گول //گول میں سب ضلع ہسپتال کی نئی عمارت کو لے کر کئی روز سے سیاسی نزاع چل رہا تھا اور کئی سیاسی پارٹیوں و دیگر نجی انجمنوں کا الزام تھا کہ گول ہسپتال کیلئے منظور ہوئی عمارت کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے جس پر گول ڈال بنگلہ میں سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے ورکروں نے ایک میٹنگ کی جس پر سخت تشویش کا اظہارکیا گیا، وہیں اس نزاع کو لے کر کئی دنوں تک یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی کافی چھایا رہا،اس دوران نیشنل کانفرنس لیڈر و ڈی ڈی سی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشادہ شان نے جمعہ کو گول ڈاک بنگلہ میں تمام پارٹیوں و سو ل سوسائٹوں کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں کافی تعداد میں لوگوں وپنچایتی ارکین نے حصہ لیا ۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر شمشادہ شان نے کہا کہ گول میں 70 سال قبل ہسپتال کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور جہاں ہسپتال ہے وہ ایک بہترین جگہ ہے جہاں لوگوں کو آنے جانے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال عمارت کے سلسلے میں کچھ لوگ سی ایس آر کی بات کرتے تھے کچھ لوگ کچھ اور بات کرتے تھے جس وجہ سے لوگوں میں بھی کنفیوژن پیدا ہوا تھا اور ریلوے کی طرف سے گول میں سی ایس آر کی عمارت کی بات ایک سال قبل ہوئی تھی لیکن وہ صرف اپنی جگہ سے تین کلو میٹر کے دائرے میں ہی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ڈائریکٹر ہیلتھ سے بات ہوئی تھی کہ گول واحد ایک ایسا ہسپتال ہے جہاں عمارت کی شدید ضرورت ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں حامی بھری تھی اور اس عمارت کیلئے اراضی کی ضرورت تھی اگر ہسپتال کے ساتھ ہی لوگ اراضی وقف کرتے ہیں تو بہتر ہے یہیں اسی مقام پر ہسپتال کی عمارت بنے گی ۔ اس میٹنگ میں زمینداروں نے حامی بھری کہ وہ ہسپتال کی عمارت کیلئے اراضی دیں گے اور ڈاکٹر شمشادہ شان نے اس موقعہ پر کہا کہ ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر مالکان اراضی لکھ کر دیں اور جلد ہسپتال عمارت کیلئے کاغذات بھیج دئے جائیں گے اور اس کا ڈی پی آر بن کر آئے گا پھر جا کے ہسپتال کی عمارت بنے گی ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور زمینی سطح پر اور صحیح معلومات کی بناء پر ہی قدم اٹھانا مناسب ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔