سرینگر // جموں کشمیر میں ’ سیاہ فنگس‘ سے پہلی موت واقع ہوئی ہے۔ پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں ڈاکٹر ششی سدھن شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ’ کالے فنگس‘ کا پہلا کیس سامنے آیا ہے جس کی موت واقع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ششی نے بتایا کہ پونچھ سے تعلق رکھنے والے 40سالہ نوجوان کو 19مئی کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور تب سے اسکی حالت نازک بنی تھی اور جمعہ کی سہ پہر وہ فوت ہوگیا ۔ انکا کہنا تھا کہ مذکورہ مریض پچھلے دو روز سے زیر نگرانی تھا۔ انہوں نے کہا کہ مریض حال ہی میں کوویڈ19- میں مبتلا ہوکر اب ٹھیک بھی ہوا تھا لیکن اب شوگر(Diabetes) کی بیماری میں مبتلا ہوا تھا جس پر قابو نہیںہورہا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ بظاہرکورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد جب وہ مثبت آیا تو لمبے عرصے تک قوت بخش ادویات(Steriod Drugs) کے استعمال کی وجہ سے اسے کالا فنگس کی بیماری ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ کالا فنگس ان افراد کو نشانہ بناتا ہے جن کا معدافتی نظام کوویڈ کی وجہ سے کمزور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ زیادہ شوگر اور Steriodsکے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوا میں موجود فنگس ناک اور آنکھوں کے ذریعے دماغ اور سر کی ہڈیوں کو نقصان پہنچاتا ہے‘‘۔ڈاکٹر ششی نے بتایا ’’کینسر مخالف ادویات کھانے والے، جسمانی عضاء کی پیوندکاری سے گزرنے والے ، کیموتھرپی اورشوگر مریضوں میں متواتر طور پر زیادہ وقت تک ادویات کھانے کی وجہ سے معدافتی نظام کمزور ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصل میں ایک جدید قسم کی بیماری ہے جس کا فنگس ہمیشہ ہوا میںموجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ یہ وبائی بیماری نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری پہلے سے ہی موجود تھی اور اسلئے ادویات بھی دستیاب ہیں۔