راجوری //گزشتہ 40برسوں سے ہماچل پردیشن کے لہائول سپتی علاقہ کا ایک شہری راجوری ضلع میں قدرتی جڑی بوٹیوںکا کاروباری کرنے کی وجہ سے ایک منفرد شناخت کا حامل ہے۔نوانگ چرینگ نامی 72سالہ شہری نے بتایا کہ جب اس نے راجوری میں اپنا کاروبار شروع کیا تب ضلع ک ے ہیڈ کوارٹر میں زیادہ مٹی کے کچے مکانات ہوا کرتے تھے ۔راجوری میں مذکورہ شخص کو ’تاشی ‘کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ بدھ مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ لوگوں میں کافی مقبول ہے ۔کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے ’تاشی ‘نے بتایا کہ وہ ہماچل کی سپتی وادی کا رہائشی ہے لیکن اب وہ قلومیں رہائش پذیر ہو گیا ہے ۔اس نے بتایا کہ وہ ایک قدرتی جڑی بوٹیوں کا کاروبار کرتا ہے جبکہ گزشتہ 5دہائیوں سے وہ اس کاروبار سے منسلک ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وہ مذکورہ تجارت کیلئے معیار ی مارکیٹ کی تلاشی میں وہ جموں وکشمیر کے ضلع سانبہ میں سب سے پہلے آئے جس کے بعد انہوںنے راجوری ضلع کا رخ کیا اور گزشتہ چار دہائیوں سے مذکورہ مارکیٹ ان کی تجارت کیلئے ساز گار ثابت ہوئی ہے ۔نوانگ نے بتایا کہ راجوری میں قدرتی جڑی بوٹیوں کی مانگ دیگر علاقوں کی مناسبت کا فی زیادہ ہے جبکہ وہ قدرتی جڑی بوٹیوں کیساتھ ساتھ زعفران بھی فروخت کرتا ہے ۔اس نے بتایا کہ کشتواڑ کی پہاڑیوں اور ہماچل سے زعفران ،ہینگ ،کالا زیرہ ودیگر جڑی بوٹیاں لاکر فروخت کرتا ہے ۔اس نے بتایا کہ وہ کسانوں سے براے راست مذکورہ جڑی بوٹیاں لا کر مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے اور مارکیٹ سے دو سو میں ملنے والا زعفران و محض سو روپے میں فروخت کرتا ہے ۔اس نے بتایا کہ وہ گرمیوں میں تین سے چار ماہ کا عرصہ میں راجوری میں گزار کر مذکورہ کاروبار کرتا ہے ۔راجوری قصبہ کیلئے بولتے ہوئے اس نے بتایا کہ 40برس قبل سے اس وقت تک شہر میں کئی نوعیت کی تبدیلیاں آچکی ہیں تاہم لوگوں کی محبت کی وجہ سے وہ ایک لمبے عرصہ سے مذکورہ قصبہ میں کاروبار کررہا ہے ۔