سرینگر //چیف سیکریٹری ارون کمار مہتہ نے کورونا وائرس کی روکتھام کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لینے کیلئے منعقد کی گئی میٹنگ میں 45سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری 30جون تک مکمل کی تاریخ طے کردی ہے۔ میٹنگ کے دوران چیف سیکریٹری نے پنچایتی سطح پر قائم ہونے والے کویڈ سینٹروں میں روزانہ 10مریضوں کے ٹیسٹ منعقد کرنے کی بھی حد مقرر کی ۔ بدھ کو منعقد کی گئی میٹنگ میں چیف سیکریٹری نے محکمہ صحت و طبی تعلیم کی وہ 18سال سے 45سال تک کے عمر کے زمرے میں آنے والے لوگوں میں زیادہ خطرے والے گروپوں کی نشاندہی کرکے ترجیحاتی بنیادوں میں منظم ٹیکہ کاری مہم کے ذریعے کورونا مخالف ٹیکہ جلد لگوانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ویکسین کی دوسری کھیت جموں و کشمیر پہنچتے ہی خصوصی مہموں کا انعقاد کرے تاکہ ٹیکہ کاری کا عمل جلد مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے پنچایتوں میں قائم ہونے والے کویڈ کیئر سینٹروں کو مضبوط بنانے کے علاوہ وہاں ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہر پنچایت میں روزانہ 10مریضوں کے کویڈ ٹیسٹ کرنے کی حد مقرر کی جائے تاکہ ر مائیکرو کنٹیمنٹ زونوں میں جلد متاثرین کا پتہ لگایا جاسکے۔ چیف سیکریٹری نے اس بات کو دہرایا کہ جموں و کشمیر سرکار ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی اور محکمہ صحت کو لوگوں میں جانکاری بڑھانے کیلئے اشتہارات اور ریڈو پر بحث و مباحثوں کا انعقاد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایس او پیز پر عمل نہیں کرتے ، ان پر جرمانہ عائد کیا جانا چاہئے۔ میٹنگ کے دوران چیف سیکریٹری نے محکمہ صحت و طبی تعلیم، ڈیوژنل انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کی روکتھا کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی سرہانہ کی گئی۔میتنگ میں فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم، ڈیوژنل کمشنر کشمیر، میشن ڈائریکٹر ہیلتھ میشن(این ایچ ایم) ڈائریکٹر سکمز، پرنسپل جی ایم سی سرینگر اور جموں کے علاوہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر اور جموں بھی موجود تھے۔
عوامی شکایات سننے کیلئے وقت مقرر کریں
انتظامی سیکریٹریوں کو حکومت کی ہدایات
سرینگر/بلال فرقانی/جموں وکشمیر حکومت نے بدھ کو تمام انتظامی سیکریٹریوں کو شکایات سننے کے لئے عام لوگوں سے ملاقات کے لئے وقت طے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عمومی انتظامی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری منوج کمار دیویدی کی جانب سے جاری ایک سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ کوویڈ کی وجہ سے حکومت کا عوامی تحمل متاثر ہوا ہے۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے’’یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ موجودہ کورونا وبائی مرض کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں سرکاری و عوامی رابطہ متاثر ہوا ہے۔ ’’محدود نقل و حرکت کی وجہ سے ، عام لوگوں کو مختلف محکموں میں شکایات یا مسائل کا سامنا ہے ، ان کے ازالے کے لئے وہ سول سیکریٹریٹ نہیںجاسکے۔ ان مسائل وشکایات کے ازالے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام انتظامی سکریٹری 2بجکر30منٹ سے3بجکر30منٹ پرروزانہ (دورے کے دنوں کے بغیر) عوامی شکایات کے لئے دستیاب ہوں گے۔ ذاتی طور پر یا مطلع شدہ ٹیلیفون نمبروں پر یا ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت پر عوامی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔‘‘ سرکیولر کے مطابق تمام انتظامی سیکریٹریوں پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ عوامی شکایات سننے کے لئے عام لوگوں ،وفود، نمائندوںسے ملاقات کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ٹائم سلاٹ ترجیحی بنیادوں پرطے کریں۔سرکیولرمیں مزید کہا گیا ’’عام لوگوں کی معلومات کے لئے نظام الاوقات ،ٹیلیفون نمبرات،ویب لنکس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے۔‘‘
ایس او پیزکی خلاف ورزی ناقابل برداشت: چیف سیکریٹری
بلال فرقانی
سرینگر // جموں وکشمیر کے نئے چیف سیکریٹری ارون کمار مہتہ نے اپنے پہلے بیان میں ایس ائو پیزکی خلاف ورزی کوناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈائون پابندیوںمیں جزوی نرمی کامقصد عوام کوراحت پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ائو پیز پرعمل درآمد سے ہی کورونا کوپھیلنے سے روکا جاسکتا ہے ۔ چیف سیکریٹری نے کہاکہ کورونا کاخطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ،اسلئے کسی کو بھی لوگوں کی زندگیوں کیساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوںنے کہاکہ کورونا کے سائے میں لاک ڈائون بندشوں میں جزوی نرمی لائی گئی ہے ،لیکن اسبات کویقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سبھی لوگ ایس ائوپیز پرسختی کیساتھ عمل کریں اورخلاف ورزیوں سے گریز کریں۔ چیف سیکریٹری نے واضح کیاکہ کورونا مخالف ایس ائوپیز کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے زیرئو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائیگی اورجو کوئی بھی لازمی احتیاطی تدابیر اورایس ائوپیز کی خلاف ورزی کامرتکب ہوگا،اُس کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔ محکمہ صحت اور میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں چیف سیکریٹری ارون کمار مہتہ کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ کسی بھی شخص کودوسرے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔خیال رہے حکومت نے 30مئی بروزاتوا جموں وکشمیر کے 15اضلاع میں لاک ڈائون میں جزوی نرمی کافیصلہ لیتے ہوئے بازاروں میں باری باری نصف دکانات کھولنے اورنجی مسافر گاڑیوں میں گنجائش سے پچاس فیصد سواریوں کوبھرنے کی اجازت دی ۔تاہم ایک روز نصف دکانات کھلے رہنے کے بعدسری نگرشہرمیں اگلے روز دکانات کوبند رکھنے کی ہدایت دی گئی اوراس حوالے سے ضلع مجسٹریٹ سری نگرنے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ شہرسری نگر میں بازار ہفتے میں صرف دودن یعنی سوموار اورجمعرات کوہی باری باری کھولنے کی اجازت ہوگی ۔