گول//گو ل میں محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے پنچایتی سطحوں پر جہاں نریگا سکیم کے تحت خزانہ عامرہ سے لاکھوں روپے نکالے ہیں وہیں پنچایتی نمائندوں پر دوستوں ، رشتہ داروں اور احباب کو خوش رکھنے کے لئے بھی خزانہ عامرہ کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھنے کا الزام عائد کیاجارہا ہے ۔ محکمہ دیہی ترقی گول پرالزام ہے کہ اس طرح سے لاکھوں یہاں تک کہ کروڑوں روپے کا خرد برد ہوا ہے اور آج بھی لوگ اُن ندی نالیوں کے لئے محکمہ سے استدعا کرتے ہیں جن کے نام محکمہ نے پہلے ہی لاکھوں روپے نکالے ہیں ۔ گول بلاک میں تمام پنچایتوں کا یہی حال ہے ۔ اگر چہ محکمہ دیہی ترقی سے کئی لوگوں نے آر ٹی آئی کے ذریعے رپورٹ بھی مانگی تھی لیکن محکمہ صحیح رپورٹ دینے سے قاصر ہے جس سے تاثر ملتاہے کہ محکمہ اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے لوگوں کو صحیح رپورٹ پیش نہیں کرتے بلکہ ٹال مٹول کر کے ہر سال میں ایک ایک کام کو دکھاتے ہیں جبکہ رپورٹ دھندگان کی جانب سے پیش کی گئی درخواست کو ردی کی ٹوکری میں رکھا گیا ہے ۔ اس طرح سے اگر آج زمینی سطح پر ندی نالوں کی حالت دیکھی جائے تو کافی خراب حالت ہے ۔ یہاں اگر ہم فرقان آباد جامع مسجد کی بات کریں برسات کی بارشوں کے دوران یہاں پگڈنڈیوں پر چلنا کافی دشوار ہے جو زیر نظر تصویر میں بھی دکھائی دے رہا ہے ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ کس طرح سے نکاسی آب کے لئے کام کرتا ہے۔ اس طرح سے کئی لوگوں نے شکایات کیں کہ جب بھی محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے دھہ مجالس ہوتی ہیں یہاں جو کام رکھے جاتے ہیں وہ آتے نہیں لیکن وہی کام آتے ہیں جو اثر و رسوخ کی بناء پر کئے جاتے ۔کئی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خرد برد نہ صرف ایک دو سال بلکہ پچھلے دس سال سے ہو رہا ہے جہاں ندی نالوں پر لاکھوں روپے کے پل بنانے کے لئے لاکھوں نکالے گئے وہیں پگڈیوں ، پروٹیکشن دیوار وں ، نالیوں پر بھی پچھلے دس سالوں سے محکمہ میں بڑے پیمانے پر خرد برد ہوا ہے اور یہ نہ صرف گول بلاک کے بلکہ سب ڈویژن گول کے گول، داڑ، اور سنگلدان بلاکوں میں بھی اس طرح کی شکایات موصول ہو رئی ہیں ۔ اگر چہ اس سلسلے میں محکمہ کے اعلیٰ حکام سے بھی بات کی تھی جنہوں نے یقین دہانی کرائی تھی لیکن یہ یقین دہانیاں صرف کچھ دنوں تک ہی محدود ہوتی ہیں پھر یہ محکمہ اُسی ڈگر پر چلتا ہے ۔ کئی لوگوں نے اب ٹھان لی ہے کہ وہ ان تینوں بلاکوں کو نہ صرف سی بی آئی کے ذریعے پچھلے دس سالوں سے احتساب کے دائیرے میں لانے جا رہے ہیں بلکہ اس کے لئے عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔