سری نگر//لفٹینٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے سرینگر شہر کے نواحی قصبے میں دستگیر صاحب ، نقشبندی صاحب کے خانقاہوں پر حاضری دی اور ہری پربت قلعے کا دورہ کرکے وہاں محکمہ سیاحت کے زیر انتظام مختلف ترقیاتی اور بحالی کاموں کی رفتار کا معائینہ کیا ۔ کاموں کی رفتار کا جائیزہ لیتے ہوئے مشیر نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تا کہ کاموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جا سکے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دستگیر صاحب ، نقشبند صاحب زیارتوں اور ہری پربت قلعے پر واقع مندر میں عقیدت مندوں کیلئے سہولیات میں اضافہ کیا جانا چاہئیے ۔ پیر دستگیر صاحب کے خانقاہ پر اپنی حاضری کے دوران مشیر نے مختلف کاموں کی پیش رفت کا جائیزہ لیا اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ وضو خانہ کے کام کی رفتار میں تیزی لائیں ۔ مشیر نے یہ بھی کہا کہ زیارت گاہ میں پارکنگ کی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ پارکنگ کی سہولیات پیدا کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں ۔ انہوں نے محکمہ سیاحت سے بھی کہا کہ وہ سیاحت کے نقطہ نظر سے زیارت گاہ کی خوبصورتی کے امکانات تلاش کریں ۔ نقشبند صاحب کے خانقاہ پر کام کی پیش رفت کا جائیزہ لیتے ہوئے مشیر نے سہولیات کو بڑھانے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ خانقاہ کے چاروں طرف اونچی لائیٹس لگائیں اورآس پاس کے ماحول کو بہتر بنانے اور خوبصورت بنانے کے منصوبے پر عمل کریں انہوں نے عقیدت مندوں کو دی جانے والی سہولیات جیسے بجلی ، پانی ، وضو کی سہولیات کے علاوہ دیگر چیزوں کے بارے میں بھی دریافت کیا اور جدید خطوط پر سہولیات میں بہتری لانے کیلئے موقع پر ہدایات جاری کیں ۔مشیر کو بتایا گیا کہ ہری پربت قلعے کی بحالی کی کل لاگت دو مراحل میں 2.37 کروڑ روپے ہے، توقع ہے کہ پہلا مرحلہ آئندہ 15 دن کے اندر مکمل ہو جائے گا اور دوسرا مرحلہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور اس کی تکمیل اکتوبر 2021 کے اختتام تک ہو گی ۔ مشیر نے ڈائریکٹر ٹورازم کو مزید ہدایت دی کہ بادام واری سے قلعے تک روپ وے کی تعمیر کے امکان کو تلاش کریں جو سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بن سکتی ہے ۔