سرینگر//سابق وزیر اور اپنی پارٹی صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے گذارش کی ہے کہ محکمہ موسمیات کی طرف سے جموں اور وادی کے پہاڑی علاقوں میں سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودے گرآنے کی پیش گوئی کے مدِ نظر ہرممکن پیشگی اقدامات اُٹھائے جائیں۔ یہاں جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ ناسازگار موسم کی پیش گوئی سے جموں وکشمیر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور اِس سے پوری چوکسی اور تندہی سے نپٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد خاص طور سے دریاؤں کے کنارے اور بالائی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ پسیاں گر آنے، سیلابی ریلے اور چٹانیں گرنے کا حدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔ کشمیر میں متعلقہ ضلع انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں کو متعلقہ علاقوں میں روانہ کرنے اور بروقت قیمتی جانوں کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ لوگ عید الاضحی کے پیش نظر خریداری میں مصروف ہیں لیکن انتظامیہ کو چاہئے کہ شہروں میں موسلا دھار بارشوں سے پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام کو روکنے کے لئے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہاکہ عید کے روز سڑکوں پر ہمیشہ نجی وسرکاری گاڑیوں کی وجہ سے جام لگ جاتا ہے ، بھاری بارش کی صورت میں ٹریفک محکمہ کو زیادہ مستعد رہنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نچلے علاقوں سے پانی کی نکاسی کا بھی معقول انتظام کرے۔ محمد اشرف میر نے حکومت ِ جموں وکشمیر سے ولر اور دریا جہلم سمیت مختلف آبی ذرائع کی ڈریجنگ اور صفائی ستھرائی ڈی سلٹنگ کی صورتحال کا جائزہ لینے کی گذارش کی ہے کیونکہ ڈی سلٹنگ نہ ہونے سے کشمیر میں سیلاب کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ جن کمپنیوں کو کروڑوں روپے کے ڈریجنگ کا ٹھیکہ دیاگیاہے، اُن سے کام کی صورتحال متعلق سوال کیاجانا چاہئے جنہیں مقررہ مدت کے اندر اِس کو مکمل کرنا تھا۔ اس اہم مسئلے پر نرمی اپنانا خاص طور پر اُن کمپنیوں کے تئیں جو مقرر ہ مدت کے اندر کام کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں ،کی قیمت ایک اور سیلابی صورتحال کی صورت میں چکانی پڑے گی جس سے جموں وکشمیر کی معیشت تباہ وبرباد ہوسکتی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری پیش گوئی کو سنجیدگی سے لیکر ہرممکن اقدامات اُٹھائیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب برتیں۔