عصر حاضر کے ڈراما نگاروں میں اشفاق صاحب کا نام اہمیت کا حامل ہے ۔اردو ڈرامے کی کائنات میں انھوں نے بہت جلددا دو تحسین حاصل کی ہے۔حالانکہ انھوں نے سیاسی و سماجی مسائل پر بھی خامہ فرسائی کی ہیںمگران کی شہرت کی باعث ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’’التوا‘‘بنا۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اشفاق صاحب کو ڈرامے سے گہری انسیت اور فطری لگائو ہے۔’’التوا ‘‘اشفاق احمد کے ڈراموں کا پہلا مجموعہ ہے جس میں چار ڈرامے التوا، کمپرومائز، لاک ڈائون اور جرأت گفتارشامل ہیں۔زیر مطالعہ کتاب کی تقریظ ادب شناس،وسیع القلب، باہمت اور مہربان استاد ڈاکٹر پرویز احمد نے لکھا ہے،جو مصنف کے نگراں بھی ہیں اورپیش لفظ ڈاکٹر غلام مصطفی ضیا صاحب نے رقم کیا ہے۔جن کی کتاب ’’ حامدی کاشمیری کے ناولوں میں ریاست جموں و کشمیر ‘‘حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔التوا کے صفحہ نمبر دس پر انظر صاحب کا ایک خوب صورت مضمون بعنوانِ’’التوا، میری نظر میں ‘‘مصنف اور کتاب کے حوالے سے قارئین کو چند بنیادی باتوں سے روشناس کراتا ہے ۔ اس کے بعد صفحہ ۱۲سے لے کر ۱۷ تک اشفاق صاحب نے کچھ اپنے اور کچھ ڈرامے کے بارے میںسیر حاصل گفتگو کی ہیں۔
زیر بحث کتاب کا پہلا ڈراما’’التوا‘‘ محکمہ مال کی قلعی کھولتا ہے۔جہاںاکثر چنگیزی اوردرندہ صفت لوگ موجود رہتے ہیں ۔ڈرامے کے کرداروں میں دیوراج ، کریمن، بیرا ، رانی ، الیاس(تحصیل دار)، لالہ ـ(تحصیل دار کا نوکر)، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ڈرامے کامرکزی کردار (بیرا)ہے۔اس کی جھونپڑی کے آنگن میں کئی پیڑ ہوتے ہیں ،جن کی شاخیں اس کی جھونپڑی پر لٹک رہی ہوتی ہیں ۔ بیراان پیڑوں کی شاخ تراشی کے لیے کئی سالوں سے تحصیل کے چکر کاٹتا رہتا ہے لیکن وہاں اس کی کسی بھی طرح کی سنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ تاہم ایک رات طوفان بر پا ہوتا ہے جس کی وجہ سے پیڑ کی شاخیںبیرا کی جھونپڑی پر گرتی ہیںاوراس کی زد میں بیرا اور اس کی بیوی (رانی)دب کر اپنی جان سے ہاتھ دو بیٹھتے ہیں ۔ اگلے روز جب ان کے مرنے کی خبر مقامی اخبار میں چھپتی ہے تو تحصیل دار اس خبر کوپڑھتے ہی فوراََ بیرا کے گھر پہنچ کر لالہ سے کہتاہے:
’’الیاس: لالہ، تم زرا بیرا کی فائل لے کر آئو۔
لالہ:کون سی سر، نئی یا پرانی۔
الیاس: دونوں لے آئو۔
لالہ:(فائل لے کر آتا ہے۔)لیجیے،سر
الیاس:دونوں فائلوں پر دستخط کرتا ہے۔‘‘اشفاق احمد آہنگر،التوا( ڈراموں کا مجموعہ)،ایجوکیشنل ہائوس، دہلی،۲۰۲۰،ص:۴۳
ڈراما نویس نے اس ڈرامے میں عدم تحفظ، مجبوری ، بے بسی و مکرو فریب سے پرُ انسانی زندگی کوایک خاص فنی انداز سے دکھانے کی سعی کی ہے۔اس ڈرامے کے چھوٹے چھوٹے مکالمے پر کشش اور سادہ ہیں۔خاص طور پر ڈراما نگار نے ڈرامے میں مزیدتوانائی پیدا کرنے کے لیے خود کلامی اور فلش بیک کی تکنیک کا بھی استعمال کیا ہے۔
مجموعے کا دوسراڈراما’’لاک ڈائون‘‘ہے ۔اس میںکرونا سے پیدا شدہ مسائل،لوگوں کی بے چینی و بے بسی اور پولیس کے تلخ روئے کو پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے میں کل ۹ کردار ہیں ۔رمضان قصائی ، فاطمہ، ادفر، ناظمہ، بشیر ، راہی،پروہت بیوپاری ،تھانے دار اور منشی ہیں۔ڈرامے کا پلاٹ اس طرح ہے کہ رمضان قصائی کا بیٹا بشیراعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں اپنی ریاست سے باہر ہے۔پے در پے لاک ڈائون کی وجہ سے اس کی ساری جمع پونجی ختم ہوجاتی ہے ۔نتیجتاََ وہ گھر واپس آنا چاہتا ہے لیکن تھانے دار اسے گھر جانے کی اجازت دینے کے بجائے غیر مہذبانہ طریقے یوں پیش آتا ہے:
تھانے دار:ابے، آگیا تو قانون سکھانے والا۔۔۔Bastaredچپ چاپ واپس جائو۔
بشیر:سر، وعدہ کرتا ہوں کہ گھر پہنچنے سے پہلے ہی چیک اپ کرائوں گا۔
تھانے دار: اور(لفظوں کو کھینچتے ہوئے) اب اگر میں نہ جانے دوں تو!
بشیر: سر ، اگر۔۔۔ آپ نہ جانے دیں گے تو میں ۔۔۔تو میں۔۔۔
تھانے دار: تو ۔۔۔تو کیا(ٹیبل پر زور سے ہاتھ مار کر)ابے سالے، حرام زادے کیا کرئے گا۔۔۔ہاں بول۔۔۔کیا کرئے گا۔۔۔تو سالا سمجھتا کیا ہے خود کو، چہرے سے آتنگ واد لگتا ہے، بدمعاش کہی کا۔
بشیر: Sir, talk respectfully , you are annoying me.
تھانے دار:(غصے سے لال ہوتا ہے۔درخواست پھاڑ کر اس کے منہ پر مارتا ہے۔)بھونسڈے تو، تو سیدھے منہ بات ہی نہیں سنتا، چٹاک ، چٹاک۔۔۔بھوشم۔۔۔بھوشم۔۔۔(سر پر لاٹھی کا شدید ضرب لگنے کی وجہ سے نکسیر پھوٹتی ہے۔اور فرش پر خون کی بہتی دھار کی طرف دیکھ کر اس کا دم سختی سے گھٹنے لگتا ہے۔ )
مجھے مت ماریے سر!
مجھے معاف کردے!
میری گردن ٹوٹ گئی سر!
اللہ کے لیے چھوڑ دے ۔۔۔میں مرجائوں گا‘‘(ڈراما: لاک ڈائون،ص:۵۶۔۵۷)
اشفاق صاحب نے اس ڈرامے کی پیش کش میں قاری کو موجودہ فرسوہ اور ظالمانہ نظام کے بارے میں سوچنے کے لیے مجبور کیا ہے۔ساتھ ہی ایک ایسے معاشرے پر بھر پور طنز کیا ہے جہاں حددرجہ اخلاقی قدروں کا فقدان ہے۔ کردار نگاری کے اعتبار سے ڈراما اچھا ہے کیوں کہ سبھی کرداروں کی شخصیت واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔اس کے علاوہ ڈرامے میں شروع سے آخر تک تجسس کی کیفیت بھی برقرار رہتی ہے۔
مذکورہ مجموعے کا تیسرا اہم ڈراما’’کمپرومائز‘‘ ہے۔جس میں سلیقہ کی کہانی بیان کی گئی ہے۔سلیقہ ایک غیرت مند ، اخلاق پرور،پر عزم اور باحیا عورت تھی۔لیکن وقت کے تھپیڑوں نے اسے مصالحت کی دہلیز پر لاکر کھڑا کیا۔غربت اور تنگ دستی نے تو پہلے ہی سے اُس کی کمبر توڑ دی تھی اور اب بچوں کی بے سروپا زندگی نے بھی اس کا جینا محال کردیا۔ وہ روکھی سوکھی روٹی کھا کر اپنی عزت تو بچا لیتی مگراپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر وہ ایک ایسے اسکول کے چکر کاٹنے پر مجبورہے جہاں ماسٹر جی کی وحشت بھری نگاہیں اسے مجروح کرتی ہیں۔غیر انسانی مشقت کو برداشت کرتے کرتے آخر تھک ہار کر مجبوراًماسٹر جی کے پائوں سہلانے لگتی ہے۔دوسری طرف ماسٹر جی کی رکھیلیں بلقیس اور شادرابھی اسے کمپرومائز کرنے کے لیے اس طرح سے آمادہ کرتی ہیں:
سلیقہ: بُرے وقت میں گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے ۔۔۔زندگی میں کبھی کبھی ایسے مرحلے بھی آتے ہیں جب انسان ہر لحاظ سے بے بس ہوجاتا ہے ۔اس وقت صرف ایک چیز اسے نجات دلا سکتی ہے اور وہ
سلیقہ: اور وہ کیا ہے؟
بلقیس: اپنی خودی کو کچل کر دوسروں کے پائوں سہلانا۔
سلیقہ: یہ تم کیا بک رہی ہو۔۔۔کہیں تمہاری عقل گھاس چرنے تو نہیں گئی۔جن پائوں کو میں ٹھکرا چکی ہوں تم ان کو سہلانے کی بات کرتی ہو۔۔۔چند پیسوں کی خاطر انسان دوسروں کے تلوے چاٹتا رہے اس سے بڑی تذلیل اس کے لیے کیا ہوسکتی ہے!
بلقیس: یہ تم سوچ رہی ہو ،کیوں کہ تم نے ابھی تک پیسے کا مزہ نہیں چکھاہے۔آج تمہارے پاس ہوتا تو تم دن بھر کوئلہ فیکٹری میں کھدائی نہ کرتی۔۔۔بچوں کی بے سروپا زندگی سے پریشان نہ ہوتی۔۔۔ارے یہی وہ نعمت ہے جو کم ظرف اور جاہل انسان کو معتبر اور زعیم بنا دیتا ہے اورایک معلم کو بھک منگا!
سلیقہ: لیکن مجھے تو اس کے برعکس نظر آتا ہے۔
بلقیس: تمہاری آنکھوں کا قصور ہے جو ہر عمل میں عزت تلاش کرتی ہیں۔(کمپرومائز:۷۸۔۷۹)
اشفاق احمد نے ڈرامہ کمپر و مائز میں یہ دکھایا ہے کہ وہ کون سے اسباب یا عوامل ہوتے ہیں جو انسان کی انا کو فنا کرتی ہے ۔ اس کو وہ کام کرنے پر مجبور کرتاہے جنہیں وہ ہرگزکرنا نہیں چاہتا۔اشفاق صاحب کا یہ ڈراما بہت ہی سنجیدہ ، معنی خیز اور سسپنس سے بھرا ہوا ہے۔اس ڈرامے میں مردوں کے مقابلے میں نوجوان لڑکیوں کی ذہنیت کی عکاسی کی گئی ہیں۔علازہ ازیں ان نام نہاد معماروں اور اشراف کہلانے والوں کی بھی درگت کی گئی جو تعلیم و تدریس کے نام پر جنسی کج روی کو فروغ دے رہے ہیں۔اس ڈرامے کی بنت اور کرداروں کی چلت پھرت قاری کو محسور کر دیتی ہے۔
مجموعے کا آخری ڈراما ’’جرأت گفتار‘‘سیاسی نوعیت کا ہے۔اس ڈرامے میں مصنف نے سیاسی فرما نرائوں کی خفیہ سازشوں کوبے نقاب کیا ہے۔بہر کیف ان کی بیمار ذہنیت اور نفسیاتی حربوں پر شدید ضرب لگا دی۔ڈرامے میں کسی ایک ملک یاخطے کی سیاسی شاطرانہ چالوں کو قلم بند نہیں کیا گیا بلکہ ہر دوٹکے کی سیاست گری کی تصویر کشی کی گئی ہے۔اس ڈرامے کے کرداروں کو دو گرہوں میں منقسم کیا گیا ہے ۔ ایک طرف بادشاہ، وزیر داخلہ، وزیر سماجی بہبود، وزیر قانون، وزیردفاع ہیں تو دوسری جانب صدر متحدہ محاز ، مزدور، کسان، خاتون وغیرہ ۔انھیں دو جماعتوں کے مابین ڈرامے میں شروع سے آخر تک تجسس، تصادم اورکشمکش کی کیفیت جاری رہتی ہے۔ایک جماعت سیاسی دہشت گردی ، ظلم و جبر اور غنڈہ گردی کو فروغ دے رہی ہے تو دوسری عدل و انصاف اور امن و آشتی کی علم بردارہے۔اس حوالے سے ایوان میں بیٹھے ہوئے چند کرداروں کے مکالمے سماعت کیجیے :
وزیر داخلہ:شکستہ دلی بادشاہ کی شان نہیں ہے ۔۔۔حضور! پہاڑ کتنا بھی اونچا ہو اس پر چڑھنے کو راستہ ہوتا ہے۔ہمیں قبل از وقت ان کی تحریک کو جڑ سے ختم کرنا ہوگااور اس کے لیے پروپاگنڈا ضروری ہے۔۔۔کیوں کہ یہی وہ حربہ ہے جو انہیں کمزور کرسکتی ہے۔ان کے صفوں میں ایسے چاپلوس اور شاطر لوگوں کو شامل کرنا ہوگا جو ان کے ایکتا کو تار تار کرنے کے ساتھ ساتھ لوٹ مار اور قتل و غارت گری کو جنم دے سکیں۔ان سے دکانیں لٹوائیں تاکہ ہماری بہادر پولیس کو فائرنگ کرنے کا موقع ملے۔۔۔(اک دم آہستہ آواز میں)دو چار کارکن مر بھی جائے تو کوئی پروا نہیں۔
وزیر دفاع:جناب! میں آپ کے مشورے سے بالکل بھی متفق نہیں ہوں۔۔۔اگر ہم تھوڑی بھی سختی برتیں گے تو ہم ناکام ہو جائیں گے۔۔۔زور کے آگے ظلم نہیں چلتا۔محاز میں اکثریت گرم خون رکھنے والوں نوجوانوں کی ہیں ، جن میں دوشیزائیں بھی شامل ہیںاگر ان کو زدکوب کیا جائے گا تو وہ سیلاب کی طرح ہمیں ڈبو دیں گے۔لہٰذا میری گزارش ہے کہ اس سلگتی آگ کو آہستہ آہستہ ٹھنڈا کیا جائے۔
بادشاہ: پھر آپ ہی بتائے کیا کیا جائے؟
وزیر دفاع:اس تحریک کو کمزور کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہمیں براہ راست ان سے ملنا ہوگا۔ان کی عرضی کو خوش دلی سے قبول کرنا ہوگا۔انقلابی خواتین کو پیار سے سمجھانا ہوگا۔۔۔حکومت کے خزانے سے امدادی سامان دے کر ان کے توجہ کو منتشر کرنا ہوگا۔آخر عورت آرام و آسائش کے سوا چاہتی کیا ہے؟ چھوٹی سی مروت پر سب کچھ بھول جاتی ہے۔۔۔(پانی کے چند گھونٹ پی کر)۔۔۔رہی بات نوجوانوں کی تو ان کو بیلٹ نوکری کی طرف راغب کریں گے ہر اس جگہ پر جہاں اس تحریک کا بڑا زور و شور ہوگا بھرتی کا قیام عمل میں لائیں گے۔بہت کم تنخواہوں پر ان کو ملازم رکھیں گے بلکہ ہوسکے تو بہت جلد ان کو ایسی جگہ پر تعینات کریں گے جہاں سے واپس آنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا پھر دیکھیے۔۔۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔‘‘(ڈراما لاک ڈائون،ص:۹۸)
موضوع کے بجائے ڈراما نگار نے تکنیک اور اسلوب نگارش پر دھیان دیا ہے ۔ہاں البتہ کردار نگاری کے لحاظ سے ڈراما بہت اہم ہے۔بادشاہ اور اس کے حواریں نفسیاتی مریض ہیں۔اشفاق صاحب نے انسانی زندگی کے کھوکھلے پن، لاچارگی و ناامیدی کے پیرائے میں زیست کی بے قدری کو پیش کیا ہے۔
تتمئہ تحریر کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالا ڈراموں میں عصری حسیت، فکری آگہی، فنی پختگی اور شعور موجود ہے۔اس حوالے سے ’’التو‘‘اہم تخلیق ہے۔انھوں نے اسٹیج کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈراموں کو صفحۂ قرطاس پر اتارا ہے۔ان کے ڈراموں کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں فن ڈراما نگاری پر مہارت حاصل ہے۔
ریسرچ سکالر، گنستان سمبل،کشمیر
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔7006559063