حسن اخلاق سے آراستہ قومیں ہمیشہ مستحکم اور ترقی یافتہ ہوتی ہیں۔اخلاق سے قومیں بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں چاہیے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ خَلق مطلب انسان کا ظاہر اور خْلق مطلب انسان کا باطن ۔ان دونوں یعنی خلق اور خْلق کا بہتر ہونا انسان کے لئے لازمی ہے کیونکہ یہ وہ وصف ہیں جو انسان کو احسن التقویم کا درجہ دیتے ہیں۔حسن اخلاق انسان کا زیور اور زینت ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی قوم کے وجود ،استحکام اور بقا کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا متفقہ طور پرمشترکہ باب ہے۔ اخلاق وہ روحانی غذا ہے جس کی بنا پر ایک قوی ،تندرست اور صلاحیتوں سے بھر پور قوم وجود میں آتی ہے کیوں کہ معاشرے کے بگاڑ اور بناؤ سے قوم براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے تاکہ اخلاقی اچھائیوں کو تمام وکمال تک پہنچاؤں۔مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کے اخلاق و معاملات کو درست کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسی باتیں ہیں جو سماج کو تباہ کر دیتی ہیں اور قوموں کو بگاڈ دیتی ہیں۔ جی ہاں وہ اخلاقی برائیاں ہیں جیسے تکبر ،ظلم ،غصہ ،نقل اتارنا،دوسروں کی مصیبت پر خوش ہونا ،جھوٹ ،فحش گوئی اور بدزبانی ،دو رخاپن ،غیبت ،ناجائز حمایت اور طرفداری ،بیجا تعریف ،جھوٹی شہادت ،بْرا مزاق ،وعدہ خلافی ،عیب چینی ،بلا تحقیق بات کو پھیلانا ،چغلی کھانا ، بد نگاہی اور حسد۔ جس قوم یا سماج میں لوگ متکبرانہ چال چلتے ہوں ،بدمعاش اور بدکار ہوں ،مال جمع کرنے والے اور بخیل ہوں یا جھوٹی شیخی بگھارنے والے لوگ ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ قوم ترقی نہیں تنزل کی شکار ہے ۔ظلم و زیادتی اور غصہ شیطانی خصائل ہیں ان سے پرہیز کرنا ضروری ہے ورنہ انسان قدرتی آفات کا مستحق اور شکار ہو جاتا ہے۔جھوٹ بولنا اب رواج بن گیا ہے ۔کوئی سچ بولے تو یقین نہیں ہوتا کیونکہ خود غرضی اور لالچ نے لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے اور وہ اپنا مطلب نکالنے کے لیے کسی بھی حد تک گر جاتے ہیں۔
دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیرہوجاتی ہے۔ یہ منظر ہم اِس وقت دنیا میں اپنے شرق و غرب میں نظر دوڑا کر دیکھ سکتے ہیں۔جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا، اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات،اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ جس ماحول یا معاشرے میں اخلاقیات کوئی قدر نہ رکھتے ہوں اور جہاں شرم و حیاء کے بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو اْس قوم اور معاشرہ کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔
آج ہمارے معاشرے میں وہ کونسی برائی ہے جو موجود نہیں ہے اور وہ کونسی خوبی ہے جو ہم میں موجود ہے۔ کشمیری مزاج اور میزبانی کے منفرد انداز کو دنیا بھر کے لوگ سراہتے تھے لیکن اب یہ مزاج بدل گیا ہے۔ اب ہمارے معاشرے میں بھی لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و زیادتی، فساد، کینہ ، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیا ت کے بازار، ہوس کے اڈے ، شراب خانے ، جوا ، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،زنا کاری، رشوت خوری، سود و حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، طمع، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، آخر وہ کون سا اخلاقی مرض اور بیماری ہے جو ہم میں نہیں۔ خود غرضی اور بد عنوانی و کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟
الغرض اخلاقی بگاڑ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوچکا ہے چاہیے وہ مسئلہ عبادات کا ہو یا حقوق و فرائض کا ،امانتداری ،دیانتداری ،صداقت ،عدل و انصاف ،ایفائے عہد وغیرہ وغیرہ ۔
زندگی گزارنے کے لئے ہمارے پاس اسوہ حسنہ آج بھی موجود ہے جو ہمیں انسانیت کے اعلیٰ درجے تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہے۔ایک حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں اصل مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز اللہ کے سامنے اس حال میں پیش ہوگا کہ اس نے نماز بھی ادا کی ہوگی ،روزے بھی پیہم رکھے ہونگے زکوٰۃ بھی ادا کی ہوگی ،غرض ہرقسم کی عبادت کی ہوگی لیکن اس کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ،بہتان لگایا ہوگا ،حق ماراہوگا ،خون بہایا ہوگا یا کسی کو پیٹا ہوگا۔ پھراللہ اسکی تمام نیکیوں کو ایک ایک کر کے ان مظلوموں میں بانٹ دے گا۔جب اس سے بھی حساب چکتا نہ ہو گا اور اس کی،نیکیاں حساب برابر ہونے سے پہلے ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کا ہونا بھی لازمی ہے۔اچھے اخلاق نہ صرف دنیا میں سرخ رو کرتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت ہیں ۔
انسانی جسم میں دو چیزیں ایسی ہیں جو خطرناک اور کمزور مقام ہیں جہاں سے شیطان کو حملہ کرنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے اور زیادہ تر گناہ ان ہی دو سے ہوتے ہیں۔ اور یہ دو چیزیں زبان اور شرمگاہ ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے گا وہ جنت کی ضمانت لے لے ۔ یہ جو ہم میں دورخا پن ابھر رہا ہے اس سے آپس میں رنجشیں پنپتی ہیں اور پھر آپسی دشمنیاں بھی۔یہ کوئی چھوٹا عیب نہیں ہے بلکہ بہت بڑا عیب ہے۔آجکل ایسے لوگوں کی تعداد اور اہمیت بڑھ رہی ہے جو ہجو اور مزمت کا قصیدہ پڑھ کر باہمی دشمنی کو ہوا دیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو سماج میں باہمی انحصار کے جذبے کو نفرت کے انگاروں پر راکھ بنا دیتے ہیں۔اگر ایسی شر انگیزی کا بر وقت علاج نہ کیا گیا یا سمجھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب بڑی بڑی قومیں بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔
غیبت کے بغیر ہماری باتیں ادھوری اور بے تکی ہو کے رہ جاتی ہیں۔یہ عیب اگر چہ عورتوں میں زیادہ پایا جاتا تھا لیکن اب مرد حضرات بھی بڑھ چڑھ کر غیبت اور چغلی کو فروغ دیتے ہیں۔اسی طرح عصبیت نے بھی ہماری قوم کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔میری اپنی قوم چاہیے وہ حق پر ہو یا باطل پر ہو کا نظریہ آپسی اتحاد کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیتا ہے اور خوشامدی کا روگ تو کسی زہر سے کم نہیں ہے۔ہم اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ دیکھ نہیں پاتی ہیں۔یعنی ہم اپنے اندر وہ صفات دیکھنے کے متمنی ہیں جن کا دور تک ہم سے واسطہ نہیں ہوتا۔یہ جھوٹی شان اور دکھاوا محض ایک گمان ہوتا ہے جس کا احساس ہمیں اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے ۔شرم و حیا اور احترام وشفقت کے جوہر نایاب ہوگئے ہیں۔اب ہم میں خام خیالی کا وہم موجود ہے نہ کہ انسانیت کے انمول نمونے۔
رابطہ۔قصبہ کھْل نور آباد، کولگام کشمیر