شاہراہ پر لکھن پور کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ دیگر 19اضلاع میں آرینج(Orange) زون میں رکھا گیا ہے۔
خلاف ورزی کرنیوالے629افراد پر جرمانہ عائد
بلال فرقانی
سرینگر// پولیس کا کہنا ہے کہ کورونا کی زنجیر توڑنے کے لئے دفعہ144کا نفاذ سختی کیساتھ نافذ کیا جارہا ہے۔پولیس نے بتایا کہ وادی میں کورونا سے متعلق معیاری عملیاتی طریقہ کار اور رہنما خطوط کے علاوہ بندشوں کے نفاذ کو بھی یقینی بنانے کیلئے اقدمات اٹھائے گئے ہیں۔ گزشتہ24گھنٹوں کے دوران معیاری عملیاتی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی پاداش میں13افراد کو حراست میں لیا گیا،جبکہ14کیس درج کرکے629افراد سے77ہزار131روپے کا جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔ اس دوران وادی بھر میں 12گاڑیوں کو بھی ضبط کیا گیا۔ لوگوں سے درخواست کی گئی کہ وہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے جاری کردہ معیاری عملیاتی طریقہ کار اور ضوابط پر عملدرآمد کریں۔