۔ 2اہلکار زخمی، ایک عمارت کو جزوی نقصان، NIAکی تین نفری ٹیم کی تحقیقات شروع
جموں// جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں کے ایئر فورس سٹیشن کے ٹیکنیکل ایئریا میں گذشتہ رات پانچ منٹ کے وقفے کے اندر2 زوردار دھماکے ہوئے جن کی وجہ سے ایئر فورس کے دو اہلکار زخمی ہو گئے ، جبکہ ایک عمارت کو نقصان پہنچا۔ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ دھماکے ڈرونز کے استعمال سے کئے گئے ہیں۔ہائی سیکورٹی زون جموں ایئر فورس سٹیشن میں دھماکوں کے بعد اس اور دیگر اہم ترین تنصیبات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی(NIA) کی3 رکنی ٹیم ایئر فورس سٹیشن جموں پہنچ گئی ہے جہاں اس نے تحقیقات شروع کر دی ہے ۔سیکورٹی حکام نے بتایا’’معاملے کی ہر ایک زوایئے سے تحقیقات ہوگی، این آئی اے کے علاوہ دیگر ایجنسیاں بھی تحقیقات میں جٹ گئی ہیں‘‘۔سرکاری طور پر بتایا گیاکہ پہلا دھماکہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب قریب ایک بجکر 45 منٹ پر ایک عمارت کی چھت پر ہوا جبکہ پانچ منٹ سے بھی کم وقفے کے بعد ایک اور دھماکہ کھلے میدان میں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ دھماکوں سے ایک عمارت کو نقصان پہنچا اور ایئر فورس کے دو اہلکار زخمی ہو گئے ۔ زخمی اہلکاروں کی شناخت اروند سنگھ اور ایس کے سنگھ کے طور پر ہوئی ہے ۔بتایا جا رہا ہے کہ دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی ۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایئر فورس سگنل کمپلیکس کے قریب واقع 'ہیلی ڈسبرسل بلڈنگ' کو دو جگہ پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے عمارت کی چھت اور کھڑکیوں کو کو نقصان پہنچا ہے ۔انڈین ایئر فورس نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر کہا: 'جموں ایئر فورس سٹیشن کے ٹیکنیکل ایئریا میں اتوار کی علی الصبح کم شدت والے دو دھماکے ہوئے ۔ ایک دھماکے کی وجہ سے ایک عمارت کی چھت کو معمولی نقصان ہوا جبکہ دوسرا ایک کھلے میدان میں پھٹ گیا'۔ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا: ساز و سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تحقیقات میں سول ایجنسیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے '۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے معاملے پر فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایچ ایس اروڑہ سے بات کی ہے ۔ ایئر مارشل اروڑہ نے از خود جموں کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ۔ عہدے داروں نے بتایا کہ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ ڈرون کہاں سے اْترے تھے اور ان کی پرواز کے راستے کا پتہ لگانے کے لئے تفتیش جاری ہے۔تفتیش کاروں نے ڈرون کہاں سے آیا ہے اس کا تعین کرنے کی کوشش میں سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا ، جس میں ہوائی اڈے کی حدود کی دیواروں پر نصب کیمرے بھی شامل تھے۔ تاہم ، حکام نے بتایا کہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے سڑک پرمرکوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے سرحدی علاقوں میں نصب راڈاروں کے ذریعے ڈرونز کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا ، انہوں نے تجویز کیا کہ ایک مختلف ریڈار سسٹم سے، جو پرندوں کی طرح چھوٹے ڈرون کا پتہ لگاسکتا ہے۔ جموں ہوائی اڈے سے بین الاقوامی سرحد تک فضائی فاصلہ 14 کلومیٹر ہے۔جموں ایئر پورٹ کے ڈائریکٹر پروت رنجن بیوریہ نے بتایا کہ دھماکوں کی وجہ سے فلائٹ آپریشن میں کوئی خلل نہیں پڑا ۔ انہوں نے کہا ، "جموں کے ہوائی اڈے جانے اور جانے والی پروازیں شیڈول کے مطابق چلیں۔"جموں وکشمیر پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا ، "این آئی اے تحقیقات میں شامل ہونے کے بعد پہلے ہی دھماکے کے مقام پر تحقیقات کی نگرانی کر رہی ہے۔"