ڈوڈہ //یوٹی کے دیگر حصوں کی طرح ڈوڈہ ضلع میں پچھلے دو ہفتوں سے کورونا کرفیو نافذ ہے جس دوران سخت بندشیں عائد رہیں اور معمولات زندگی متاثر ہوئیں۔مسلسل بندشوں کے باعث نجی کاروباری ادارے و ٹرانسپورٹ نظام بھی ٹھپ رہا۔اس دوران سیکورٹی فورسز و پولیس کی بھاری نفری جگہ جگہ آج بھی تعینات رہی۔کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے نافذ کرفیو سے مزدور پیشہ افراد بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ڈوڈہ کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے کہا کہ تعمیری سرگرمیاں بند رہنے سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔محمد رفیع جو کہ پیشہ سے مستری ہیں نے کہا کہ کوؤڈ کے بحران کے دوران ہر طرح کی سرگرمیاں ٹھپ ہیں جس کے باعث وہ اپنے گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور روزگار کے وسائل چھن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں ان کا جینا محال بن گیا ہے۔امر چند نامی ایک مقامی کاریگر نے کہا کہ وہ فرنیچر کی دوکان کرتے ہیں لیکن مسلسل بندشوں سے دوکان بند ہے اور خرچہ و دوکان کا کرایہ بھی نہیں دستیاب ہے۔سیاسی و سماجی کارکن ریاض احمد زرگر نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مہلک وباء سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر لازمی ہیں تاہم اس بحران کے دوران مزدور پیشہ افراد کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے حکومت و انتظامیہ کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اور ان کے اہل خانہ فاقہ کشی سے بچ سکیں۔