راجوری+پونچھ //پہلے ’ان لاک ‘کے دوران سرحدی ضلع راجوری اور پونچھ میں جزوی طورپر تجارتی سرگرمیاں بحال کی گئی ہیں ۔ان لاک کے پہلے دن دونوں اضلاع کی مارکیٹوں میں معمول آمدورفت دیکھی گئی جبکہ کچھ سڑکوں پر مسافر گاڑیاں بھی چلتی دیکھی گئی ۔جموں وکشمیر گورنر انتظامیہ کی ہدایت پر دونوں سرحدی اضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے و لوگوں کی آمد ورفت کے سلسلہ میں ضروری ہدایت جاری کی ہیں ۔راجوری ضلع میں ضلع ترقیاتی کمشنر راجیش کمار شون کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں شراب کی دکانیں ،باربر ،سلون وغیرہ کو پیر ،بدھ اور جمعہ کو کھولنے کی اجازت دی ہے جبکہ دیگر تمام دکانیں 50فیصد کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے تجارتی مراکز بالخصوص قصبوں میں دکانوں کو کھولنے کے سلسلہ میں بھی پلان مرتب کئے ہوئے ہیں ۔انتظامیہ نے بتایا کہ قصبوں و دیگر مارکیٹوں میں دکانوں کے سامنے ایک اور ود نمبر خصوصی طور پر تحریر کر دئیے گئے ہیں تاکہ دکانوں کو اس حساب سے کھولا جاسکے ۔انتظامیہ کی جانب سے دکانداوں کی ویکسین کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کسی بھی دکاندار کو ویکسی نیشن کے بغیر دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔اسی طرح سرحدی ضلع پونچھ میں ضلع ترقیاتی کمشنر اندر جیت نے بھی دکانوں کو کھولنے کے سلسلہ میں ضروری ہدایت جاری کی ہیں ۔ضلع پونچھ میں بھی 32روز بعد’ کورونا کرفیو‘ میں پیر کے روز جزوی نرمی دی گئی۔اس دوران انتظامیہ کی جانب جاری کردہ حکم نامہ کے مطابق کاروباری و تجارتی مراکز کو شرائط کے ساتھ کھولاگیا۔ ضلع۔ ترقیاتی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ روسٹر کے مطابق دوکانداروں کو دو مرحلوں میں دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی جن میں کچھ دکانوں کو صبح سات سے گیاراں بجے تک کی اجازت تھی اور کچھ کو اس کے بعد ۔ صبح سات بجے سے گیاراں بجے تک جن دکانداروں کو دکھانے کھولنے کی اجازت تھی انھوں نے شکایت کی کہ اس وقت میں دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ پونچھ نہیں پہنچ پاتے جس کی وجہ سے ان کا کاروباری نقصان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ انھیں تو دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن جب خریدار ہی نہیں ہوں گے تو وہ بیچیں گے کس کو۔انہوں نے دکانوں کو کھولنے کے اوقات میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ۔اس دوران کچھ تاجروں نے راحت کی سانس لیتے ہوئے کہا کہ لگاتار بندشوں کی وجہ سے ان کا کاروبار تو ٹھپ تھا وہ تو متاثر تھے ہی لیکن جو لوگ ان کے ساتھ ڈیھاڑی پر کام کرتے ہیں ، مزدور ہیں، یا آٹو وغیرہ چلا کر اپنے ضروریات زندگی پورے کرتے ہیں لاک ڈون کی وجہ سے وہ بالکل بیروزگار ہو گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اب جب ان لاک ہوا ہے تو امید ہے کہ سب کی زندگی کی ریل جو رکی ہوئی تو وہ واپس پٹری پہ چلنا شروع ہو جائے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنا کام کاج جاری رکھیں اور انتظامیہ کا وبائی دور میں تعاون کریں تاکہ کوڈ19کو جڑ سے ختم کیاجا سکے۔