بانہال// سب ڈویژن بانہال کی تحصیل کھڑی میں بدھ کے روز فوج کے ہاتھوں تین افراد کی مبینہ مارپیٹ کے خلاف پولیس نے معاملہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے ۔ اس مارپیٹ میں زخمی ہوئے تینوں افراد پرائمری ہیلتھ سینٹر کھڑی میں زیر علاج ہیں۔ پولیس بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز سرپنچ مہو اپنے ساتھ تین زخمی افراد کو لیکر پولیس پوسٹ کھڑی پہنچا اور بتایا کہ ان افراد کی فوج نے مارپیٹ کی ہے اور ان سے نقدی رقم کے علاوہ موبائل فون بھی چھین لئے گئے ہیں۔پولیس کو دی گئی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں افراد کھڑی کے ترنہ کے اوپری علاقے میں کسی بکروال سے بھیڑ بکری خریدنے گئے تھے کہ ترنہ کے جنگلات میں آٹھ جوانوں پر مشتمل 23 راشٹریہ رائفلز کے فوجی اہلکاروں نے ان کا راستہ روک کر مارپیٹ شروع کی اور ان سے نقدی رقم اور موبائل فون چھین لئے۔ انہوں نے ایک فوجی اہلکار کی شناخت طارق عرف فیاض کے طور کی ہے۔فوج کی طرف سے جن افراد کی مار پیٹ کی گئی ہے ان کی شناخت محمد رفیق ولد غلام محمد بٹ ، بلال احمد ولد غلام رسول اور عبدالرشید ولد احمد چوپان ساکنان مہو تحصیل کھڑی کے طور پر ہوئی ہے۔ شکایت کے بعد بدھ کی شام دیر گئے پولیس سٹیشن بانہال میں فوج کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 128 دفعہ 341/323/382/147 انڈین پینل کوڈ کے تحت درج کیا گیا اور پولیس نے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ایس ایچ او بانہال نعیم الحق نے بدھ کی شام کھڑی کا دورہ کرنے کے بعد کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس واقع میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس نے مزید کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ مارپیٹ میں زخمی افراد کو پرائمری ہیلتھ سینٹر کھڑی میں علاج ومعالجہ کیلئے داخل کیا گیا ہے۔ اس مارپیٹ میں زخمی افراد نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ بھیڑ بکری کا کاروبار پچھلے کئی سالوں سے کر رہے ہیں اور بدھ کے روز بھی وہ ایک بکروال سے بھیڑ بکری خریدنے کیلئے گئے ہوئے تھے کہ راستے میں آٹھ فوجی اہلکاروں نے راستہ روک کر ان کی مارپیٹ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ مارپیٹ کے بعد فوجی اہلکاروں نے وہاں گھاس چر رہے گائے اور بیل جمع کئے اور ہمارا ویڈیو بنانے لگے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فوجی اہلکار بندوق کی نوک پر انہیں یہ کہنے پر مجبور کر رہے تھے کہ وہ ویڈیوز میں بولیں کہ وہ گائیں خرید رہے تھے۔ اس واقع کے خلاف بدھ کی شام کھڑی میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور فوج کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہروں کی قیادت BDC کھڑی سجاد حسین، صدر بیوپار منڈل کھڑی محمد یاسین ، دینی رہنما عطا اللہ مفتاحی ، سرپنچ شبیر احمد اور جمال الدین کررہے تھے۔ اس موقع پر مقررین نے بتایا کہ فوجی اہلکاروں کی طرف سے ایسی کارروائی کرکے یہاں قائم امن و امان پر پانی پھیر یا گیا ہے اور فوجی اہلکار ہر روز ایسے معاملات میں مداخلت کرتے رہتے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بلاجواز مارپیٹ کو کسی بھی صورت میںبرداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اس موقع پر امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور بعد میں یہ احتجاج پرامن طور سے ختم ہوا ۔