کنگن//بیکن کی طرف سے ہری جھنڈی دکھائے جانے کے بعد ہی سرینگر لیہہ شاہراہ پر دوطرفہ ٹریفک کو چلنے کی اجازت دی جائے گی تاہم ٹرانسپورٹرس کاکہنا ہے کہ جولائی کامہینہ بھی ختم ہونے کو آرہا ہے لیکن سرینگرلیہہ شاہراہ پرابھی بھی دوطرفہ ٹریفک کوچلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے وہ سخت مالی خسارے سے دوچار ہیں۔ٹرانسپورٹرس کا کہنا ہے کہ ہرسال شاہراہ کوٹریفک کیلئے کھلا چھوڑ دیئے جانے کے دس بیس روز بعدہی اس پردوطرفہ ٹریفک کو چلنے کی اجازت دی جاتی تھی،لیکن اس سال سرینگرلیہہ شاہراہ کوٹریفک کیلئے کھلاچھوڑ دیئے جانے کو تین ماہ گذر گئے ہیں اورابھی تک شاہراہ پریکطرفہ ٹریفک کو ہی چلنے کی اجازت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے ٹرانسپورٹرس مالی خسارے کا شکار ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ وہ بینک کاقرضہ بھی وقت پر ادانہیں کرسکتے۔اس سلسلے میں کشمیرعظمیٰ نے ٹریفک پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ٹی نمگیال سے رابطہ کیا توانہوں نے کہا کہ جب تک نہ بیکن سرینگر لیہہ شاہراہ پر دوطرفہ ٹریفک کو چلنے کی اجازت دینے کو ہری جھنڈی نہیں دکھاتی ،تب تک اس شاہراہ پر صرف یکطرفہ ٹریفک ہی چلے گا۔انہوں نے مزیدکہا کہ ایس ایس پی ٹریفک(رورل) کودوروزتک زوجیلا کی طرف روانہ کیاجائے گااورسڑک کی صورتحال کاجائزہ لینے کے علاوہ بیکن حکام سے بھی بات کریں گے اور اگر بیکن نے ہری جھنڈی دکھائی تو اس کے بعدسڑک پردوطرفہ ٹریفک کو چلنے کی اجازت دی جائے گی۔