سوشل میڈیا کو پابند کرنے میںاگر حکومت کامیاب ہو گئی تو پھراس کی غلط پالیسیوں ، فیصلوں اور حکومت کے وفادار الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے غلط پرو پگنڈوں کو ظاہر کرنے اور ان کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی پلیٹ فارم باقی نہیں رہے گا ۔ حالانکہ سرکار جن بہانوں سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے ان میں کچھ حقیقت کے قریب بھی ہیں۔ سر کار کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہئے جس میں ٹویٹر ، واٹس ایپ ، فیس بک کے علاوہ ویب میگزین اور ویب چینلز بھی شامل ہیں۔
ایک ایسا بھی دور گزراہے جب اپنے ملک کی میڈیا کو دنیا میں عزت حاصل تھی۔ ملک کے اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی کی خبروں پر اعتبار کیا جاتا تھا۔ ایمرجنسی کے مختصر عرصے کو چھوڑ دیں تو خبروں پر کوئی پابندی نہیں رہی تھی۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں اتنا کچھ بدل گیا ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔اکثر ٹی وی چینل اور اخبارات کے مالکان وہی کارپوریٹ گھرانے ہیں جو حکومت کے زیرِ اثر ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ تر قومی ٹی وی چینل اور اخبارات نے موجودہ حکومت کی خو شنودی کو اپنا نصب العین بنا لیا ۔ ان ذرائع ابلاغ سے عوام وہی کچھ جان سکتے ہیں جو حکومت چاہتی ہے۔ بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے میڈیا دن رات فضول مدعے اٹھا کر اور بے مقصد کی بحثیں کراکر نہ صرف وقت برباد کرنے کا کام کرتا ہے بلکہ ہندو مسلم منافرت اور مندر مسجد کے جذباتی مدعوں میں الجھا کر اصل مسائل کی طرف توجہ ہی نہیں آنے دیتا۔ کچھ چینلوں نے ہندو مسلم منافرت پھیلانے کو ہی اپنا مقصد بنا رکھا ہے۔کرونا وباء کے بہانے تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا اس کی ایک بڑی مثال ہے جس کو لیکر عدالت نے بھی سوال اٹھائے تھے۔پچھلے دنوںسدرشن چینل کے ایک پروگرام ’ یو پی ایس سی جہاد‘ کے خلاف چل رہی سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھاکہ میڈیا کو اس کی آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ تفتیشی صحافت کے نام پر کسی ایک فرقے کو بدنام کرے۔ عدالت نے مختلف ٹی وی چینلوں پر ہونے والی بحثوں پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات صرف اینکر ہی بولتا رہتا ہے دوسرے لوگوں کو اپنا موقف رکھنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی یا ان کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے وزارت اطلاعات و نشریات کو نوٹس جاری کیا۔
چونکہ ایک دو چینل کو چھوڑ کر زیادہ تر چینل حکومت کے ایجنڈے کو ہی آگے بڑھاتے ہیں اور ہر مسئلہ پر حکومت کے بجائے اپوزیشن سے ہی سوال کرتے ہیںاور عوامی مسائل کے بجائے کسی ایکٹر کی نشے کی حالت میں کی گئی خود کشی جیسے معمولی واقعے کو لیکر کئی کئی مہینے عوام کو ا لجھائے رکھتے ہیں۔ لیکن حکومت اور حکمراں پارٹی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش سے غافل نہیں رہتے۔ سپریم کورٹ کے نوٹس کے جواب میں مرکزی حکومت نے چینلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کو نظم ضبط کا پابند بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے پاس اس سلسلے میں ضوابط ہیں اور وہ خود کو نظم ضبط کا پابند بناتا ہے۔ چونکہ حکومت چینلوں پر کسی مزید پابندی کی خواہش مند نہیں اس لئے سپریم کورٹ کے تبصرے کے بر عکس اپنے جواب میں حکومت نے سوشل میڈیا کو پابند بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ واٹس ایپ، ٹویٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارموں سے اطلاعات تیزی سے دوسروں تک پہنچ جاتی ہیں اور وائرل ہو جاتی ہیں۔ اپنی اس دلیل کے ساتھ حکومت نے ٹی وی چینلوں کو لگام دینے کے بجائے سوشل میڈیا کو نئے ضابطوں میں باندھنے میں تیزی دکھائی ۔جب تک سوشل میڈیا پر حکمراں جماعت کے آئی ٹی سیل کی پوسٹیں چھائی رہیں، حکمرانوں کی شبیہ چمکائی جاتی رہی، منافرت پھیلا کر ووٹ بینک مضبوط ہوتا رہا،حکومت کی توجہ سوشل میڈیا کی خامیوں پر نہیں گئی لیکن جب اس پر حکومت کی خامیاں سامنے لائی جانے لگیں ،سوال اٹھائے جانے لگے ،سرکار نے اس کو ضابطے میں لانے کی ضرورت محسوس کی۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار کی گنجائش نہیں ۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر حکومت کا کنٹرول نہیں ، اس لئے ابھی تک لوگ بے خوف ہو کر اس پر اپنی رائے کا اظہار کر تے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے نقصانات بھی عیاں ہیں۔ یہ استعمال کرنے والوں کی نیت پر منحصر ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی پر مبنی مسیج، تصاویر، اور ویڈیو لگاتار وائرل کئے جاتے رہے ہیں۔ طبقات کے بیچ منافرت بڑھانے اور تاریخی اور مذہبی شخصیتوں کی کردار کشی کی مہم چلائی جاتی رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو لیکرپھیلایا جانے والا نفرت انگیز مواد ہے۔ ایسے لوگوں کو سیاسی سر پرستی حاصل رہتی ہے۔ اس کے بر عکس حکمراں پار ٹی کے لیڈروں یا حکومت کے خلاف تنقید برداشت نہیں کی جاتی ،مقدمات درج کئے جاتے ہیں،جیل بھیج دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کو باقاعدہ قانون کے دائرے میں لانے کے لئے حکومت نے فروری میں نئے ضابطے بنانے کا اعلان کیا تھا اور ان کو نافذ کرنے کے لئے تین مہینے کا وقت دیا تھا۔ ان ضابطوں کے اہم نکات اس طرح ہیں؛
=سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ ہٹانے سے قبل پوسٹ کرنے والے شخص کو اس کی اطلاع دی جانی چاہئے اور وجوہات کی تفصیل سے آگاہ کیا جائے اوراسے اپنے موقف سے آگاہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔
=ایسی شکایت جس میں کسی شخص کو مکمل یا جزوی طور پر عریا ںظاہر کیا گیا ہو یا جنسی فعل کوظاہر کیا گیا ہو یا پھر جعلی تصاویر استعمال کی گئیں ہوں، شکایت موصول ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اسے پلیٹ فارم سے ہٹانا ہو گا۔
=سوشل میڈیا سا ئٹوں کی طرف سے کسی ہندوستانی شہری کو چیف آفیسر تعینات کیا جائے جو ہمہ وقت قانون نافذکرنے والی ایجنسیوں کے رابطے میں رہے۔ اسی طرح کسی ہندوستانی شہری کی تقرری شکایات کے متعلق ریذیڈینٹ آفیسر کی شکل میں کی جانی چاہئے۔
=ملک کی سا لمیت اور اقتدار اعلیٰ سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لئے سوشل میڈیا سائٹ کو ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہوگی جس سے کسی بھی معلومات کو سب سے پہلے شائع کرنے والے کی شناخت کی جا سکے۔
= حکومت کی جانب سے ، سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے یا پھر کسی عدالت کے حکم پر متنازعہ پوست کو حذف کیا جائے۔
=آن لائن پبلشر کو اپنے شائع شدہ میٹیریل کو یونیورسل سے ایڈلٹ تک پانچ زمروں میں تقسیم کرنا ہو گا۔ جو اس طرح ہیں ۔U( یونی ورسل ) ،U/A +7 ، U/A+13 ،U/A+16 ،اور A ( ایڈلٹ )
= جو پبلشر ڈیجیٹل میڈیا پر خبریں پبلش کرتے ہیں انھیں پریس کونسل آف انڈیا کے ضابطوں اور کیبل ٹی وی نیٹ ورک ریگولیشن ایکٹ کے تحت پروگرام کوڈ پر عمل کرنا ہو گا۔
اس میں آخری نکتہ بظاہر اس خوف کا عکاس ہے کہ حکومت کے دبائو میں جن بہت سے صحافیوں کو مین اسٹریم میڈیا سے نکال دیا گیا ہے اور انہوں نے سوشل میڈیا پر آکر اپنے چینل شروع کر دئے ہیں، ہر دن سرکار کی بخیاں ادھیڑتے رہتے ہیں، جیسے پرسون باجپائی یا ابھیسار وغیرہ۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم واٹس ایپ، ٹویٹر وغیرہ حکومتوں کی خوشامد نہیں کرتے نہ ان کے ایجنڈے آگے بڑ ھانے کے پابند ہیں۔ سوشل میڈیا نہ صرف الیکٹرانک میڈیا کے پھیلائے گئے جھوٹ کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ حکومت کے غلط فیصلوں، پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور ناکامیوں کو اجاگرکرتا ہے۔ اس سے دنیا بھر کی حکومتیں پریشان رہتی ہیںاور سوشل میڈیا کے دبائو میں حکومتوں کو اپنے فیصلے تبدیل کرنے تک کی نوبت آجاتی ہے۔
سوشل میڈیا کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کرنے والا صرف اپنا ملک ہی نہیں ہے۔ دوسرے بہت سے ممالک میں حکومتوں نے قانون نافذ کئے ہیں۔ آسٹریلیا میں 2015 میں ، یوروپین یونین میں2016 میں، روس، چین اور جرمنی میں 2019 میں سوشل میڈیا کے لئے قانون بنائے جا چکے ہیں۔پڑوسی ملک پاکستان میں بھی سوشل میڈیاپر کئی طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں لیکن ہمارے ملک کا معاملہ کچھ الگ ہے ۔یوں تو ہر قانون ملک کے مفاد میں ،ملک کی سا لمیت کی خاطر یا عوام کی فلاح بہبودکے لئے بنایا جاتا ہے لیکن بہت سے قانون اپنے غلط استعمال کے لئے بدنام ہیں مثلاً ٹاڈا ، پوٹا، این ایس اے وغیرہ۔حالانکہ کچھ سائٹوں جیسے واٹس ایپ اور فیس بک نے عدالت میں مقدمات بھی دائر کئے ہیںلیکن اس کا شائد ہی کوئی نتیجہ نکل سکے ۔نافذ کئے جا رہے موجودہ قوانین سے متعلق بھی یہی اندیشہ ہے کہ ان کا استعمال لوگوں میں خوف پیدا کر کے ان کی اظہار کی آزادی کو محدود کرنے میں کیا جائے گا اور حکومت ان کا استعمال خود پر سوال اٹھائے جانے یا تنقید کئے جانے سے بچنے کے لئے کرے گی۔
فون نمبر۔+919450191754
ای میل۔[email protected]