سرینگر// عوامی مجلس عمل نے تنظیم کے بانی سربراہ میرواعظ مولوی محمد فاروق اورخواجہ عبدالغنی لون کو انکی قربانیوں کیلئے خراج عقیدت ادا کیا۔موصولہ بیان میں کہا گیا کہ 21 مئی1990 کی المناک تاریخ کو کشمیری ہرگز فراموش نہیں کرسکتے جب میرواعظ مولوی محمد فاروق کو ایک سازش کے تحت جاں بحق کیا گیا ۔بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ موجودہ المناک اور تکلیف دہ صورتحال ،کووڈ19 کی ہلاکت خیز لہر کے تناظر میں موصوف کو خراج عقیدت ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ مشکل اور آزمائش کے ان لمحات میں امداد باہمی کے عظیم جذبے کے تحت ضرورتمندوں ،کووڈ متاثرین، بیماروں اور غریبوں کی داد رسی اور خیر خواہی کیلئے صاحب خیر اور صاحب حیثیت افراد آگے آئیںاور بارگاہ خداوندی میں موجودہ بحران سے نجات کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کے مشن کو آگے بڑھانے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔بیان میں کہا گیا کہ تنظیم اپنے طور پر اور میرواعظ کشمیر کی زیر نگرانی دارالخیر کے پلیٹ فارم سے بھی ممکنہ طور پر دیگر ہم عصر فلاحی اور امدادی تنظیموں کے شانہ بشانہ امدادی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ ادھر محازآزادی کے سربراہ محمد اعظم انقلابی نے میرواعظ کشمیر مولانا محمد فاروق اور خواجہ عبدلغنی لون کو ان کی برسیوں پر خراج عقیدت پیش کیا ۔انہوں نے اس موقعہ پر اسیران کشمیر کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی نظربندوں کی صحت کافی حد تک بگڑ چکی ہے۔انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے خراج عقیدت ادا کیاہے۔ انہوںنے کہاکہ مولوی محمد فاروق کی کشمیر کے تئیںسیاسی و مذہبی خدمات نے اپنے اسلاف کی دینی مشعل کو روشن رکھا اور اپنی سیاسی بصیرت سے اُن خدشات سے آگاہ کیا جو آپسی تفرق ،نااتفاقی سے پیش آسکتے ہیں۔حقانی میموریل ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم میرواعظ مولانا محمد فاروق ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے دینی ، تعلیمی،سیاسی اور اصلاحی میدانوں میں بیش بہا خدمات انجام دیں ۔انہوں نے کہا کہ مرحوم کی گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم عبدالغنی لون کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی مسائل کو حل کرانے کی جدوجہد میں بحیثیت ایک تجربہ کار رہنما کے مرحوم لون نے اہم کردار ادا کیا۔