ملہ پورہ نارواو فلٹریشن پلانٹ ایک سال سے بے کار
فیاض بخاری
بارہمولہ// ضلع بارہمولہ کے ملہ پورہ نارواوعلاقے میں قائم واٹر فلٹریشن پلانٹ پچھلے ایک سال سے ناکارہ پڑا ہے جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر چہ سرکار نے دو سال قبل ایک فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا تھا جس سے پینے کا صاف پانی فراہمی ہوتا تھا تاہم محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی کی وجہ سے کچھ ماہ بعد ہی بند ہوگیا بلکہ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بیکار پڑا ہے ۔منظور احمد راتھر نامی ایک شہری نے بتایاکہ محکمہ جل شکتی کی لاپرواہی سے فلٹریشن پلانٹ میں فضلہ جمع ہوا ہے اوراس میں آس پاس کے علاقے کی گندگی ہے جس نے پلانٹ کو ناکام بنادیا ہے اور اس کا پانی پینے کے قابل نہیں ہوتاتھا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ فلٹریشن پلانٹ میں جنگلی جانور بھی گومتے ہیں کیونکہ فلٹریشن پلانٹ جنگل کے بالکل قریب ہے اور اس کو صاف یا محفوظ رکھنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے مقامی لوگو ں نے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلٹریشن پلانٹ کو فوری طور پر مرمت کرکے دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا ہوسکے ۔اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پلانٹ عام طور پر کام کر رہا ہے اور پانی سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم پلانٹ کو ایک ڈھکن کی ضرورت ہے جس سے پلانٹ میں گندگی جمع نہ ہو۔
عید الاضحی کی آمد آمد
سرینگر میں مارکیٹ چیکنگ ، 37600روپے بطور جرمانہ وصول
سرینگر//عید الاضحی کے پیش نظر بازاروں میں گراں فروشی اور منافع خوری پر قابو پانے کیلئے محکمہ امور صارفین کی انفورسمنٹ ونگ نے سرینگر میںچیکنگ عمل تیز کرتے ہوئے 37600روپے بطور جرمانہ وصول کر لیا جبکہ تین دکانوں کو بھی سربمہر کر دیا گیا ۔ انفورسمنٹ ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مشتاق وانی کی سربراہی میں ایک ٹیم نے سرینگر کے مختلف بازاروں کا معائنہ کیا جس دوران انہوںنے مختلف سرکاری سیل سنیٹروں ، قصابوں ، مرغ فروشوں ، میوہ اور سبزی دکانوں کے علاوہ دیگر کئی ہوٹلوں کا بھی معائنہ کرکے وہاں انہیںہدایت دی کہ قیمتوں کو اعتدال میں رکھا جائے اور گراں فروشی سے باز رہا جائے ۔ اس موقعہ پر چیکنگ کے دوران تین دکانوں کوسربمہر کر دیا گیا جبکہ غیر معیاری اشیائے خورنی رکھنے والے تین افراد کے خلاف کیس درج کر لیا گیا ۔ اس موقعہ پر گلی سڑی سبزیوں اور میوہ جات کو ضائع کر دیا گیا جبکہ خلاف ورزی کے مرتکبین سے 37600روپے بطور جرمانہ وصول کیا گیا ۔ اس موقعہ پر ٹیم نے سرینگر کے عید گاہ اور دیگر علاقوں کا دورہ کرکے وہاں قربانی کیلئے فروخت ہونے والے جانوروں کے ریٹ کے بارے میںجانکاری حاصل کر لی ۔ اس موقعہ پر ٹیم نے دکانداروں کو واضح ہدایت دی کہ وہ عید کے پیش نظر قیمتوں میں از خود اضافہ نہ کریں اور جو بھی اس میںملوث پایا جائے گا ان کے خلاف کارورائی عمل میںلائی جائے گی ۔
اننت ناگ میں مویشی چور سرگرم
تین گائیں اور تین بیل چرالئے
سرینگر//ضلع اننت ناگ میں چوروںنے دوران شب ایک شہری کے گائوخانے سے 3گائیں اور 3بیل چرالئے ۔ گزشتہ شب عبدالرحمان بٹ ساکن کامڈ اننت ناگ کے گائو خانے سے چوروں نے قربانی کے جانوروں کو چرالیا ۔ اس دوران چوروں نے 3گائیں اور تین بیل چرالئے ۔ چوری کی اس واردات پر لوگوں نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع میں اب تک اس طرح کے درجنوںواقعات پیش آئے ہیں تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ لوگوں نے اس سلسلے میں پولیس کے اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
جموں کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کی 198ویں نشست
اردو، انگریزی اور کشمیری زبانوںمیں تین افسانے پیش
سرینگر//فکشن رائٹرس گلڈ کی 198ویں نشست گلڈ کے صدر دفتر واقع آبی گذر لالچوک میں 17جولائی بروز سنیچر منعقد ہوئی۔ نشست کی صدارت نامور ادیب اور سابق صدر شعبہ انگریزی کشمیر یونیورسٹی پروفیسر محمد اسلم وانی نے انجام دی۔کورونا وائرس کے پیش نذر نشست کو کوڈ گائڈ لائنز کے تحت انجام دیا گیا جس میں تین افسانے، اردو، انگریزی اور کشمیری میں پیش کئے گئے۔ منظور احمد کنٹھ نے اردو افسانہ شب کے دو رنگ ، محی الدین رشی نے کشمیری افسانہ ’ہاف پینٹنگ‘اور ڈاکٹر شہزادہ سلیم نے تین منی افسانے پیش کئے جن پر سیر حاصل بحث کی گئی۔اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر محمد اسلم وانی نے فکشن کے اقسام پر روشنی ڈالتے ہوئے فکشن کے اسرار و رموز ،موضوعات اور معاصر افسانے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس طرح کی نشستوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے گلڈ کو ایک ادبی تاریخ سے تعبیر کیا۔نشست میں جن شرکا نے حصہ لیا ان میں ڈاکٹر نذیر مشتاق، شفیع احمد، منظور احمد کنٹھ، جہانگیر احمد بٹ، غلام نبی بٹ، مصعب احمد، سہیل سالم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔آخر پر گلڈ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شہزادہ سلیم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔نظامت کے فرائض سہیل سالم نے انجام دیئے۔
خانقاہ معلی میں عرس کی تقریب
مولانا ہمدانی نے شاہ ہمدان کی اسلامی خدمات پر روشنی ڈالی
سرینگر//امیر کبیر حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کا 656واں عرس مبارک کے سلسلے میں خانقاہ معلی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے عقیدتمندوں نے شرکت کی۔ نمازِ ظہر سے قبل جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے فلسفہ حج اور شاہ ہمدانؒ کی اسلامی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام کے عظیم داعی کی بدولت ہی کشمیر کا چپہ چپہ دین اسلام سے منور ہوا۔تقریب کے دوران فرزندانِ توحید نے خانقاہ معلی میں حاضری دی۔ اس موقع پر عالم اسلام کی سربلندی، فتح و نصرت اور کورونا وائرس سے نجات کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ تقریب پر مفتی اعظم ناصر اسلام، مولانا شوکت حسین کینگ اور جمعیت کے صدر حاجی عبدالرشید گانی بھی موجود تھے۔
حقانی ٹرسٹ کے اہتمام سے آن لائن کانفرنس
سرینگر//حقانی ٹرسٹ کے اہتمام سے ایک آن لائن کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا شوکت حسین کینگ نے کی جبکہ ڈاکٹر رفیق مسعودی، مولانا خورشید احمد قانونگو ،مولانا ریاض الحق نورآبادی ،مقبول فیروزی ،ڈاکٹر پروفیسر محمد امین تابش ،شہباز ہاکباری، سید عابد بخاری سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام جس مردِ جلیل کے سب سے زیادہ احسان مند ہیں وہ امیر کبیر میر حضرت سید علی ہمدانیؒ کی ذات ہے۔ مولانا شوکت حسین کینگ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آپ ایک آفاقی شخصیت تھے اور بہ یک وقت ایک عظیم عالم، برجستہ مبلغ و داعی اور اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے۔کانفرنس کے مہمان خصوصی سابق سکریٹری کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر رفیق مسعودی نے کشمیر کی تہذیب و ثقافت پر حضرت شاہ ہمدانؒ اور انکے رفقا کے اثرات و نقوش کا مفصل خاکہ کھینچا ۔انجمن حمایت الاسلام کے صدرمولانا خورشید احمد قانونگو نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی اسلام کی بقا اور اسکی نشر واشاعت کے لئے وقف رکھی۔
دارالعلوم فیضان مدینہ نوپورہ سوپور کی جانب کانفرنس
فیاض بخاری
بارہمولہ//دارالعلوم فیضان مدینہ نوپورہ سوپور کی جانب سے اتوار کو ایک کانفرنس کا انعقاد عمل میںلایاگیاجس میں وادی کے کئی علما ء نے شرکت کی ۔اس موقع پر تمام علماء نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو ازسرنو قرآنی تعلیمات سے اپنا رشتہ استوار کرنا ہوگا اور اپنی جسمانی اور روحانی تطہیر کا سامان مہیا کرنا ہوگا تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔ کانفرنس میں منشیات کے خاتمہ پر بھی علماء نے زور دیا ۔کانفرنس میں دارالعلوم کے فارغ شدہ طلبا کی دستاربندی بھی کی گئی ۔کانفرنس کے اختتام پرادارے کے مہتمم مولانا عبدالماجد رضا نے تمام حاضرین مجلس اور مقتدر علماء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ہماری گائیں بازیاب کرائیں
ترال کے ایک کنبوں کی انتظامیہ سے اپیل
سرینگر// ترال کے چیوہ الر نامی گائوںسے تعلق رکھنے والے ان تین کنبوں نے ایل جی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر پلوامہ سے ان کی چرائی گئی گائیں بازیاب کرانے میں مدد کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ28اور29جون کی درمیای رات کو ان کی گائیں چرالی گئیں اورتاحال ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ انتہائی غریب ہیں اور یہتین گائیں ہیان کے اہل خانہ کو پالنے کا واحد ذریعہ تھا ۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اظہارِ تعزیت
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرحوم منشی محمد اسحاق کے فرزندحاجی منشی غلام مصطفی ساکن نائو پورہ کلی پورہ کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے ۔انہوںنے سوگوارکنبے سے تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگراور معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے بھی سوگوارن کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ۔
ٹنگمرگ میں گیس سلنڈر لیک ہونے سیفراتفری
مشتاق الحسن
ٹنگمرگ//دیودرگر ٹنگمرگ میں گھریلو گیس سلنڈر لیک ہونے سے اس وقت افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا جب ثنا اللہ ڈار دامادئہ غلام احمد پرے کے کچن میں اچانک گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ نمودار ہوگئی۔ اگرچہ وہاں افرادخانہ نے گیس سلنڈر باہر پھینک کر اس پر ریت وغیرہ ڈال کر آگ بجھانے کی کوشش کی تاہم بعد میں فائر سروس کے عملے نے گیس سلنڈ رمیں لگی آگ پر قابو پاکر آس پاس کے مکانوں کو نقصان سے بچا لیا ۔مقامی لوگوں نے فائر سروس عملے کی بروقت کارروائی کی سراہنا کی ۔
ڈاک کا سینئرایگزیکٹیو ممبر سے اظہار تعزیت
سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے ڈاک کے سینئر ایگزیکٹیو ممبرڈاکٹر ارشد علی کے والد علی محمد ڈار کے انتقال پر تعزیت کااظہار کیاہے۔ علی محمد ڈار نے گزشتہ روز رانگر چاڈورہ میں اپنی رہائش گاہ پر 70برس کی عمر میں آخری سانس لی۔ڈاکٹر نثار نے کہاکہ موصوف شریف النفس تھے اور ہمیشہ ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ ڈاکٹر نثار نے مزید کہاکہ موصوف ایک بہترین استاد تھے۔ انہوںنے غمزدہ لواحقین سے تعزیت کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کی روح کی ابدی تسکین اور جنت نشینی کی دعا کی۔ ڈاک کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سہیل شاہ، نائب صدر ڈاکٹر میر محمد مقبول، ترجمان ڈاکٹر ریاض احمد ڈگہ اور سینئر ایگزیکٹیو ممبر ڈاکٹر جاوید قانونگو نے بھی لواحقین سے تعزیت کی ہے۔
آرینز کالج میں عالمی یوم انصاف منایا گیا
سرینگر//بین الاقوامی انصاف کے عالمی دن کی اہمیت کیلئے اس سال "ڈیجیٹل معیشت میں انصاف کی اپیل" کے عنوان سے آرینز کالج آف لا ء کی جانب سے ایک مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ قانون ، انجینئرنگ ، مینجمنٹ ، نرسنگ ، فارمیسی ، بی ایڈ ، زراعت وغیرہ کے طلباء نے حصہ لیا۔ آریانز گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر انشو کٹاریہ نے تمام طلباء کو پوری طرح سے مقابلوں میں حصہ لینے پر ان کی تعریف کی اور آئندہ کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے لئے انہیںتحریک دی۔اس موقع پر آنچل جریال ، فیکلٹی ، آرینس کالج آف لاء نے جسٹس کی اہمیت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی قوم کا عدالتی نظام ہر شخص کو اپنی جگہ پر رکھتا ہے اور اس عمل میں بدعنوانی کا مقابلہ کرتا ہے۔ جریال نے کہا کہ انصاف کو یقینی بنانا عدالتی نظام کا سب سے بڑا مقصد ہے اور اس کو یقینی بنانے کے لئے ہر اقدام کی ضرورت ہے۔
مغل روڈ پر ٹینکر کوحادثہ
کنڈیکٹر ہلاک ،ڈرائیورزخمی
سری نگر//شوپیاں میں مغل شاہراہ پر تیل کا ٹینکر گہری کھائی میں گرنے سے کنڈیکٹر ہلاک ہوگیا جبکہ ڈرائیور شدید زخمی ہوا جو ڈوڈہ کے رہائشی ہیں۔ کے این ایس کے مطابق اتوار کی دوپہر ٹینکر زیر نمبرJK01R-3898ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگیا اور دوبہ جن میں مغل شاہراہ پر گہری کھائی میں لڑھک گیا۔ حادثہ میں کنڈیکٹر نیرج سنگھ ولد گرداری کمار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ ڈرائیور بودھ راج ولد موہن چند شدید طور پر زخمی ہوگیا اور اسے ہسپتال لے جایاگیا۔ دونوں کا تعلق ڈوڈہ ضلع سے ہے۔
شالیمارمیں ’جیو‘ کاٹائورٹھپ
سرینگر//ارشاداحمد//شالیمارمیں نصب جیو مواصلاتی کمپنی کاٹائورمکمل طور ناکارہ ہونے کی وجہ سے شالیمار اور آس پاس کے علاقوں میں کی آبادی اور سیاحوں کو مواصلاتی رابطوں میں مشکلات کاسامنا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق جیومواصلاتی کمپنی نے کئی برس قبل شالیمار میںایک ٹائورنصب کیاتھاجس کے بعد شالیمار اور ملحقہ علاقوں کی آبادی نے ہزاروں روپے صرف کرکے جیوکمپنی کے سم کارڈ اورمہنگے موبائل فون خریدے ،تاہم پچھلے کئی ہفتوں سے یہاں کا مواصلاتی ٹائورناکارہ ہوا ہے جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی کو مواصلاتی سہولیات کے حوالے سے مشکلات کاسامنا ہے۔مقامی آبادی نے جیو کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں جیو کے مواصلاتی ٹائور کو قابل کار بنایا جائے۔
شوکت چودھری جموںوکشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے دوبارہ صدر منتخب
کہا کشمیر کی سیاحت تیزی کے ساتھ واپس آرہی ہے
سرینگر// چونکہ سفری پابندیاں ختم کردی گئیں ، جموں وکشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن (JKHARA) نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ موسم خزاں اور سردیوں کے موسم کے لئے مقامی مارکیٹ کو ملک بھر میں پروموشنل سرگرمیاں تیز کرے۔ایک بیان میں JKHARAکے صدر چودھری ایم شوکت نے کہا کہ کشمیر کی سیاحت بہت تیزی سے واپس آجائے گی کیونکہ اس جگہ کو سیاحت کے مقامات کے علاوہ قدرتی خوبصورتی سے بھی نوازا گیا ہے۔چودھری جو حال ہی میں اس کے عام انتخابات میں جے کے ایچ آر اے کے صدر کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے تھے نے کہا کہ گذشتہ سال پہلی مرتبہ کووڈ کی لہر میں کمی آنے کے بعد سردیوں کے مہینوں میں سیاحت کا ایک زبردست موسم تھا اور اس بار بھی وہ سیاحوں کے اچھی آمد کا امکان کی توقع کر رہے ہیں۔چودھری نے ایل جی انتظامیہ ، سیکرٹری سیاحت اور ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر کو سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز کی بھرپور ویکسینیشن مہم چلانے پر سراہا۔انہوں نے کہاسیاحت کے اسٹیک ہولڈر کی ویکسینیشن سے سیاحوں کو کشمیر آنے کا اعتماد ملے گا جو خود کو محفوظ محسوس کریں گے اور خدمات فراہم کرنے والے افراد کو مہلک وائرس سے بھی بچائیں گے۔چودھری نے کہا کہ جے کیارا ایل جی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کو پروموشنل سرگرمیوں میں اپنا پورا تعاون فراہم کرے گا۔ایسوی ایشن نے ایل جی انتظامیہ سے بھی درخواست کی کہ وہ سفری اور ٹور آپریٹرز کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کریں جو کسی بھی منزل کی سیاحت کے فروغ کے لئے سنگ میل ہے۔ چوہدری نے کہاکہ ٹور آپریٹرز شہروں کا دورہ کرتے ہیں اور جے کے کی سیاحت کی مصنوعات کو فروغ دیتے ہیں۔ انہیں سیاحت کے فروغ میں مالی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ وبائی امراض کی وجہ سے سیاحت سمیت تمام شعبوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مالی مدد سے انہیں دوبارہ پروموشنل مہم چلانے میں مدد ملے گی ۔
گنڈاری نالہ ہرچک پٹن پر پل تعمیر کرنے کا مطالبہ
بارہمولہ //فیاض بخاری// ہُر چک پٹن میں گنڈاری نالہ پرپُل کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایک مقامی شہری سجاد احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر چہ مقامی لوگوں نے گنڈاری نالہ پر اپنے پیسے خرچ کرکے از خود لکڑی کا ایک عارضی پُل تعمیر کیا ہے تاہم وہ لوگوں کیلئے وبال جان بن چکا ہے تاہم آج تک سرکار اس نالے پر ایک چھوٹا سا پُل تعمیر کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس نالے پر پُل نہ ہونے کی وجہ سے آج تک دس افرد موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں ۔ ایک اور شہری مشتاق احمد نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال اس پُل سے ایک بچی گر کر جان بحق ہوگئی تھی جس کے بعد اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر بارہمولہ غلام نبی انتو نے وعدہ کیا تھا کہ علاقے میں ایک پُل تعمیر کیا جائے گا تاہم وہ وعدہ وفا نہیں ہوا ۔ لوگوںکے مطابق ہُر چک علاقہ دو پہاڑیوں کے بیچ میں ایک بڑا گائوں ہے ، اس گائوں تک پہنچنے کیلئے اس نالے کو پار کرنا پڑ تا ہے لیکن دونوں اطراف سے پُل نہ ہونے اور پانی کی سطح میں اضافہ ہوجانے سے یہ علاقہ اکثر ضلع ہیڈکوارٹر سے منقطع رہتا ہے جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فوری طور پر ایک پُل تعمیر کیا جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے ازالہ ہوسکیں۔