سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ماحولیاتی شعبے کو مزید بڑھانے کیلئے محکمہ جنگلات کے دائرہ کار میں ایکو ٹوراِزم ، ووڈ پر مبنی صنعتوں ، ٹمبر جنگلاتی مصنوعات جیسی نئی راہیںجموں وکشمیر کی ترقی میں لانے پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنر راج بھون میں یہاں جموںوکشمیر محکمہ جنگلات کے’’ 130 سالہ وقف شدہ خدمات ‘‘ پروگرام کے یوم تاسیس کے موقعہ پر خطا ب کر رہے تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کے کردار کو اِنتہائی اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ کارکنوں سے کہا کہ وہ ترقی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کریں۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ لوگوں کی دہلیز تک گورننس پہنچانا یوٹی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے جن بھاگیہ داری اور قدرتی وسائل کے اِنتظام میں گائوں کی سطح کے اِداروں کو فعال شمولیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جنگلات پر منحصر لوگوں کے روزگار کے تحفظ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر کے آدھے سے زیادہ رقبے کو جنگلات اور درختوں نے احاطہ کیا ہے اورلوگوں کی زندگی جنگلات سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لکڑی ، چارہ اور ٹمبر خدمات کی بروقت فراہمی کی بھی توقع کرتے ہیں۔اُنہوں نے وقتی طور پر جنگل حقوق ایکٹ کومن و عن نافذ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ جنگلاتی راضی کی تجاوزات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے ڈل جھیل میں چار چنار کی ترقی اور تحفظ کے لئے محکمہ کو اِس سلسلے میں تکنیکی مہارت حاصل کرنے کی ہدایت دی ۔اُنہوں نے فارسٹ افسران سے داچھی گام کو مزید قابل رسائی مقامی منزل بنانے کے اِمکانات کر تلاش کرنے پر زور دیتے کہا کہ وہ آن لائن طریقہ کے ذریعے اِس علاقے کو سیاحتی مقاصد کے لئے کھولیں۔اُنہوں نے کہا کہ ایک قوم کی طاقت بنیادی طور پر اس کے قدرتی وسائل پر ہے ۔ ہندوستان دُنیا کے بارہ میگا متنوع ممالک میں شامل ہے ۔جموںوکشمیر اَپنی جغرافیائی اور بلندی پر مبنی تغیرات کی وجہ سے پودوں میں بہت زیادہ تنوع کا حامل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِس میں ملک میں جڑی بوٹیوں کی سب سے زیادہ تنوع ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ جموںوکشمیر کے پاس 42اَقسام کے جنگلات ہیں جو یوٹی کی جنگلی ماحولیاتی نظام کی تنوع کی علامت ہے اور وہ 144.16 مکعب میٹر فی یونٹ رقبے پر لکڑی کے حجم کے لحاظ سے سر فہرست ہے ۔ گزشتہ برس کے دوران جنگلات کے احاطہ میں 20 فیصد اِضافہ ہوا ہے ۔رِپورٹ کے مطابق 2019ء میں جموںوکشمیر میں جنگلات کا کل رقبہ 10.46 فیصد تھا جو 2020 میں بڑھ کر 39.66 فیصد ہو گیا ہے۔اُنہوں نے حکومت کی 2019 ء کے لئے ایک رِپورٹ نوٹ کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر جنگل کے احاطہ میں348 مربع کلومیٹر کے اضافے کے ساتھ پہلی پانچ ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جس نے جنگل کے احاطہ میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف اِکنامکس اینڈ سٹیٹسٹکس کے ذریعے لکڑی ، چارہ ، اور نان ٹمبر جنگلاتی مصنوعات جیسے فوائد کی مالیاتی قیمت تقریباً 3000 کروڑ روپے ہے جو جموںوکشمیر کی جی ڈی پی کے 2فیصد کے قریب ہے ۔