سرینگر // گپکار الائنس نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی سے 24 جون کی ملاقات کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "محاصرے اور دبائو کے ماحول" کے خاتمے کیلئے اعتماد سازی کے ٹھوس اقدامات کی عدم موجودگی سے اگست 2019 کے بعد جموں وکشمیر کے عوام "گھٹن" کا شکار ہوگئے ہیں۔ گپکارعوامی اتحاد نے مرکزی حکومت کو جموں وکشمیر میں ریاست کی حیثیت بحال کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں کیے گئے اپنے وعدے کا احترام کرنے کی یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا ہونے کے بعد ہی اسمبلی انتخابات ہونے چاہیں۔گپکار الائنس6 مرکزی دھارے میں شامل جماعتوں نیشنل کانفرنس ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، سی پی ایم ، سی پی آئی ، عوامی نیشنل کانفرنس اور جموں و کشمیر عوامی تحریک کا اتحاد ہے۔اتحادکے ترجمان اور سی پی ایم رہنما محمد یوسف تاریگامی نے ایک بیان میں کہا کہ ریاست کی بحالی کے مقصد کیلئے الائنس نے جموں و کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں تک پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے۔الائنس نے یہ بیان اتوار کی رات دیر گئے چیئرپرسن اور نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی رہائش گاہ پر ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کے بعد جاری کیا ہے۔الائنس کا اجلاس ، جو دہلی میں منعقدہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ کل جماعتی اجلاس پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے بلایا گیا تھا ، وادی کشمیر کے حد بندی کمیشن کے دورے سے ایک دن پہلے بلایا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سشیل چندر اور جموں کشمیر کے چیف انتخابی افسر کے ساتھ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رنجنا ڈیسائی کی سربراہی میں کمیشن منگل سے کشمیر اور جموں میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرے گا۔الائنس کے ترجمان کے مطابق" تمام ممبران نے دہلی میٹنگ کے نتائج پر اعتماد سازی کے کسی خاص اقدام کی عدم موجودگی پر مایوسی کا اظہار کیا جیسے جیلوں سے سیاسی اور دوسرے قیدیوں کو رہا کرنا اور محاصرے اور دبائو کے اُس ماحول کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا شامل ہے،جس نے2019کے بعد عوام کو گھٹن میں مبتلا کردیا ہے‘‘۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں تک پہنچنے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات جیسے انتہائی ضروری عمل کا آغاز ہوتا ، جو سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر اور موجودہ صورتحال کے شکار ہیں۔ترجمان نے کہا ہے’مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اس کو دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم ہونے پر ، الائنس نے اسکے حد اختیار میں تمام قانونی، آئینی و سیاسی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ، "ریاست کے عوام پر ٹھونسے گئے غیر قانونی اور ناقابل عمل فیصلے‘‘ کو واپس لینے تک مل کر لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوںنے کہا ، "ان تبدیلیوں کو کالعدم بنانے کے لئے پی اے جی ڈی کی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک کہ اس مقصد کو جلد سے جلد حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کی جائے۔جہاں تک ریاست کی بحالی کا تعلق ہے ، پی اے جی ڈی نے کہا ، پارلیمنٹ کے فلور پر یہ بی جے پی کا عہد رہا ہے اور اسے اپنے الفاظ کا احترام کرنا چاہئے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "لہٰذا ، اسمبلی انتخابات مکمل ریاست کی بحالی کے بعد ہی ہونے چاہئیں۔" اجلاس میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ، محمد یوسف تاریگامی ، این سی رہنما حسنین مسعودی ، عوامی تحریک کے سربراہ جاوید مصطفی میر اور عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر احمد شاہ نے شرکت کی۔
حدبندی کمیشن اجلاس میں شرکت کیلئے الائنس کی جماعتیں فیصلہ لینے کیلئے آزاد
بلال فرقانی
سرینگر// گپکار الائنس نے کہا کہ حد بندی کمیشن کی کارروائی میں حصہ لینے سے متعلق کوئی مشترکہ فیصلہ نہیں لیا گیا ہے اور اتحاد کی انفرادی جماعتوں پر یہ فیصلہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ ملاقات کرے یا نہیں۔ترجمان محمد یوسف تاریگامی نے کہا "جہاں تک پی اے جی ڈی کا تعلق ہے ، ہمارا موقف ہے کہ یہ خود مختار ادارے ہیں اور متعلقہ سیاسی جماعتیں اسکے بارے میں خود فیصلہ لینے کی مجاز ہیں،جو ان کے لئے موزوںہو ، وہ اسی کے مطابق اقدامات کریں گی۔" حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر کی تمام قومی ، علاقائی اور رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو منگل سے مرکزی خطے کے دورے کے دوران الگ الگ اجلاسوں کے لئے مدعو کیا ہے۔جسٹس (ر) رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں یہ کمیشن 6-9 جولائی تک جموں و کشمیر کا چار روزہ دورہ کرے گا اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عہدیداروں سے بات چیت کرے گا تاکہ وہ اس عمل کے بارے میں سیاسی جماعتوں سے پہلا رد عمل اور رائے حاصل کر سکے۔