سرینگر// افسر شاہی جمہوریت کیلئے سم قاتل ہے اورجموں کشمیرکاپورا نظام اس وقت درہم برہم ہے۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے اپنی رہائش گاہ پر کئی وفود سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ایک بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام گذشتہ کئی برسوں خصوصاٍ 5اگست2019سے برابر زیر عتاب ہیں اور ظلم و ستم کی چکی میں پسے جارہے ہیں۔ لوگوں کی اقتصادی اور معاشی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ اور ناقابل بیان ہے اور حکومتی سطح پر آئے روز ایسے غیر سنجیدہ اور غیر دانشمنداہ عوام مخالف فرمان جاری کئے جارہے ہیں، جو آئینی اور جمہوری قدروں کے عین منافی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مخصوص نظریہ رکھنے والے افراد کی ایماء پر حکمرانی ہورہی ہے اور انہی کی منشاء کے مطابق فیصلے لئے جاتے ہیں اور احکامات صادر کئے جاتے ہیں۔ یہاں کے آئینی اور جمہوری اداروں کو تہس نہس کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ عوام مخالف فیصلوں سے جموں و کشمیر کے حالات ہر گزرتے دن کیساتھ بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، آئے روز انکائونٹر اور تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں اور آئے روز نت نئے فرمان جاری کرنے اور ذرائع ابلاغ میں شطرمرغ نما اشتہارات اور تشہیر بازی کو انتظامیہ چلانے کا نام دیا جارہا ہے جبکہ زمینی سطح پر لوگوں کو وہ سہولیات بھی میسر نہیں جو ماضی میں خودبخود رہا کرتی تھیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ 5اگست2019کے فیصلوں کی منسوخی تک جموں وکشمیر میں امن کی بحالی ناممکن ہے۔