سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 10.11 کروڑ روپے کی لاگت سے7 نئے پاور پروجیکٹوں کو عوام کے نام وقف کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹریکچر کو مزید تقویت دینے سے حکومت کو دیہی علاقوں میں بلا خلل بجلی فراہم کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک سال کے دوران بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے شعبے میں بدلاؤ نے قابل اعتماد ، معیاری اور پائیدار بجلی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پچھلی تین دہائیوں سے یو ٹی کے بجلی کے شعبے میں کوئی ترقی دیکھنے میں نہیں آئی تھی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے پلوامہ ، بانڈی پورہ ، گاندر بل اور بڈگام اضلاع میں ان نئے پروجیکٹوں کو عوام کے نام وقف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ان اضلاع کے 30,400 گھرانوں کو فائدہ ہو گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ پلوامہ میں نئے رسیونگ سٹیشن کی تعمیر سے 3,350 گھرانوں کو قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی ممکن ہو گی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر یو ٹی میں بجلی کی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے پچھلی تین دہائیوں سے شائد ہی کوئی کام کیا گیا ہو ۔ ہمیں بجلی کی پیداوار ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹربیوشن کے شعبوں میں درپیش مسائل کی بہتات ورثے میں ملی ہے لیکن ہم ان مسائل کے حل کیلئے پُر عزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کیلئے 5,000 کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم اس شعبے کے چیلنجوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ بانڈی پورہ اضلاع کے تین رسیونگ سٹیشنوں کو عوام کے نام دقف کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ اضافی 3.7 ایم وی اے صلاحیت کے حامل شادی پورہ بانڈی پورہ میں موجودہ رسیونگ سٹیشن کے اضافے سے 5,000 گھرانوں کو فائدہ ہو گا ۔ اسی طرح اجس میں 2.3 ایم وی اے صلاحیت کے اضافے سے 2,900 گھرانوں اور مارکنڈل کو 7.4 ایم وی اے کی اضافی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ اضلاع کے 5,700 گھرانوں کو فائدہ ہو گا ۔ مجموعی طور پر بانڈی پورہ میں صلاحیت بڑھانے سے 13,600 گھرانوں کو فائدہ ہو گا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں بہت زیادہ نقصان اُٹھا رہی ہے کیونکہ لوگ اپنے بل ادا نہیں کر رہے ہیں جب تک شہری ادائیگی کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے کوئی بھی حکومت قابل اعتماد بجلی فراہم نہیں کر سکتی ۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام سے میری عاجزانہ اپیل ہے کہ وہ بجلی کے بل ادا کریں یہ یو ٹی کے مفاد میں ہے ۔