بغداد// جنوبی عراق کے شہر ناصریہ کے ہسپتال میں پیر کی شب کورونا سے متاثر مریضوں کے ایک آئسولیشن سینٹر میں آگ لگنے سے کم از کم 64 افراد ہلاک اور 67 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کا یہ واقع ناصریہ کے الحسین ہسپتال میں پیش آیا ہے۔سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی وڈیوز میں ہسپتال سے گہرے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مقامی شہری دفاع کے حکام نے آگ پر قابو پا لیا۔عراقی وزیراعظم مصطفی القدیمی نے ناصریہ شہر کے محکمہ صحت اور سول ڈیفنس کے منیجرز کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ، واقعہ کی مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔کورونا وارڈ میں آگ لگنے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے عمارت کے باہر احتجاج کیا اور پولیس کی دو گاڑیوں کو آگ لگادی۔طبی عہدیداروں نے بتایا کہ ہسپتال کے کورونا وارڈ میں 70 بیڈز کی گنجائش موجود ہے اور ہسپتال تین ماہ قبل تعمیر کیا گیا تھا۔صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت کورونا وارڈ میں کم سے کم 63 افراد موجود تھے۔ ہسپتال کے ایک گارڈ نے بتایا کہ انہوں نے کورونا وارڈ کے اندر ایک بڑا دھماکہ سنا اور پھر آگ بہت تیزی سے بھڑک اٹھی۔عراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ آگ عراقی جانوں کی حفاظت کرنے میں ناکامی کا واضح ثبوت ہے اور اب اس تباہ کن غفلت پر قابو پانے کا وقت آگیا۔ عراقی وزیر اعظم نے آتشزدگی کی اعلی سطح پر تحقیقات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزرا اور سیکیورٹی حکام کو فوری طور پر ناصریہ روانہ کیا ہے۔وزیر اعظم نے وزارتوں کو فوری ایمرجنسی طبی امداد بھیجنے اور شدید زخمیوں کو علاج کے لیے عراق سے باہر بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے۔علاوہ ازیں عراقی حکومت کی جانب سے یوم سوگ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔