رام بن//’ کام عبادت ہے ‘ کمیونٹی ہیلتھ سینٹربٹوت میں پچاس سال کی عمر کا کورونا واریر اِرشاد احمد زرگرفارماسسٹ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ، جس نے گزشتہ ایک سال میں ایک بھی چھٹی کا فائدہ نہیں اُٹھایا ہے۔گزشتہ ایک سال سے وہ ہسپتال یا قرنطین مراکزکووِڈ ہیلتھ سینٹروں اور عوامی مقامات پر کووِڈ کے لئے نمونے لے رہے ہیں۔اِرشاداحمد نے کہا’’ اگرچہ کورونا انفیکشن کا بہت خطرہ لاحق ہے ، لیکن اَب تک میں اللہ کے فضل و کرم سے محفوظ ہوں۔‘‘ اِرشاد احمدکو ہسپتال میں دن کا معمول صبح 10 بجے سے پی پی ای کٹ دینے اور کووِڈ سیمپلنگ آر اے ٹی یا آر ٹی پی سی آر لینے کے ساتھ شروع ہوتا ہے جب کہ آپریٹر تھیٹر اور ایمرجنسی وارڈ میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں ڈاکٹر کی مددبھی کرتا ہے۔ شام کو پھر وہ نمونے ، کووِڈ ٹیگ کا بندوبست کرتا ہے اور ان کو منظم اور محتاط انداز میں پیک کرتا ہے۔وہ اپنی ٹیم کے ساتھ روزانہ اوسطا ً100 نمونے اور زیادہ سے زیادہ 200 نمونے جمع کرتا ہے۔اپنے قابل ، شائستہ ، شفقت مند اور مددگار طبع کے لئے جانا جاتا ہے ۔ وہ ہر ان پڑھ یا غریب شخص کے لئے ریکارڈ میں اپنا سیل فون نمبر لکھتے ہیں جس کے پاس سیل فون نہیں ہوتا ہے یا اس کا نمبر یاد رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کو ریکارڈ کر کے ٹیسٹ کا نتیجہ بھی پہنچا دیتا ہے۔شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو جب اسے ڈیوٹی پر جانے سے پہلے ڈسنگ ، انجکشن ، ڈرپ وغیرہ کے لئے محلے یا گاؤں کے کسی مریض سے ملنے نہ پڑتا ہو ۔ اُنہوں نے کہا ’’یہ سارا کام بہت ہی پیچیدہ اور تھکن کا باعث بنتا ہے کیوں کہ نہ صرف میرے مالکان بلکہ مقامی لوگوں کو بھی مجھ سے ہمیشہ سے ہی توقعات زیادہ رہتی ہیں کیونکہ میں ایک مقامی فرد ہوں۔‘‘ ارشاد نے کہا ’’ 2017 میں میرے والد اور 2019 میں والدہ کے انتقال کے بعد میری گھریلو ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے.‘‘ان کی خدمات کے اعتراف میںارشاد احمدکو گزشتہ سال یوم آزادی کی تقریب پر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ایک واقعہ کو یاد کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس مئی کے تیسرے ہفتے میں جب ایک دن اسے نمونہ لینے کے لئے ڈھلواس کورنٹائن سینٹر جانا پڑا ، وہ مسافر جو وہاں لائے گئے تھے اور انہیں پورے دن پی پی ای کٹ میں دہکتی دھوپ کے نیچے کھڑا ہونا پڑا۔ رمضان کے روزے کے دوران وہ پانی کی کمی کی وجہ سے شام کو گرنے ہی والا تھا لیکن پھر بھی اس نے اپنا روزہ نہیں چھوڑا۔انہوں نے کہا ، ’’میں اَپنا فرض اَدا کرتے ہوئے اَپنی جان کی قربانی دینے کے لئے بھی تیار ہوں کیوں کہ بیمار اور مصائب لوگوں کی خدمت کرنا میرا مذہبی فرض ہے اور میں ان کی مدد کرتے ہوئے بے حد اطمینان حاصل کرتا ہوں ۔‘‘ پنچایت لدھوال کے سابق سرپنچ جگدیش چند نے ارشاداحمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ذات پات اور نسل سے قطع نظر ، گاؤں میں دن رات مفت اور سب کی خدمت کرتا رہا ہے ۔محکمہ صحت میں ایسے ہمدرد فرد کا ہونا خوش قسمتی ہے۔‘‘