سرینگر //کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں ہر روز بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔عملیاتی طریقہ کار کے مطابق کورونا مثبت افراد کو الگ تھلگ کیا جانا لازمی ہے کیونکہ وائرس منتقل ہونے کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے۔پچھلے سال کے مقابلے میں امسال کورونا کی دوسری لہر انتہائی قہر ڈھا رہی ہے۔روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ کیسز سامنے آرہے ہیں اور ریکارڈ اموات بھی ہورہی ہیں۔پوری وادی میں وائرس پھیل گیا ہے اور اسکی زد میں ہر ایک بستی آتی جارہی ہے۔بستیوں سے جنازے اٹھ رہے ہیں اور آہ و بکاہ ہورہی ہے لیکن اپنے پیارے ان جنازوں کا حصہ بننے سے قاصر ہیں۔جدھر بھی نظر ڈالی جائے ماسک پہنے لوگ دکھائی دے رہے ہیں،لیکن کئی لوگ ماسک کے بغیر بھی اتنہائی جہالت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔لوگ بڑی تعداد میں ٹیسٹ کرارہے ہیں اور اسی تعداد میں پازیٹیو کیسز میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ جس کا ٹیسٹ پازیٹیو آتاہے اس کے چہرے پر مایوسی کے بادل چھا جاتے ہیں اور جس کا ٹسٹ منفی آتا ہے لازمی طور پر وہ پازیٹیو والے شخص سے دور بھاگ جاتا ہے ۔کورونا کے خوف نے ہر شخص کو مبتلا کردیا ہے۔گھر سے باہر آنے کو ڈر محسوس ہونے لگا ہے۔حقیقی معنوں میں ہر سمت وائرس کی موجودگی محسوس ہورہی ہے۔سینکڑوں افراد کے سبھی اہل خانہ کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان لوگوں کی حالت انتہائی خراب ہوچکی ہے جو گھر کے واحد کمائو ہیں اور جو اس بیماری کا مقابلہ کررہے ہیں۔کئی لوگوں کے والدین یا اقرباء اسپتالوں میں ہیں اور وہ اپنی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال کر انکی تیمارداری کررہے ہیں۔کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین یا اپنے پیاروں کے جنازوں میں شریک نہیں ہوسکے کیونکہ وہ خود اسپتالوں میں پڑے رہے۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر سے لوگوں کی نفسیاتی سوچ بری طرح اثر انداز ہونے لگی ہے۔ایک معروف معالج نے بتایا کہ پچھلے ایک ماہ سے انہیں ان بیماروں کی طرف سے لگاتار فون آرہے ہیں جو اب نفسیاتی یا دماغی امراض سے ٹھیک ہوچکے تھے۔انکا کہنا ہے کہ کورونا کیسز کی بڑھتی تعداد سے لوگوں میں نفسیاتی امراض میں اضافہ ہونا قدرتی امر ہے اور ایسا ممکن ہے کہ آنے والے ایام میں ایسے مریضوں مین اضافہ ہو۔انکا کہنا ہے کہ صورتحال واقعی ایسی ہے کہ لوگوں کے دل وماغ پر اس کے گہرے اثرات پڑنے کا قومی امکان ہے۔لوگ حد درجہ خوف زدہ ہوچکے ہیں اور ان میں نیند کی کمی بھی محسوس ہونے لگی ہے۔معالجین کا کہنا ہے کہ کورونا مثبت آنے والے شخص کو سپورٹ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور اسکے لئے کمرے میں ہی اسکی پسند کی تفریح کا سامان رکھا جانا چاہیے تاکہ وہ کسی طرح محو رہے۔انکا کہنا ہے کہ ڈر اور خوف کے ماحول میں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کورونا کو آسانی کیساتھ شکست دی جاسکتی ہے لیکن اسکے لئے ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق عمل کرنا لازمی ہے۔جموں کشمیر میں حکومت کی جانب سے آکسیجن کی وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں لیکن پھر بھی آکسیجن کی فراہمی کو سہل اور آسان بنانا ہوگا۔ادویات میں اگر ذرا سی بھی تاخیر ہوئی تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔جموں کشمیر میں محکمہ صحت کا بنیادی ڈھانچہ اتنا مضبوط نہیں کہ ہر روز ہزاروں نازک کورونا معاملات کو دیکھ سکے۔ ملک کی راجدھانی کا ہیلتھ سسٹم اگر کورونا مریضوں کی بھر مار دیکھ کر جواب دے تو جموں کشمیر جیسی چھوٹی ریاست کا حال ہی الگ ہوگا۔