سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو سماجی وسیاسی طور بااختیار بنانے کے لئے جلد اسمبلی انتخابات کا انعقاد ناگزیر بن چکا ہے۔ پارٹی دفتر لالچوک سرینگر میں منعقدہ تقریب کے دوران الطاف بخاری نے کہاکہ عارضی بیوروکریٹک انتظام کبھی بھی منتخب حکومت کا متبادل نہیں ہوسکتا اور ملک کے سبھی شہریوں کو اپنے نمائندے چننے کا حق حاصل ہے جوزمینی حقائق بہتر جانتے ہوں۔انہوں نے کہا’’انتخابات لوگوں کو اپنے نمائندے چننے کیلئے با اختیار بنائیں گے تاکہ وہ اپنی تقدیر کے خود مالک ہوں، عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں بیروکریسی نے صرف لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے جوکہ خود کو زندگی کے ہرشعبہ جات میں مکمل طوربے اختیار سمجھتے ہیں‘‘۔بخاری نے اِ ن وجوہات کی بنا پر جموں وکشمیر میں تعطل کا شکار تعمیر وترقی پر افسوس کا اظہار کیا اور اُمید ظاہر کی کہ حد بندی مشق کی جلد تکمیل سے اسمبلی انتخابات میں آسانی پیدا ہوگی ۔ الطاف بخاری نے مزید کہا’’ جمہوری نظام میں نمائندہ حکومت لوگوں کی نبض سمجھتی ہے اور اُس کے مطابق منصوبے اور اقدامات کرتی ہے اور یہ جذبہ جموں وکشمیر کے موجودہ بیروکریٹک نظام میں مکمل طور غائب ہے‘‘۔ اس موقعہ پر ضلع کولگام سے طاہر ریاض ریشی اور محمد اشرف نائیک کی قیادت میں متعدد پنچایتی ممبران اور سیاسی کارکنان نے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے بھی اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اپنی پارٹی نے اُن ترقیاتی امور پر توجہ مرکوز کی ہے جو راست جموں وکشمیر کے لوگوں کی زندگی سے جڑے ہیں اور ہم لگاتار انتخابی مفاد کے لئے لوگوں کے غلط استعمال اور جھوٹے بیانی کی حوصلہ شکنی کرتے رہیں گے۔ انہوںنے کہا’’روز ِ اول سے ہی اپنی پارٹی نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو درپیش سیاسی سماجی اور اقتصادی امور پر ہر فورم پر اُجاگر کیا، لوگوں کو چاہئے کہ وہ سبھی سیاسی جماعتوں کااُن کے ایجنڈے اور زمینی سطح پر کئے گئے کاموں کی بنیاد پر تنقیدی جائزہ لیں‘‘۔ تقریب میں اپنی پارٹی صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر، میڈیا ایڈوائزر فاروق اندرابی اور صوبائی سیکریٹری عبدلرشید ہارون بھی موجود تھے۔