بانہال //محکمہ دیہی ترقیات پر ازل سے ہی رشوت خوری کے الزامات لگائے جارہے ہیں اور تعمیر و ترقی کے باب کو گھر گھر اور گائوں گائوں پہنچانے کے نعروں ، پنچایتی راج اور ڈیجیٹل طریقے کار کی چکا چوند کے بیچ محکمہ دیہی ترقی ضلع رام بن مبینہ رشوت خوری کی زد میں ہے اور دیہی اور غریب لوگوں کی تعمیر ترقی اور روزگار کیلئے قائم اس محکمے پر ہر تعمیراتی کام پر کمیشن لینے ، کام کئے بغیر ہی مبینہ طور رقومات نکالنے اور سرکاری سکیموں کو عملانے کے عوض مستحق لوگوں سے کمیشن لینے کے سنگین الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ ضلع رام بن کے پنچایتی نمائندے اور متعلقہ لوگ محکمہ دیہی ترقیات کے اندر تعمیراتی کاموں کے عوض کمیشن خوری کی وجہ سے تنگ آئے ہیں اور رقومات کی واگذاری میں کی جارہی تاخیر سے یہ لوگ محکمہ دیہی ترقی اور پنچایتی راج سے ہی اکتا گئے ہیں۔ پنچایتی راج اور محکمہ کے کام کاج کوآن لائین کرنے کے بعد عام لوگوں کو غریبوں کے اس محکمے میں انصاف اور شفافیت کی امید تھی لیکن زمینی سطح سے جو کہانی سامنے آرہی ہے وہ اس کی نفی کر رہی ہے اور رشوت خوری کو سماج سے ختم کرنے کے تمام تر دعووں کے باوجود ضلع رام بن کے تقریبا ًتمام گیارہ دیہی ترقیاتی بلاکوں میں نچلے درجے پر ملازمین کی مبینہ رشوت خوری پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ ضلع رام بن کے بانہال ، رامسو ، کھڑی ، اکڑال پوگل پرستان ، گاندھری ، گول ، گندی داڑم اور راج گڑھ کے پنچایتی نمائندوں کی کثیر تعداد نے الگ الگ رابطے پر کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گائوں دیہات کی پنچایتوں میں محکمہ دیہی ترقیات کے ذریعے کرائے جارہے بیشتر سرکاری سکیمیں اور تعمیراتی کام محکمہ کے فیلڈ عملے ، انجینئرنگ ونگ اور پنچایتی راج کے کچھ افراد کیلئے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور ہر تعمیراتی کام کے عوض رقومات کے مبینہ کمیشن کا اثر براہ راست پنچایتوں میں ہورہے تعمیراتی کاموں پر پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیجے کے طور پر کئی کام یا تو زمینی سطح پر بنتے ہی نہیں ہیں یا غیر معیاری بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقیات کے فیلڈ عملے کی مبینہ کمیشن کی مانگ سے منریگا اور ایف سی 14 اور ایف سی 15 کے تحت کام کرنا ان کیلئے اب ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ کمیشن نہ دینے کی وجہ سے محکمہ کی ٹیکنیکل ونگ کی طرف سے بلیں ہی تیار نہیں کی جاتی ہیں اور کووڈ انیس اور رمضان کے مقدس مہینے میں بھی ضلع بھر کے سینکڑوں لوگوں کی لاکھوں روپئے کی رقومات محکمہ آر ڈی ڈی سے واجب الادا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرپنچوں اور پنچایتی سیکریٹری کو رقومات کی واگذاری کیلئے مجاز بنائے جانے کے ڈھکوسلے کے باوجود بھی پنچایتی نمائندوں کو محکمہ دیہی ترقی نے اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اور دیہی ترقیات کے ملازمین کی طرف سے پنچایتی نمائندوں کے ساتھ من مرضی اور عدم تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلع رام بن کے گیارہ بلاک ترقیاتی کونسل کے چیئرمینوں کی اکثریت نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ محکمہ دیہی ترقی میں نچلی سطح کے ملازمین پیسے کے بغیر کوئی بھی کام کرنے کیلئے راضی ہی نہیں ہیں اور پرائم منسٹر آواس یوجنا ، منریگا اور فائنانشل کمیشن 14 اور پندرہ کے تحت کئے گئے کاموں کی بلیں تیار کرنے اور رقومات واگزار کرنے کیلئے کھلے عام سرپنچوں ، پنچوں اور عام لوگوں سے کمیشن طلب کیا جارہا ہے اور سینکڑوں لوگوں کی رقومات ادا ہی نہیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی بلاکوں میں پی ایم اے وائی سکیم میں غریب اور مستحق افراد کی رجسٹریشن اور بعد میں جیو ٹیکنگ کیلئے بھی کئی ناعاقبت اندیش ملازمین رقومات وصول چکے ہیں جبکہ پرائم منسٹر اندرا ٓواس سکیم کے تحت تعمیر مکانوں کی تیسری اور دوسری قسط محض کمیشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مبینہ طور روک کے رکھی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن کی درجنوں پنچایتوں میں کئے گئے تعمیراتی کاموں پر بیس سے پچاس فیصد تک کی رقومات محکمہ کے ملازمین ہی دبا جاتے ہیں اور منریگا کی رقومات کو اپنے رشتہ داروں کے بنک کھاتوں میں بھی منتقل کیا جانا معمول بنا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بہت سارے پی ایم اے وائی مستحقین کی رقومات دوسرے افراد کے بنک کھاتوں میں ڈالی گئی ہیں اور اس لاپرواہی یا جان بوجھ کر کی گئی غلطیوں کے پیچھے سرکاری رقومات کو ہڑپ کرنا بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور محکمہ کے ملازمین کے اس گورکھ دھندے میں کئی پنچایتی نمائندے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن خوری کی انتہا یہ ہے کہ کام کے بنا بھی بلیں تیار کرکے نکالی جاتی ہیں جبکہ بنا کمیشن کی بلیں اور مکانوں کی قسطیں مبینہ کمیشن نہ ملنے کی وجہ سے مسلسل التوا میں رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاک ترقیاتی چیئرمین عوام کو جواب دہ ہیں مگر ان کی نوٹس میں لائے بغیر ہی محکمہ کے ملازمین تعمیراتی کاموں کو انجام دیتے ہیں اور ایک بی ڈی سی چیئرپرسن کو صرف ابتدائی دنوں میں دستخط وغیرہ کی لوازمات تک ہی محدود رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن میں تعینات بیشتر بی ڈی اوز KAS افسر ہیں اور ایمانداری اور لگن سے کام کرنے کے متمنی ہیں لیکن محکمہ میں موجود راشی ملازمین کی تنگ طلبی کے آئے روزکے واقعات پر بیشتر پنچایتی نمانئیندے پنچایتی راج کا حصہ بننے پر اپنے فیصلے پر پشیمان ہیں۔ انہوں نے نے عید سے پہلے پہلے بقایا رقومات واگذار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یہ تمام معاملہ جب ACD رام بن ضمیر احمد ریشو کی نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ رقومات کی ادائیگی کیلئے سرپنچ اور پنچایتی سیکریٹری براہ راست ذمہ دار ہیں اور منریگا کے نیشنل اکاونٹ سے ان کے کھاتوں میں براہ راست رقومات آتی ہیں اور بیشتر رقومات کو واگزار بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے محکمہ میں رشوت خوری کے بارے میں بتایا کہ ثبوتوں سمیت ایسی کسی بھی شکایت میں ملوث ملازمین کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی اورعام لوگ ملازمین کی طرف سے کسی بھی بے ضابطگی یا شکایت کیلئے ان سے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقی میں شفافیت لانے کیلئے نچلے درجے کے ملازمین کو ایک بلاک سے دوسرے بلاک میں تبدیلی کا سلسلہ ڈپٹی کمشنر رام بن کی اجازت طلب کرنے کے بعد شروع کیا گیا ہے اور کسی ملازم کی غیرذمہ داری کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن کے محکمہ دیہی ترقی میں ملازمین کی شدید قلت کی وجہ سے معمول کا کام اور کاموں کی نگرانی اثرانداز ہورہی ہے اور 85 وی ایل ڈبلیوز کے مقابلے میں45 جبکہ 16 جونیئر انجینئروں کے مقابلے میں محض تین مستقل جے ای ہی تعینات ہیں جبکہ 17 ٹیکنیکل اسسٹنٹوں کی اسامیوں کے مقابلے میں گیارہ اور 143 جی ار ایس کے مقابلے میں 85 ہی تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے کاموں میں شفافیت لانا اور متعلقین کے مسائیل حل کو حل کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔