شوپیان// چک صدیق خان شوپیان میں فورسزاور جنگجوئوں کے درمیان شبانہ معرکہ آرائی میں سال 2017سے سرگرم لشکرکے اعلیٰ کمانڈر سمیت دومقامی جنگجو جاں بحق ہوئے جن کے قبضے سے دو AK-47ر ائفلیں اور کچھ گولہ بارود برآمد کرنے کا پولیس نے دعویٰ کیا ہے۔صوبائی پولیس سربراہ وجے کمارنے دومقامی جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ لشکر کمانڈر اشفاق ڈار عرف ابواکرم اوراس کا ساتھی ماجد اقبال کئی حملوں اور ہلاکتوں میں ملوث تھے۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ جنگجوئوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملتے ہی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ ،سی آرپی ایف اورفوج کی34آرآرسے وابستہ اہلکاروں نے اتوار کوشام دیرگئے ضلع شوپیان کے چک صدیق خان علاقہ کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لیا۔ذرائع کے مطابق محاصرے کی کارروائی عمل میں لانے کے دوران معلوم ہواکہ یہاں لشکر کاایک اعلیٰ کمانڈر بھی موجودہے ،اسلئے محاصرے کومزیدسخت کردیاگیا تاکہ یہاں پھنسے جنگجوئوںکوفرار ہونے کاکوئی بھی موقعہ یاراستہ نہ ملے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایاکہ جب سیکورٹی دستے ایک مشتبہ جگہ کے نزدیک پہنچے تویہاں موجودجنگجوئوںنے فائرنگ شروع کردی،سیکورٹی فورسز نے بھی فائر کھولا اور کچھ دیر تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔تاہم اس کے بعد جنگجوئوںکوہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی اور ان کے والدین کو بھی بلایا گیا جنہوں نے انہیں ہتھیار ڈالنے کو کہا،جس کونہ مانتے ہوئے محصور جنگجوئوں نے فائرنگ کاسلسلہ جاری رکھا۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ اسکے بعدایس ائوجی ،فورسزاور فوجی اہلکاروں نے جنگجوئوں کے خلاف جوابی کارروائی عمل لائی اوریوں طرفین کے درمیان گولی باری کاسلسلہ شروع ہوگیا۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ رات کی تاریکی میں ہوئی اس جھڑپ کے دوران کچھ دھماکے بھی ہوئے ،جن کی آوازدُوردُورتک سنائی دی ۔پولیس ترجمان نے مزیدبتایاکہ دوران شب کچھ وقت تک کیلئے طرفین کے مابین فائرنگ کاسلسلہ جاری رہنے کے بعدیہاں خاموشی چھاگئی اورکچھ وقت انتظار کے بعدجب سیکورٹی اہلکاروں نے جائے جھڑپ کی تلاشی لی تواُن کویہاں جھڑپ کے دوران مارے گئے دوجنگجوئوںکی نعشیں ملیں اورنعشوں کے نزدیک سے ہی 2اے کے47رائفلیں اوردیگرگولی بارود کوبرآمد کیاگیا۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ مارے گئے دونوں جنگجوئوں کی نعشوں اورضبط شدہ اسلحہ وگولی بارود کویہاں سے نزدیکی کیمپ منتقل کیاگیا تاکہ مہلوک جنگجوئوں کی شناخت عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ دوسرے قانونی لوازمات کوپورا کیا جائے ۔ترجمان نے بتایاکہ چک صدیق خان شوپیان میں مارے گئے جنگجوئوںکی شناخت لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر اشفاق ڈار عرف ابو اکرم ولد عبدالرشید ڈار ساکن ہف شیرمال شوپیاںاورماجداقبال ولدمحمداقبال بٹ ساکنہ ملی باغ نوپورہ امام صاحب شوپیان کے بطور ہوئی ۔کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر آئی جی پی وجے کمار کے حوالے سے لکھا گیاکہ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈراشفاق ڈار عرف ابو اکرم، جو سال 2017 سے سرگرم تھا، کو ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز مبارکبادی کے مستحق ہیں۔قبل ازیں اسی ٹویٹر ہینڈل پر کہا گیا کہ چک صدیق خان میں ایک مسلح تصادم کے دوران دوجنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہاکہ اشفاق ڈار عرف ابو اکرم لشکر طیبہ کاایک اعلیٰ کمانڈرتھا ،جوسال 2017میں جنگجوبننے کے بعدسیکورٹی فورسزاورعام شہریوں پر ہوئے کئی حملوں اوراس دوران ہونے والی کئی ہلاکتوں میں بھی ملوث تھاجبکہ ماجد اقبال رواں برس مئی کے مہینے میں ہی جنگجوئوںکی صفوں میں شامل ہواتھااوروہ بھی کچھ پُرتشددکارروائیوںمیں شامل تھا۔آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے بتایاکہ لشکرکمانڈر اشفاق ڈار عرف ابو اکرم اوراسکا ساتھی ماجداقبال کئی حملوں وہلاکتوں میں ملوث تھے ۔پولیس ترجمان نے کہا کہ اشفاق احمد جو سال2017 سے سر گرم تھا، انتہائی مطلوب جنگجوؤں کی فہرست میں شامل تھا اور وہ سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرنے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے علاوہ نوجوانوں کو جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے پر بھی راغب کر رہا تھا۔بیان کے مطابق اشفاق احمد زینہ پورہ میں سال2018 میں اقلیتی فرقے کی حفاظت پر مامور چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ چھترگام شوپیاں میں دو غیر مقامی ڈرائیوروں کی ہلاکت میں بھی ملوث تھا۔(مشمولات کے این ایس)
لشکر کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنیکا دعویٰ
بڈگام میں سرگرم جنگجو اور 4معاون گرفتار
نیوز ڈیسک
سرینگر/ بڈگام میںپولیس نے لشکر طیبہ کے بالائے زمین کارکنوں کے گروہ کو بے نقاب کرکے سرگرم جنگجو سمیت پانچ افراد کو گرفتارکرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے ایک پستول ، دو گرینیڈ اور دیگر قابل اعتراض مواد بر آمد کر لیا گیا ہے ۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک مخصوص اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے بڈگام پولیس نے فوج کے 53آر آ ر اور43 سی آر پی ایف کے ساتھ مل کر لشکر سے وابستہ ایک مقامی جنگجو کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے ایک چینی پستول ، ایک میگزین ، 8 کارآمد پستول رائونڈ اور دیگر قابل اعتراض مواد بر آ مد کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار کئے گئے جنگجو کی شناخت محمد یونس میر ساکن چون بڈگام کے طورہوئی۔پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار جنگجو کی نشاندہی کے بعد پولیس نے لشکر کے بالائے زمین کارکنوں کے گروپ کو بے نقاب کر دیا اوراُن کے قبضے سے دو ہینڈ گرنیڈ سمیت قابل اعتراض مواد اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔پولیس نے گرفتار شدگان کی شناخت عمران ظہور ، عمر فاروق ، فیضان قیوم اور شاہنواز احمد طور پر کی ہے۔پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتارشدگان بڈگام کے مختلف علاقوں میں سرگرم لشکرجنگجوئو ں کے فعال معاو ن تھے اور انہیںہر قسم کی مدد فراہم کرنے میں ملوث تھے۔اس مناسبت سے تھانہ بڈگام میں ایف آئی آر نمبر 219 کے تحت کیس درج کرکے مزید تفتیش شروع کی گئی ہے۔