فلسطین میں شب و روز اسرائیلی جارحیت اپنی مکمل حیوانیت کے ساتھ جاری ہے جس کو روا رکھنے کے لئے اسرائیلی حکام ہمیشہ فعال رہتے ہیں لیکن اس حیوانیت کو دوسرے انسان نمادرندے سیلف ڈیفنس کے نام پر جائز ٹھہرانے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچہ اٹھاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنی مدافعت کرنے کے لئے ہر قسم کا بہیمانہ ظلم روا رکھنے کی اجازت ہے۔اس بیانیہ کا سب سے بڑا علمبردار امریکہ ہے جہاں حکمران بدلتے تو ضرور ہیں لیکن پالیسیز اور اسٹریٹیجیز ایک جیسی رہتی ہیں۔مظلوم کے جسم کولہولہان کرکے ،اس کی بینائی سلب کرکے ،اس کی سماعت متاثر کرکے اور اسے پوری زندگی کے لئے معذور کرکے اس سے سمجھوتہ کروا کے اسے انصاف کی ہر امید سے محروم کر نا امریکہ کی سرشت میں ہے۔اسرائیل کی پشت کے مرض کا حالیہ انکشاف اس وقت ہوا جب امریکہ نے اقوام متحدہ کے سرکاری بیانات میں اسرائیل پر تنقید کو رکوانے کے لئے اپنا اثررسوخ استعمال کیا اور جس پر اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹزنے ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں امریکی اقدامات پر اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے لکھا تھا "میں اخلاص کے ساتھ امریکی انتظامیہ اور خصوصی طور وزیر دفاع لائڈ آسٹن ،جن کے ساتھ میری اسی ہفتے بات ہوئی تھی ،کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بجا طور پر اقوامِ متحدہ کے اس غیر منصفانہ بیان کو روکا جس پر اسرائیل کے غزہ میں اقدامات پر تنقید کی گئی تھی"۔جیسے اسرائیل کا ہر قدم عین صہیونیت کے منصوبے کے مطابق آگے بڑھتاہے جس میں ذرہ بھربھی کسی اختلاف کے واقع ہونے کی گنجائش نہیں رہتی ،اسی طرح امریکہ کی ہر بین لاقوامی پالیسی خصوصا مشرق وسطی کے تئیں صلیبی انتہا پسندی کا ترجمان بن کر عمل میں لائی جاتی ہے۔اسرائیل اور حماس کی حالیہ جنگ کے دوران عالمی برادری کی کمزور کوشش کے نتیجے میں سلامتی کونسل کے اس بیان پر دستخط کرنے سے امریکہ نے انکار کیا جس میں حماس اور اسرائیل پر زور دیا گیا تھا کہ مزید ہلاکتیں روکنے کے لئے اقدامات کریں امریکہ کا ایک ایسا جرم ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مسجد اقصی کو صہیونیت کے خطرے کے ساتھ ساتھ صلیبیت کا بھی خطرہ لاحق ہے۔
یوں تو صہیونیت کا انسانیت دشمن اور مسلمان دشمن منصوبہ صدیوں پہلے تشکیل دیا جا چکا ہے لیکن اس میں ہر سال حالات کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ترمیم بھی کی جاتی ہے ۔ان کے اس منصوبے کے مختلف باب ہیں جن کی عملی تنفیذ کو ممکن العمل بنانے کے لئے رات دن یہودی ماہرین اور تھنک ٹینکس غور کرتے رہتے ہیں۔ یہودی عالمی تسخیر کے منصوبے کو کامیاب کرنے کے لئے مسیح کے ظہور کے لئے حالات موافق ہوجائیں۔حالات کو موافق بنانے کے لئے سب سے پہلے مسجد اقصی کو شہید کرنے کے نازک کام کو انجام دینے کے لئے ہر سال یہ غزہ پر بمباری کرکے عربی غیرت اور عالمی ردعمل کی نبض معلوم کرتے ہیں اوراس نبض میں جب کبھی سست گامی محسوس ہوگی تو صہیونی اسرائیل اپنا کام کر گذرے گا۔
مشرق وسطی کے لئے ان کا ایک خاص منصوبہ ہے جس کے مطابق بہر صورت اس خطہ میں گریٹر اسرائیل کا قیام لازم ہے کیونکہ گریٹر اسرائیل کے قیام کو خوشنما پیشن گوئیوں کے ساتھ جوڑکے ہر یہودی کو بچپن ہی سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مقصد گریٹر اسرائیل کے قیام میں اپنا حصے کا کام سرانجام دینا ہے۔اس کے قیام کے لئے جہاں پوری عرب ریاستوں کو خاک میں ملانے کا خونی منصوبہ موجود ہے وہیں پہلی فرصت میں سب سے بڑی رکاوٹ پوری فلسطین کی ریاست پر مکمل قبضہ شرط اول ہے۔اس شرط کو پورا کرنے کے لئے غزہ اور مغربی کنارے پر حملہ کرکے اس کو ہتھیا لینا ناگزیر ہے جس کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ انہیں تلاش کرنا پڑتا ہے۔ہر سال غزہ پر بمباری کرنے کے لئے یہ مسجد اقصی پرجان بوجھ کے یلغار کرتے ہیں اور یہ ایسا اس لئے کرتے ہیں تاکہ مسلمان اشتعال میں آکر مسجد اقصی کی حفاظت کے لئے مظاہرہ کریں جہاں انہیں آسانی کے ساتھ نہتے مسلمانوں پر گولیاں برسانے کا مفت بہانہ حاصل ہوتا ہے اور اس اقدام کے ہر ممکن عالمی ردعمل سے بچنے کے لئے امریکہ لونڈ ی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی ماحول میں غزہ پر بمباری کرنے کی کھلی چھوٹ بھی مل جاتی ہے جس کا نظارہ حالیہ کشیدگی کے دوران پوری دنیا نے دیکھا۔غزہ میں حماس وغیرہ ایک ایسا مزاحمتی فرنٹ ہے جسے اسرائیل ہر حال میں ختم کرنے کے لئے تمام حدود سے تجاوز کرنے میں کوئی بھی کسر باقی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں لیکن شاید ابھی عالمی عوامی برادری میں انسانیت کادرد ابھی باقی ہے کہ پوری دنیا میں اس حالیہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے ہوئے۔حماس کو ہر حال میں کمزور کرنے کا جہاں اسرائیل خواہش مند ہے اس سے بڑھ کر امریکہ اس معاملے میں پیش پیش ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اپنے مشرق وسطی کے دورے پر کہا " ہم اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ کام کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لئے آنے والی امداد سے حماس کو کوئی فائدہ نہ ہو "۔حماس کو معاشی طور کمزور کرکے مستقبل قریب اسر ئیل اپنے صلیبی حواریوں کی مدد سے غزہ پر جنگ کر کے قبضہ کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے ،بس ضرورت ابھی اس بات کی ہے کہ مکمل طور پر یوروپی قوتوں کو اپنی حمایت کے لئے مطمئن کرنے میں مطلوبہ کامیابی حاصل کرے۔جہاں تک مغربی کنارے کا تعلق ہے وہاں پر اسرائیل کا زبردست اثرورسوخ ہے وہاں انہیں کسی خاص جنگ کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ تو بس ایک ہی اشارے کا منتظر ہے جس کو ہڑپ کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ اسرائیلی حمایت کے حوالے سے تاریخی ریکارڈ رکھتے ہوئے کوئی ثانی نہیں رکھتا ،سابق صدر ٹرمپ اور اس کا داماد کشنر گویا کہ اسرائیل کے محافظ بن کر سامنے آئے ہی تھے لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ حالیہ صدر جو بائڈن بھی اسرائیلی حمایت میں کسی سے کم نہیں نکلا۔بائڈن نے چند دن قبل یہ کہا تھا کہ" اسرائیل کی سلامتی کے معاملے میں میرے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔بالکل کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن میں آپ کو بتائوں گا کہ کیا تبدیلی آئی ہے۔تبدیلی یہ ہے کہ ہمیں دو ریاستی حل کی ضرورت ہے ،یہ مسئلے کا واحد حل ہے''۔ اسرائیل بھی یہ بات جانتا ہے کہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے امریکی مدد شرط اول ہے اس لئے وہ بہر صورت امریکہ کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے اور اس حوالے سے متعدد تھنک ٹینکس انہی امور پر کام کرتے ہیں۔امریکہ میں اسرائیل کی مدد کرنے کے لئے کچھ طبقات مذہبی اور سیاسی اعتبار سے زبردست اہمیت کے حامل ہیں جن کی حمایت اسرائیل کو سیاسی سطح پہ کافی فائدہ دیتی ہے۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق اسرائیلی سفیر رون ڈرمر نے اسرائیلی حکومت کو امریکی ایوینجئلیکل عیسائیوں کی امداد زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے ان کی فلسطین میں یہودیوں کے تسلط کے حوالے سے امریکی یہودیوں کے مقابلے میں زبردست اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا"لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ امریکہ میں فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کی مدد کرنے والے ایوینجئیکل عیسائی ہیں۔اس نے مزید کہا کہ یہودیوں کی ابادی امریکہ میں صرف دو فیصد ہے اور جبکہ مذکورہ عیسائیوں کی آبادی 25 فیصد سے زائد ہے اس لئے امریکی یہودیوں کے مقابلے میں ایوینجئیکل عیسائی زیادہ قابلِ ترجیح ہیں "۔ ان کی اسرائیل نواز پالیسیوں کی وجہ سے انہیں صہیونی عیسائی (Zionist Christians)بھی کہا جاتا ہے۔امریکہ کے ایوینجیئکل عیسائیوں نے سابق صدر ٹرمپ کی حمایت ان کی اسرائیل نواز پالیسیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ کی تھی۔حال ہی میں امریکہ میں سینٹ آینٹونیو کے کارنر اسٹون چرچ میں اسرائیل کی زبردست حمایتی عیسائی تنظیم "کرسچین یونائٹڈ فار اسرائیل " کے سربراہ جان ہیگی نے اپنے مذہبی لیکچر بعنوان " یروشلم کے لئے جنگ" میں کہا کہ یروشلم یہودیوں کے لئے خدا کی طرف سے دی گئی ارضِ موعود ہے اور یہ یہودی خدا کی آنکھوں کے تارے ہیں اور جب یسوع مسیح واپس آئیں گے وہ زمین پر حکومت یروشلم سے کریں گے اور میں اس دن کی تمنا کرتا ہوں"۔ہیگ نے مزید حماس،روس اور ایران پر بھی تنقید کی کہ وہ چین کے ساتھ مل کر امریکہ کو مشرق وسطی سے بے دخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ محاذ امریکہ کے لئے زبردست چیلنج ہے اس لئے امریکہ کو بہر صورت اسرائیل کی بھر پور مدد کرنی چاہئے اور اگر امریکہ اسرائیل کی مدد نہیں کرتا تو خدا بھی امریکہ کی مدد نہیں کرے گا۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ فلسطین یہودیوں کی ارضِ موعود ہے اور یہ اس پہ حکومت یسوح مسیح کی دوبارہ آمد تک کریں گے۔جب مسیح آئیں گے تو پوری دنیا پر عیسائیوں کی حکومت ہوگی اور تمام یہودی عیسائی بنیں گے جو عیسائیت قبول نہیں کرے گا اسے یسوع مسیح جہنم رسید کریں گے۔اسی خوش فہمی کی وجہ سے یہ اسرائیل کے زبردست حامی بنے ہوئے ہیں۔غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کی بھی انہوں نے بڑھ چڑھ کر حمایت کی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ایک چوتھائی آبادی اپنے آپ کو ایوینجئیکل عیسائی متصور کرتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد سے زائد یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل کی جدید ریاست کا وجوداور یہودیوں کا وہاں پر دوبارہ جمع ہونابائبل کی پیشن گوئی کی تکمیل ہے جو یہ ثابت کر رہا ہے کہ یسوح مسیح کی آمد عنقریب ہے ۔
یورپ میں صلیبی انتہاپسندی اور مشرق وسطی میں صہیونی انتہا پسندی نے مسلم دنیا کو جان بوجھ کر اپنا ہدف بنا کے رکھا ہے اور مسلسل نت نئے مسلم مخالف محاذ کھڑے کئے ہیں۔صلیبی انتہاپسندوں کی یہ تمنا ہے کہ یروشلم پر قبضہ ہمارا ہونا چاہئے اس لئے وہ برابر کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسرائیل کی مدد بھی اسے محرکہ کے تحت جاری ہے لیکن ایک خاص اسٹریٹیجی کے تحت تاکہ عالمی برادری امریکہ ،فرانس،جرمنی وغیرہ کو ہدفِ تنقید نہ بنائے۔اس لئے یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ صہیونیت اور صلیبیت کے مکارانہ نرغے میں ہے۔